أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُكَ مِنۡهُ يَصِدُّوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو آپ کی قوم (خوشی سے) چلانے لگی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو آپ کی قوم (خوشی سے) چلانے لگی اور انہوں نے کہا : آیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ؟ ان کا اس مثال کو بیان کرنا محض جھگڑنے کے لیے ہے، بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ ابن مریم محض ہمارے (مقدس) بندے ہیں، ہم نے ان پر انعام فرمایا ہے اور ہم نے ان کو بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کی نشانی بنادیا ہے (الزخرف : 57-59)

الزخرف : ٥٧ کے شان نزول میں پہلی روایت

اس آیت کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی مثال بیان کی گئی تو آپ کی قوم خوشی سے چلانے لگی اور باآواز بلند نعرے لگانے لگی، حضرت عیسیٰ ابن مریم کی کیا مثال بیان کی گئی تھی اور کفار مکہ نے اس سے کیا مطلب نکالا تھا جس پر وہ خوشی سے بغلیں بجانے لگے تھے، مفسرین نے اس کی کئی توجیہات بیان کی ہیں اور کئی محامل ذکر کیے ہیں، ہم ان کا ترتیب سے ذکر کررہے ہیں :

امام عبدالرحمان بن محمد ابن حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے قریش کی جماعت ! اللہ کو چھوڑ کر جس کی بھی عبادت کی گئی اس میں کوئی خیر نہیں ہے، تو کفار مکہ نے یہ کہا : کیا آپ یہ نہیں کہتے کہ حضرت عیسیٰ نبی تھے اور اللہ کے بندوں میں سے ایک صالح بندے تھے اور ان کی بھی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کی گئی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جب بھی ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو آپ کی قوم خوشی سے چلانے لگی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ١٠ ص ٣٢٨٤، النکت والعیون ج ٥ ص ٢٣٣، تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ١٤٣۔ ١٤٢ )

حضرت ابن عباس کی اس حدیث کو امام احمد نے سند حسن کے ساتھ روایت کیا اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور دوسرے ائمہ حدیث نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ٣١٨ طبع قدیم، مسند احمد ج ٥ ص ٨٦، رقم الحدیث : ٢٩١٨، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٠ ھ، المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث : ١٢٧٤٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٨١٧)

جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا کہ اللہ کو چھوڑ کر جس کی بھی عبادت کی گئی ہے اس میں کوئی خیر نہیں ہے تو کفار مکہ نے اس پر یہ معارضہ کیا کہ حضرت عیسیٰ کی بھی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کی گئی ہے تو اس میں بھی کوئی خیر نہیں ہے۔ پھر خوشی سے چلانے لگے اور شور مچانے لگے کہ ہم نے آپ کو لاجواب کردیا اور ہمارے معارضہ کا آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، حالانکہ یہ کوئی لایخل معارضہ نہیں تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا کہ غیر اللہ کی عبادت میں کوئی خیر نہیں ہے اور بیشک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت میں بھی کوئی خیر نہیں ہے، اس پر عبادت کرنے والوں کو کوئی اجروثواب نہیں ملے گا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ جس کی عبادت کی گئی ہے اس سے بھی مواخذہ ہوگا اور اس کی گرفت ہوگی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر کوئی زد نہیں پڑتی اور کفار قریش کا اس پر شور مچانا اور بغلیں بجانا بالکل فضول اور لا یعنی تھا، قرآن مجید میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائے گا کہ کیا آپ نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنائو ؟ حضرت عیسیٰ عرض کریں گے : تو سبحان ہے، میرے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے حق نہیں ہے، اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو تجھ کو اس کا علم ہوتا، تو جانتا ہے کہ میرے دل میں کیا ہے اور میں نہیں جانتا کہ تیرے دل میں کیا ہے، بیشک تو تمام غیوب کا بہت جاننے والا ہے (المائدہ : ١١٦)

