سخاوتِ عثمانی اور آج کی مُسْلِمْ دنیا ۔

۔

کسی سلطنت، ملک، تنظیم، کمیونٹی کی ترقی واستحکام کا مدار چاروں چیزوں پر ہے ۔

نمبر 1۔

اپنے مذھبی نظریات پر پختگی کے ساتھ قائم ہوں ۔

نمبر 2 ۔

معاشی طور پر مُستحکم ہوں ۔

نمبر 3

اپنے دینی ودنیاوی معاملات، فیصلے خود ہی ہینڈل کرتے ہوں ۔

نمبر4

آپس میں مُتحد ہوں ۔

۔

برّصغیر پر انگریزوں کے تسلّط اور سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے وقت سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ مسلمان سلطنت عثمانیہ کی مدد کیسے کریں اور مسلمان دوبارہ کیسے عروج پائیں ؟

۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فتاوٰی رضویہ شریف جلد 15 میں مسلمانوں کے دوبارہ عروج کے متعلق یہی چار شرائط اپنے خاص علمی اندازے میں بیان فرمائے جن کو میں نے اپنے مضمون میں آسان کرکے خلاصۃً اوپر بیان کردیا ہے ۔

۔

18 ذوالحجۃ الحرام مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ، دامادِ رسول سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یومِ شہادت ہے ۔سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی یوں تو بے شمار خوبیاں ہیں لیکن ایک خاص وصف جو آپ رضی اللہ عنہ کو دوسرے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے سخاوت ۔۔

آپ رضی اللہ عنہ کی سخاوت کے تعلق سے آج کے اِس مضمون میں ہم مختصراً جانیں گے ۔

۔

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا مشکل وقت میں ریاستِ مدینہ کے قیام واستحکام کےلئے اپنے مال کی سخاوت کرنا۔

۔

غزوہ تبوک کو جَیْشُ العسرہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔اِس غزوہ کا پسِ منظر کچھ اِس طرح ہے کہ مدینہ شریف میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خبر پنہچی کہ وقت کی سپرپاور سلطنت روم مدینہ شریف پر حملہ آور ہونے والا ہے ۔خبر پاکر پیارے آقا صلی علیہ وآلہ وسلم نے لشکر کو تیاری کا حکم دیا اور فرمایا اِس سے پہلے کہ وہ لوگ حملہ کریں ہم پہلے ہی اُن کی پیشِ قدمی کرتے ہیں ۔۔

سیرت نگار لکھتے ہیں کہ قحط سالی کا زمانہ تھا ۔لوگوں کے پاس خوراک بھی واجبی سا تھا ۔سخت گرمی کے دن تھے ۔لُو ایسی چلتی تھی کہ جسم کی کھال کو جلا دیتی تھی ۔پھر تبوک اور مدنیہ شریف کے درمیان فاصلہ بھی طویل تھا یعنی یہ لشکر اپنے مرکز سے دور تقریباً 700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے دشمنی کی پیش قدمی کرنے جارہی تھی اور دشمن بھی کوئی عام نہیں بلکہ وقت کا سپر پاور جس نے سلطنت فارس کو بھی شکست دی تھی ۔۔

۔

غزوہ تبوک کے موقع سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا اسلامی لشکر کی مدد کے حوالے سے حافظ ابن عبدالبر “الاستیعاب ” میں روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے لشکر کےلئے 950 اونٹ 50 گھوڑے اور دس ہزار دینار پیش کئے ۔

سُبْحَانَ اللَّهِ ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اتنے خوش ہوئے کہ ارشاد فرمایا “ما ضرّ عثمان ماعمل بہ بعد الیوم، اللھم ارض عثمان، فانی عنہ راض “۔

۔

آج کے بعد عثمان (رضی اللہ عنہ) کا کوئی کام اُنھیں نقصان نہیں پنہچائے گا، اےپروردگار! میں عثمان سے راضی ہوں، تو بھی عثمان سے راضی ہوجا!۔

