{نظر لگنے کا حکم }

مسئلہ: نظر کی تاثیر حدیث شریف سے ثابت ہے صحیح مُسلم میں ہے کہ اُمّ المؤمنین حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سرکار اعظم ﷺنے ایک لڑکی کو دیکھا جس کے چہرے پر جھائیاں تھیں ۔ آپ ﷺنے فرمایا اس کو نظر لگ گئی ہے اس پر دم کراؤ۔ (تفہیم المسائل)

مسئلہ : ہر چیز کے دو رُخ ہوتے ہیں اِسی طرح جہاں بَد یعنی بُری نظر ہوگی وہاں نیک نظر بھی ہوگی مطلب یہ کہ بزرگوں کی نیک نظر بھی حق ہے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جس شخص پر اپنی کرم کی نظر کردیں تووہ شخص کامیاب وکامران ہوجاتاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی نظر میں تاثیر رکھی ہے۔