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے زائد کوئی معاملہ نہیں کیا کہ ان سے صرف دریافت فرمایا۔

الزخرف : ٥٧ کے شان نزول میں دوسری روایت

اس آیت کے متعلق جو دوسرا شان نزول ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :

انکم وماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھا وردون (الانبیاء :98)

بے شک تم خود اور جن چیزوں کو تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو (وہ سب) دوزخ کا ایندھن ہیں، تم (سب) اس میں داخل ہونے والے ہو

حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن الزبعری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ کے اوپر یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ ” بیشک تم خود اور جن چیزوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو (وہ سب) دوزخ کا ایندھن ہیں “۔ (الانبیاء : ٩٨) ابن الزبعری نے کہا : بیشک سورج اور چاند کی اور فرشتوں کی اور عزیر کی اور عیسیٰ ابن مریم کی عبادت کی گئی ہے تو یہ سب ہمارے بتوں کے ساتھ دوزخ میں داخل کیے جائیں گے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : اور جب ابن مریم کی مثال دی گئی تو آپ کی قوم خوشی سے چلانے لگی اور انہوں نے کہا : آیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ؟ ان کا اس مثال کو بیان کرنا محض جھگڑے کے لیے ہے، بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ (الزخرف : ٥٨۔ ٥٧) اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : بیشک جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے اچھی جزاء پہلے سے مقرر ہوچکی ہے وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے۔ (الانبیاء : ١٠١)

حافظ عبداللہ نے اس حدیث کو اپنی کتاب ” الاحادیث المختارہ “ میں ذکر کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٢٠ )

اس حدیث کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے :

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ امام ابن اسحاق سے روایت کرتے ہیں :

ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الولید بن المغیرہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو النضر بن الحارث دیگر کفار قریش کے ساتھ آکر آپ کے سامنے بیٹھ گیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی : ” انکم وما تعبدون میں دون اللہ حصب جھنم “ (الانبیاء : ٩٨) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مجلس سے اٹھ کر چلے گئے اور وہاں عبداللہ بن الزبعری آگیا اور الولید بن المغیرہ نے عبداللہ بن الزبعری سے کہا : عبدالمطلب کے بیٹے یہ کہتے ہیں کہ ہم جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور وہ جہنم کا ایندھن ہیں، عبداللہ بن الزبعری نے کہا : سنو اللہ کی قسم ! اگر مجھے وہ مل جاتے تو میں ان سے بحث کرتا، پس (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کرو کہ کیا ہر وہ شخص جس کی اللہ چھورڑ کر عبادت کی گئی ہے وہ اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا ؟ ہم فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور یود عزیر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاری ٰ عیسیٰ ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں۔ تب ولید بن مغیرہ اور تمام اہل مجلس عبداللہ بن زبعری کے کلام سے حیران ہوئے اور ان کو یہ یقین تھا کہ ابن الزبعری نے لاجواب کلام کیا ہے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ابن الزبعری کا اعتراض ذور کیا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کی جائے تو وہ اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا، یہ لوگ صرف شیطان کی عبادت کرتے ہیں اور جن کی عبادت کرنے کا شیطان حکم دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :” بیشک جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے اچھی جزاء پہلے سے مقرر ہوچکی ہے، وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے “۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٨٧٧٦، تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٢٢٠، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٢٧٣٩، الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص ٢٤٩، روح المعانی جز ١٧ ص ١٤٠۔ ١٣٩، السیرۃ النبویہ لابن ہشام ج ١ ص ٣٩٧)

اس آیت کے شان نزول میں جامع البیان، المعجم الکبیر اور السیرۃ النبویہ میں ابن الزبعری کا (قبل از اسلام) جو اعتراض ذکر کیا گیا اس کا جواب قرآن مجید کی آیات میں آگیا ہے، اس کے اعتراض کے جواب کی مفصل تقریر اسی طرح ہے :