مقامِ غور

اسلام ریاست قائم ہوچکی تھی ۔ریاست کو استحکام ودوام بخشنے کےلئے مال کی ضرورت ہے ۔ قحط سالی کا زمانہ ہے ۔سختی کے ایّام ہیں.ایسے موقع پر بھی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ مال خرچ کرنے سے دریغ نہیں کررہے بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ترغیب پر آگے بڑھ چڑھ کر اپنا مال خرچ کررہے ہیں ۔

۔

آج دنیا کے کسی بھی خطے میں اسلامی سلطنت قائم نہیں ہے ہاں برائے نام مسلمان ممالک بہت سارے ہیں ۔اسلامی سلطنت کا قیام یا اسلامی سلطنت کے قیام کےلئے کوششیں کرنا نماز، روزہ کی طرح فرض ہے لیکن اِس اہم ترین فرض کے قیام سے امّت غافل ہے ۔یہ ایک ایسا فرض ہے جس سے تمام فرائض دینیہ کا قیام وابستہ ہیں ۔

خدا جانے اِس فرض کے قیام کےلئے کوشش کئے بغیر ہمارے نماز روزے، حج، زکوٰۃ، صدقات وغیرہ قبول بھی ہونگی یا نہیں ۔

۔

ممکنہ سوال

اسلامی سلطنت کا قیام یا اس کےلئے کوششیں کرنا نماز روزہ کی طرح فرض کیسے ہے ہم نے تو آج تک نہیں سنا کہ یہ بھی فرض ہے؟

جواب

آپ کا نہ سننا اِس فرض کو غیر فرض نہیں کردے گا ۔

اِس فرض کی اہمیت کے حوالے سے ہم دو باتیں ذکر کریں گے ۔

پہلی بات

حدیثِ پاک میں ہے “من مات بغیر امام مات میتۃ جاھلیۃ ” یعنی طاقت وقدرت کے باوجود شرعی حکمران مقرر کرنے کے لئے جدوجہد کئے بغیر جو مرےگا وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۔

۔

دوسری بات

اِس اہم ترین فرض کے قیام کی اہمیت اِس بات سے بھی ثابت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد اکابر صحابہ کرام علیھم الرضوان نے تجہیز و تکفین سے پہلے شرعی حاکم مقرر کرنے کا کام سب سے پہلے کیا ۔

صحابہ کرام علیھم الرضوان جانتے تھے کہ اسلامی سلطنت کے قیام اور شرعی حکمران کے بغیر فرائضِ دینیہ کی پابندی اور تحفظ دین وایمان ممکن نہیں ہے اس لیے اُن مبارک نفوسِ قدسیہ نے بقائے دین کےلئے سب سے پہلے شرعی حاکم چنا ۔

۔

اسلامی سلطنت کے قیام سے پہلو تہی کا انجام دیکھئے کہ آج کعبۃ اللہ الحرام زائرین سے خالی ہے ۔دینا کی اکثر مساجد میں نماز ایس او پی کے تحت پڑھا جارہا ہے ۔برائے نام اسلامی ملکوں کی معیشت کی چکی سود کے سہارے چل رہی ہے ۔دنیا میں اسلام اور شعارِ اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن ظالموں کو روکنے والا کوئی نہیں ۔یہ سب نحوستیں محض اِس وجہ سے ہیں کہ دنیا میں کسی بھی جگہ اسلامی سلطنت قائم نہیں ہے ۔۔۔۔اور ہم نے اسلامی سلطنت کے قیام کےلئے کوششیں بھی ترک کردی ہیں جبکہ ہمارے اکابرین یعنی امام اھل سنت سے لےکر شاہ احمد نورانی صدیقی تک، فضل حق خیرآبادی سے لےکر رئیس القلم علامہ ارشدالقادری تک ہر ایک نے اسلامی سلطنت کے لئے کوششیں کیں ۔

۔

جہاں تک بات ہے کہ آپ نے اِس اہم ترین فرض کے بارے میں نہیں سنا تو یہ اِس لئے کہ آپ اور آپ کے آس پاس کے اکثر مذھبی پیشوا جھلِ بسیط کا شکار ہیں ۔

