قسمت کی خوبی دیکھئیے ٹوٹی کہاں کمند 💦

تابعین کی سب سے پہلی جماعت وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے، ایمان لائے، مگر ملاقات سے محروم رہے ، اصطلاح میں ان کو ” مخضرم ” کہا جاتا ہے

محدثین کی اصطلاح میں مخضرم اس شخص کو کہتے ہیں

جو جاہلیت اور اسلام دونوں کا زمانہ پائے لیکن رسول اللہ

صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہ ہوئی ہو

مقدمہ ابن الصلاح 273

مخضرمین کی اچھی خاصی تعداد ہے ، امام مسلم رحمہ اللہ

نے اپنی کتاب میں محض 20 افراد کا ذکر فرمایا :

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ” الاصابہ فی تمییز الصحابہ”

کی قِسم ثالث میں ان کا تذکرہ فرمایا

حافظ ابن عجمی رحمہ اللہ نے خاص مخضرمین کے بارے

میں ایک تالیف لکھی ” تذکرہ الطالب المعلم فیمن یقال انہ

مخضرم ” تقریباً 155 افراد کا تذکرہ فرمایا جن میں سے

چند یہ ہیں :

ابو ذویب ہذلی : یہ دورِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میں

فوت ہوئے، آہ یہ جب مدینہ پہنچے جب رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم وصال فرماچکے تھے، بعد وصال زیارت

فرمائی :

سوید بن غفلہ : یہ اس وقت مدینہ پہنچے جب صحابہ کرام

، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دفن کرکے اپنے ہاتھ جھاڑ

رہے تھے، المتوفی 80ھ

زید بن وہب جہنی : ہجرت کرکے مدینہ آرہے تھے، راستے ہی

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ ظاہری کی

خبر ملی ، المتوفی 84 ھ

قیس بن ابی حازم : المتوفی 97ھ

ابو مسلم خولانی : یزید بن معاویہ کے زمانہ تک زندہ رہے

المتوفی 62ھ

ابو عبد اللہ صنابحی : عبدالملک کے دور میں وفات ہوئی

معرفة علوم الحدیث / فتح المغیث

اس کے علاوہ مشہور عاشقِ رسول اللہ علیہ وسلم، سیدنا

اویس قرنی رحمہ اللہ 36ھ آپکا مبارک و پاک زمانہ پاکر

بھی دیدار سے محروم رہے، یہ عاشقِ صادق، جنگِ صفین

میں شہید ہوئے،

آہ ! قسمت کی خوبی دیکھئیے ٹوٹی کہاں کمند !💔

ابنِ حجر

25/7/2021ء