قربانی ایک مستقل معاشی پالیسی

ایک عرصہ پہلے ایک فٹ بال فیکٹری میں وزٹ کا موقع ملا انہوں نے بتایا، ایسا نہیں ہوتا کہ فٹبال فیکٹری میں ایک ہی دن میں تیار ہو جائے بلکہ اس کی ایک لمبی چین ہے..

سب سے پہلے ریگزین کا میٹیریل اور اس کے نیچے استعمال ہونے والا کپڑا چائنا سے امپورٹ کرتے ہیں، پھر اس کی تیاری یہاں پر کرتے ہیں ریگزین کی تیاری ہوجانے کے بعد اس کی کٹائی کا محلہ آتا ہے، کٹائی کے بعد مختلف میکرز کے پاس سلائی کے لیے چلا جاتا ہے، بعض میکرز کے کاریگر گھروں میں مال لے جا کر سلائی کرتے ہیں اُس کے بعد پھر دوبارہ فٹبال فیکٹری میں واپس آتا ہے چیکنگ کے بعد پیکنگ کا مرحلہ شروع ہوتا ہے پھر اس کو ایکسپورٹ کر دیا جاتا ہے….

اس طرح فٹبال بہت سے لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بن جاتا….

بالکل اس طرح قربانی ہے

قربانی کا جانور بھی زمیندار یا اس سے خرید کر کوئی شخص پالتا ہے، پھر کھل، ونڈا، چارہ کی صورت میں کسی اور کو روزگار ملتا ہے..

پھر ان جانوروں کو مختلف شہروں میں پہنچانے والے ٹرانسپورٹرز کو رزق میسر آتا ہے، منڈیوں میں بیوپاری اس سے کماتے ہیں، پھر دوبارہ ٹرانسپورٹر کماتا ہے، پھر دولت مند لوگوں کا جامد سرمایہ باہر نکلتا ہے، قصاب بھی کماتا ہے، مدارس اور بہت سی فلاحی تنظیمات کا نظام بھی قربانی کی کھال سے چلتا ہے اور پھر کسان سے لے کر بہت سے لوگوں تک سرمایہ منتقل ہوتا ہے…

اور مزہ یہ کہ سرمایہ دار اس گوشت کو غرباء، عزیز و اقرباء پر تقسیم کر دیتا ہے…

قربانی کے بدلے غریب کی مدد کا لیکچر دینے والے پریشان نہ ہوا کریں قربانی کی تقسیم ہی ایسی ہے کہ یہ سرمایہ نچلے طبقے تک ہی پہنچتا ہے اور سارا سال گوشت نہ کھانے والا نادار بھی گوشت کھا لیتا ہے…

اگر قربانی میں کوئی حکمت بھی ہماری نظروں کے سامنے نا ہوتی تو پھر بھی ہم اللہ کا حکم جان کر مان کر قربانی ضرور کرتے

کیونکہ اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے.

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ۞

ترجمہ:

پس آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھا کریں اور قربانی دیا کریں..

تحریر :۔ محمد یعقوب نقشبندی