جھلِ بسیط کی وضاحت

“ھو عدم العلم عمّا من شانہ اَن یکون عالما” کسی ایسی شئ کا نہ جاننا جس کا جاننا ضروری ہو ۔

۔

اسلامی سلطنت کے قیام کےلئے کوششیں وہی لوگ کرتے ہیں جو اسلامی فکر پر مضبوطی سے قائم ہوں ۔جو فکرِ اسلامی کو فکرِ مغرب سے جدا اور ممتاز سمجھتے ہوں ۔۔

۔

دنیا میں سخاوت کی مثالیں آج بھی قائم ہیں ۔لوگ آج بھی سخاوت اور دریا دلی سے کام لیتے ہیں ۔تقریباً دنیا بھر میں مساجد، مدارس کا کام نیز فلاحی کام چیریٹی یعنی عوامی فنڈ پر چلتے ہیں ۔

مدارسِ اسلامیہ کو لوگ ہرسال لاکھوں روپے فنڈ دیتے ہیں اور دینا بھی چاہئے کہ یہی مساجد، مدارس تو ہیں جو ہماری دین و ایمان کے تحفّظ کا سامان کرتے ہیں ۔

۔

اگر اہلِ مدارس صدقِ دل چاہیں تو اسلامی سلطنت کا دوبارہ قیام ممکن ہے ۔اسلامی سلطنت کے قیام کےلئے اہلِ اسلام کا اپنے نظریات پر پختگی کے ساتھ قائم ہونا اور دین کے ساتھ وفاداری لازمی امر ہے ۔

۔

اسلامی نظریات پر پختگی کے ساتھ قائم ہونے کےلئے اسلامی معاشرے کے افراد کا علمِ دین سے واقف ہونا ضروری ہے۔علم کے بغیر نظریات پر پختگی حاصل ہونا ناممکن ہے ۔

۔

لوگوں کو علم دین سکھانا، فکرِ اسلامی کی آبیاری کرنا مدارس سے فارغ التحصیل علماء کاکام ہے لیکن افسوس آجکل مدارسِ کے ڈگری یافتہ کثیر لوگوں کو عالمِ دین کہنا خود دین کی توہین ہے الّا ماشاء اللہ ۔

۔

فکرِ اسلامی کی آبیاری، اسلامی سلطنت کے قیام کےلئے مدارسِ اسلامیہ کا مفیدِ مقصد نہ ہونے کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ مہتممین کا نصابِ تعلیم کے ساتھ ناروا سلوک بھی ہے ۔

اہلیانِ مدارس عوامی فنڈ سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے قدیم نصاب کو بہترین طریقے سے پڑھانے کا اہتمام کرکے جدید منھجِ تعلیم کے اہداف کو پاسکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کرریے ہیں ۔

ماضی قریب میں مدارسِ اسلامیہ کے نصاب میں ریاضی ،توقیت،ھیئت وغیرہ علوم بھی شامل تھے لیکن اب ریاضی ،ھیئت اور اِن جیسی دیگر علوم کو خیرآباد کہہ دیا گیا ہے اور علمِ توقیت کو بعض جگہ تخصص میں شامل کیاگیا ہے ۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اہلِ مدارس ایک شخص کے ہاتھ ڈگری تھماکر کہتے آپ عالم بن گئے ہیں اور اُن صاحب کا حال یہ ہوتا ہے کہ اُسے اوقاتِ صلٰوۃ کا بھی علم نہیں ہوتا ۔۔

۔

نصابِ تعلیم کے ساتھ ناروا سلوک کی چند جھلکیاں ۔

نمبر 1

مسندِ تدریس نااہل لوگوں کے حوالے کرنا ۔۔اِس کی اتنی مثالیں ہیں کہ بیان سے باہر ہے ۔