شرک کے رد اور بتوں کے بےوقعتی اور بےبس ظاہر کرنے کے لیے جب مشرکین مکہ سے یہ کہا گیا کہ تم خود اور جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو، دوزخ کا ایندھن ہیں۔ (الانبیاء : ٩٨) تو ان چیزوں سے مراد پتھر کے وہ بت تھے جن کی وہ عبادت کرتے تھے نہ کہ انبیاء (علیہم السلام) اور دیگر صالحین جو اپنی تمام زندگی لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے معتقدین نے ان کو معبود سمجھنا شروع کردیا۔ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ وہ دوزخ سے دور رہیں گے۔ (الانبیاء : ١٠١) کیونکہ اس کی جو پرستش کی گئی تھی اس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا، اسی لیے قرآن نے اس کے لیے جو لفظ استعمال کیا ہے وہ لفظ ” ما “ ہے جو غیر عاقل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے اس آیت کے عموم (لفظ ما) سے انبیاء (علیہم السلام) اور وہ صالحین نکل گئے جن کو لوگوں نے از خود معبود بنا لیا تھا، لیکن مشرکین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان فیض ترجمان سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ذکر سن کر یہ مجادلہ اور کٹ حجتی کرتے تھے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لائق مدح ہیں حالانکہ عیسائی ان کی عبادت کرتے ہیں تو پھر ہمارے بت کیوں قابل مذمت ہیں آیا وہ بھی بہتر نہیں ہیں، اگر ہمارے معبوددوزخ میں جائیں گے تو پھر حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر (علیہما السلام) بھی دوزخ میں جائیں گے، اللہ تعالیٰ نے سورة زخرف کی ان آیتوں میں فرمایا ان کا خوشی سے چلانا محض ان کا جدل، کٹ حجتی اور ہٹ دھرمی ہے۔

کیونکہ قرآن مجید میں ہے : ” انکم وما تعبدون “ بیشک تم اور جن چیزوں کی عبادت کرتے ہو، یہاں پر بالعموم یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کے سوا جن کی بھی عبادت کی گئی ہے وہ دوزخ کا ایندھن ہیں، بلکہ بالخصوص اہل مکہ کو خطاب ہے اور وہ صرف بتوں کی عبادت کرتے تھے اور عیسیٰ اور عزیر (علیہما السلام) کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ لہٰذا وہ اس آیت میں داخل نہیں ہیں۔ ثانیاً اس آیت میں ” ما “ کا لفظ ہے جو غیر عقلاء کے لیے وضع کیا گیا ہے اور حضرت عیسیٰ عزیر (علیہما السلام) ذوی العقول ہیں، لہٰذا وہ اس آیت کے عموم میں داخل نہیں ہیں اور عربی زبان جاننے والے کے لیے یہ امور بالکل واضح اور بدیہی ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ امور مخفی ہوں جو اقصح العرب ہیں اور اہل عرب بھی زبان دان اور فصیح تھے لہٰذا ان کا یہ اعتراض کرنا اور اس اعتراض کو لایخل سمجھنا محض ان کا جدل اور ہٹ دھرمی ہے۔

ہم نے اس آیت کے دو شان نزول ذکر کیے ہیں : ایک شان نزول مسنداحمد، المعجم الکبیر اور صحیح ابن حبان کے حوالے سے ذکر کیا ہے، جن میں مذکور ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کو چھوڑ کر جس کی بھی عبادت کی گئی تو اس میں کوئی خیر ہیں ہے، اس پر کفار نے یہ اعتراض کیا کہ حضرت عیسیٰ کی تو عبادت کی گئی ہے اور دوسرا شان نزول یہ بیان کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : تم جن چیزوں کی عبادت کرتے ہو وہ دوزخ کا ایندھن ہیں۔ (الانبیاء : ٩٨) اس پر ابن الزبعری نے یہ اعتراض کیا پھر حضرت عیسیٰ ابن مریم کی بھی عبادت کی گئی ہے، اس اعتراض کہ ہم نے معجم طبرانی، السیرۃ النبویہ، این جریر اور ابن کثیر کے حوالوں سے بیان کیا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ کفار کا ایک اعتراض حدیث پر ہے اور ایک اعتراض قرآن مجید کی آیت پر ہے اور ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، ہوسکتا ہے کہ عام کفار نے آپ کی حدیث پر اعتراض کیا ہو اور ابن الزبعری نے قرآن مجید کی آیت پر کیا ہوا اور الزخرف : ٥٨۔ ٥٧ میں دونوں اعتراضوں کا جواب ہے کہ ان لوگوں کا یہ اعتراض کرنا محض ان کا جدل اور ہٹ دھرمی ہے اور ہم نے دونوں اعتراضوں کے جوابوں کی الگ الگ تقریر بھی کردی ہے۔

