كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْــٴَـیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ(۱۷۶)

بَنْ(جنگل) والوں نے رسولوں کو جھٹلایا (ف۱۵۴)

(ف154)

یہ بن مدیَن کے قریب تھا اس میں بہت درخت اور جھاڑیاں تھیں اللہ تعالٰی نے حضرت شعیب علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ اہلِ مدیَن کی طرف مبعو ث کیا تھا اور یہ لوگ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے نہ تھے ۔

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ(۱۷۷)

جب اُن سے شعیب نے فرمایا کیا ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۷۸)

بےشک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۷۹)

تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو

وَ مَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍۚ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۱۸۰)

اور میں اس پر کچھ تم سے اُجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے (ف۱۵۵)

(ف155)

ان تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا یہی عنوان رہا کیونکہ وہ سب حضرات اللہ تعالٰی کے خوف اور اس کی اطاعت اور اخلاص فی العباد ۃ کا حکم دیتے اور تبلیغِ رسالت پر کوئی اجر نہیں لیتے تھے لہذا سب نے یہی فرمایا ۔

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ(۱۸۱)

ناپ پورا کرو اور گھٹانے والوں میں نہ ہو (ف۱۵۶)

(ف156)

لوگوں کے حقوق کم نہ کرو ناپ اور تول میں ۔

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ(۱۸۲)

اور سیدھی ترازو سے تولو

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ(۱۸۳)

اور لوگوں کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو (ف۱۵۷)

(ف157)

رہزنی اور لوٹ مار کر کے اور کھتیاں تباہ کر کے ۔ یہی ان لوگوں کی عادتیں تھیں حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں ان سے منع فرمایا ۔

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ(۱۸۴)

اور اُس سے ڈرو جس نے تم کو پیدا کیا اور اگلی مخلوق کو

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ(۱۸۵)

بولے تم پر جادو ہوا ہے

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ(۱۸۶)

تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی (ف۱۵۸) اور بےشک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں

(ف158)

نُبوّت کا انکار کرنے والے انبیاء کی نسبت بالعموم یہی کہا کرتے تھے جیسا کہ آج کل کے بعضے فاسد العقیدہ کہتے ہیں ۔

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ(۱۸۷)

تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو (ف۱۵۹)

(ف159)

نُبوّت کے دعوے میں ۔

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۱۸۸)

فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک(کرتوت) ہیں (ف۱۶۰)

(ف160)

اور جس عذاب کے تم مستحق ہو وہ جو عذاب چاہے گا تم پر نازِل فرمائے گا ۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِؕ-اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۱۸۹)

تو انہوں نے اُسے جھٹلایا تو اُنہیں شامیانے والے دن کے عذاب نے آلیا بےشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا (ف۱۶۱)

(ف161)

جو کہ اس طرح ہوا کہ انہیں شدید گرمی پہنچی ہوا بند ہوئی اور سات روز گرمی کے عذاب میں گرفتار رہے ، تہ خانوں میں جاتے وہاں اور زیادہ گرمی پاتے اس کے بعد ایک ابر آیا سب اس کے نیچے آ کے جمع ہو گئے اس سے آ گ برسی اور سب جل گئے ۔ (اس واقعہ کا بیان سورۂ اعراف اور سورۂ ہود میں گزر چکا ہے ۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۹۰)

بےشک اس میں ضرور نشانی ہے اور اُن میں بہت مسلمان نہ تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠(۱۹۱)

اور بےشک تمہارار ب ہی عزت والا مہربان ہے