۔

نمبر 2

باربار نصابی کتب چینج کرنا ۔بعض جگہ تو یہ بھی دیکھا گیا کہ ایک کتاب ڈھائی دو ماہ سے پڑھائی جارہی تھی پھر مھتمم صاحب نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے یہ کتاب نہیں اِس کی جگہ دوسری کتاب پڑھانا ہے پھر چند ہفتے وہ کتاب پڑھائ گئی پھر ایک اور نوٹیفکیشن آجاتا ہے وہی پہلے والی کتاب کو شامل نصاب کیاگیا لہذا اب وہی پڑھائیں ۔

باربار نصابی چینج کرنا اور درمیانِ سال نصابِی کتاب چینج کرنے کےلئے ٹانگ اڑانا خطرناک ثابت ہوتاہے کئ طلباء کا دل تعلیم سے اچاٹ ہوجاتا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم ہے یا مذاق کبھی یہ کتاب پھر چند ہفتے بعد وہ کتاب ۔

نمبر 4

نصابِ مرتّب کرتے وقت تنخواہ دار ملازمین کو بٹھانا جنھیں صرف اپنی سیلری سے مطلب ہے ۔دین ومذھب کی اُنہیں کوئی فکر نہیں ہوتی چنانچہ وہ نصاب اِس طرح مرتّب کرتے ہیں کہ فلاں کتاب کے 121 صفحات 30 دن میں پڑھانے ہیں نیز پڑھاتے وقت اِس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ طلباء کو سبق آسان انداز میں سمجھ آئے اور وہ مُتصلّب سنی بنیں طُرفہ یہ کہ وہ بچے ہوتے بھی پہلی کلاس کے ہیں جو اپنے گھروں سے ابھی اٹھ کر آئے ہوتے ہیں جنھیں مدرسہ میں پڑھنے کا کوئی تجربہ بھی نہیں ہوتا ۔اب تیس دنوں میں 121 صفحات پڑھنا اور پھر متصلب سنی مسلمان بنانا کمال درکمال ہے ۔سب کہیئے سُبْحَانَ اللَّهِ

۔

ماضی قریب میں مدرسہ سے فارغ التحصیل طلباء علمِ فقہ، علم الکلام، علم منطق، علم توقیت سے کسی نہ کسی حدتک واقفیت رکھتے تھے ۔لسان وقلم کے ذریعے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی صلاحیت بھی اُن میں کسی نہ کسی حدتک ہوتی تھی پر افسوس آجکل جو حال ہے وہ بےحال ہے ۔

۔

آجکل دینی مدارس میں ایک نئ اصطلاح بھی داخل ہوچکی ہے سوفٹ اسکیل کورس یعنی موٹیویشنل اسپیکر سے رہنمائی لینا ۔اب موٹیویشنل اسپیکر طلبائے کرام اور علمائے کرام کو موٹیویٹ کررہا ہوتا ہے کہ انگلش کا ایک مقولہ ہے حالانکہ عربی زبان کی اہمیت وافادیت کو موٹیویشنل اسپیکروں کے ابا یعنی مستشرقین بھی مان چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔فن گفتگو کا یہ طریقہ ہے ۔فلاں ماہر نفسیات نے یہ کہا ہے وغیرہ وغیرہ ۔

۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ قرآن کریم، احادیث رسول، سیرت کے مطالعہ نگار اور تاریخی اسلام پڑھنے والوں میں موٹیویشنل اسپیکرز کو گھسیڑنا کس لئے اور کس مقصد کے تحت ہے ۔بھلا الوصایا للامام الاعظم، تعلیم المتعلم وطریق التعلم،تاریخ دولتین، مردانِ عرب جیسی کتابوں کو پڑھنے والوں کے سامنے موٹیویشنل اسپیکر کو کھڑا کرنا اور کہنا کہ آپ اُن کی تربیت کریں بےانصافی نہیں تو درست بھی نہیں ہے ۔

دعائے اللہ پاک ہمارے مدارس کو مفیدِ مقصد بنائے اور عوامی فنڈ کو خالص اصل تعلیمات دین کو ترقی وعروج دینے میں استعمال کی بخشے۔ آمین ۔

✍️ ابوحاتم

29/07/2021

۔