سید مودودی کا شان نزول میں حدیث وضع کرنا

سید مودودی نے اپنی طرف سے الزخرف : ٥٨۔ ٥٧ کا شان نزول وضع کیا ہے اور گھڑ لیا ہے، انہوں نے اپنی طرف سے جو صورت واقعہ بنائی ہے اس کا ذکر کسی حدیث کی کتاب میں ہے نہ کسی تفسیر میں، وہ ان کی خالص خود ساختہ پرداختہ ہے۔

سید مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ لکھتے ہیں :

اس سے پہلے آیت ٤٥ میں یہ بات گزر چکی ہے کہ تم سے پہلے جو رسول ہوگزرے ہیں ان سب سے پوچھ دیکھو، کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ؟ یہ تقریر جب اہل مکہ کے سامنے ہورہی تھی تو ایک شخص نے جس کا نام روایات میں عبدللہ بن الزبعری آیا ہے، اعتراض جڑ دیا کہ کیوں صاحب، عیسائی مریم کے بیٹے کو خدا کا بیٹا قرار دے کر اس کی عبادت کرتے ہیں یا نہیں ؟ پھر ہمارے معبود کیا برے ہیں ؟ اس پر کفار کے مجمع سے ایک زور کا قہقہہ بلند ہو اور نعرے لگتے شروع ہوگئے کہ وہ مارا، پکڑے گئے۔ اب بولو اس کا کیا جواب ہے۔ لیکن ان کی اس بیہودگی پر سلسلہ کلام توڑا نہیں گیا، بلکہ جو مضمون چلا آرہا تھا، پہلے اسے مکمل کیا گیا اور پھر اس سوال کی طرف توجہ کی گئی جو معترض نے اٹھایا تھا (واضح رہے کہ اس واقعہ کی تفسیر کتابوں میں مختلف طریقوں سے روایت کیا گیا ہے جن میں بہت کچھ اختلاف ہے لیکن آیت کے سیاق وسباق اور ان روایات پر غور کرنے کے بعد ہمارے نزدیک واقعہ کی صحیح صورت وہی ہے جو ابھی ہم نے بیان کی ہے) ۔ (تفہیم القرآن ج ٤ ص ٥٤٦، طبع لاہور، مارچ ١٩٨٣ ء)

کتب حدیث اور کتب تفاسیر میں مذکور ہے کہ ابن الزبعری نے ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم “ (الانبیاء : ٩٨) پر یہ اعتراض کیا تھا اور سید مودودی نے لکھا ہے کہ اس نے یہ اعتراض الزخرف : ٤٥ پر کیا تھا اور حدیث اور تفسیر کی کسی کتاب میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ابن الزبعری کا یہ اعتراض الزخرف : ٤٥ پر تھا، یہ محض سید مودودی کا مفروضہ اور ایجاد بندہ ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ کہ کتب حدیث اور کتب تفسیر میں یہ مذکور ہے کہ ابن الزبعری نے الانبیاء : ٩٨ پر یہ اعتراض کیا کہ کیا ہر وہ شخص جس کو اللہ کو چھوڑ کر عبادت کی گئی ہے وہ اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں ہوگا ؟ تو ہم فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور یہود حضرت عزیر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاری عیسیٰ ابن مریم کی عبادت کرتے ہیں (یعنی اگر عیسیٰ اور عزیر (علیہما السلام) دوزخ میں جائیں تو ہمارے بتوں کے دوزخ میں جانے سے کیا خرابی ہوگی ؟ ) (المعجم الکبیر الحدیث : ١٧٣٩، السیرۃ النبویہ ج ١ ص ٣٩٧)

اور سید مودودی نے جو اپنی طرف سے حدیث بنا کر لکھی ہے وہ یہ ہے کہ ابن الزبعری نے الزخرف : ٤٥ پر اعتراض کیا ہے۔ الزخرف : ٤٥ میں مذکور ہے کہ آپ ان رسولوں سے پوچھئے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا : کیا ہم نے رحمن کے سوا کچھ اور معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے ؟ اس آیت پر ابن الزبعری نے یہ اعتراض کیا : کیوں صاحب ! عیسائی مریم کے بیٹے کو خدا کا بیٹا قرار دے کر اس کی عبادت کرتے ہیں یا نہیں، پھر ہمارے معبود کیا برے ہیں ؟ (تفہیم القرآن ج ٤ ص ٥٤٦ )

اگر کسی مسئلہ میں مختلف احادیث ہوں تو ایک محقق کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دلائل کی بناء پر کسی ایک حدیث کو راجح اور دوسری حدیث کو مرجوح قرار دے یا سند کی قوت اور ضعف کے اعتبار سے ایک حدیث کو راجح اور دوسری کو مرجوح قرار دے لیکن کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی مسئلہ کے متعلق اپنی طرف سے کوئی نئی حدیث وضع کرے، سید مودودی نے صرف یہی نہیں کیا کہ اپنی طرف سے ایک حدیث وضع کرلی بلکہ انہوں نے اپنی من گھڑت حدیث کو مسند احمد، معجم طبرانی اور صحیح ابن حبان کی روایت کردہ احادیث پر ترجیح بھی دی اور ان کی احادیث کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ آیت کے سیاق وسباق پر غور کرنے کے بعد واقعہ صحیح صورت وہی ہے جس کو انہوں نے وضع کیا ہے نہ کہ وہ روایات جو کتب احادیث اور کتب تفسیر میں درج ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اس سلسلہ میں مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم “ (الانبیاء : ٩٨) کی تفسیر میں سید مودودی نے اس روایت کو بیان کیا ہے جس کو الزخرف : ٥٧ کی تفسیر میں وہ رد کرچکے ہیں، سید مودودی لکھتے ہیں :

روایات میں آیا ہے کہ اس آیت پر عبداللہ بن الزبعری نے اعتراض کیا کہ اس طرح تو صرف ہمارے ہی معبود نہیں، مسیح اور عزیر اور ملائکہ بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ دنیا میں ان کی بھی عبادت کی جاتی ہے، اس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ھو کل من احب ان یعبد من دون اللہ فھو مع من عبدہ “ ہاں ہر وہ شخص جس نے پسند کیا کہ اللہ کی بجائے اس کی بندگی کی جائے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جنہوں نے اس کی بندگی کی۔ (تفہیم القرآن ج ٣ ص ١٨٧، مطبوعہ لاہور، مارچ ١٩٨٣ ء)

سید مودود ینے جو یہ روایت ذکر کی ہے یہ وہی روایت ہے جس کو ہم نے جامع البیان، المعجم الکبیر اور السیرۃ النبویہ کے حوالوں سے ذکر کیا ہے، غالباً الزخرف میں پہنچ کر سید مودودی بھول گئے تھے کہ وہ الانبیاء میں کیا لکھ چکے ہیں۔ اس سے پہلے سورة الکہف کے دیباچہ میں بھی سید مودودی نے ایک روایت وضع کی ہے۔ اس کی تفصیل بتیان القرآن ج ٧ ص ٣٥۔ ٣٤، میں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 57