بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

سورۂ نمل مکیّہ ہے اس میں سات رکوع اور ترانو ے آیتیں اور ایک ہزار تین سو ستّرہ ۱۳۱۷ کلمے اور چار ہزار سات سو ننانوے ۴۷۹۹ حرف ہیں ۔

طٰسٓ-تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ(۱)

یہ آیتیں ہیں قرآن اور روشن کتاب کی (ف۲)

(ف2)

جو حق و باطل میں امتیاز کرتی ہے اور جس میں علوم و حِکَم ودیعت رکھے گئے ہیں ۔

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ(۲)

ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کو

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ(۳)

وہ جو نماز برپا رکھتے ہیں (ف۳) اور زکوٰۃ دیتے ہیں (ف۴) اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں

(ف3)

اور اس پر مداومت کرتے ہیں اور اس کے شرائط و آداب و جملہ حقوق کی حفاظت کرتے ہیں ۔

(ف4)

خوش دلی سے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ(۴)

وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے کوتک (برے اعمال) اُن کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے ہیں (ف۵)

(ف5)

کہ وہ اپنی برائیوں کو شہوات کے سبب سے بھلائی جانتے ہیں ۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ(۵)

تو وہ بھٹک رہے ہیں یہ وہ ہیں جن کے لیے بُرا عذاب ہے (ف۶) اور یہی آخرت میں سب سے بڑھ کر نقصان میں (ف۷)

(ف6)

دنیا میں قتل اور گرفتاری ۔

(ف7)

کہ ان کا انجام دائمی عذاب ہے ۔ اس کے بعد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو خطاب ہوتا ہے ۔

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ(۶)

اور بےشک تم قرآن سکھائے جاتے ہو حکمت والے علم والے کی طرف سے (ف۸)

(ف8)

اس کے بعد حضرت موسٰی علیہ السلام کا ایک واقعہ بیان فرمایا جاتا ہے جو دقائقِ علم و لطائفِ حکمت پر مشتمل ہے ۔

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًاؕ-سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ(۷)

جب کہ موسیٰ نے اپنی گھر والی سے کہا (ف۹) مجھے ایک آ گ نظر پڑی ہے عنقریب میں تمہارے پاس اس کی کوئی خبر لاتا ہوں یا اس میں سے کوئی چمکتی چنگاری لاؤں گا کہ تم تاپو (ف۱۰)

(ف9)

مَدیَن سے مِصر کو سفر کرتے ہوئے تاریک رات میں جبکہ برف باری سے نہایت سردی ہو رہی تھی اور راستہ گم ہو گیا تھا اور بی بی صاحبہ کو دردِ زِہ شروع ہو گیا تھا ۔

(ف10)

اور سردی کی تکلیف سے امن پاؤ ۔

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَاؕ-وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۸)

پھر جب آ گ کے پاس آیا ندا کی گئی کہ برکت دیا گیا وہ جو اس آ گ کی جلوہ گاہ میں ہے یعنی موسیٰ اور جو اس کے آس پا س ہیں یعنی فرشتے (ف۱۱) اور پاکی ہے اللہ کو جو رب سارے جہان کا ۔

(ف11)

یہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی تحیّت ہے اللہ تعالٰی کی طرف سے برکت کے ساتھ ۔

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ(۹)

اے موسیٰ بات یہ ہے کہ میں ہی ہوں اللہ عزت والا حکمت والا

وَ اَلْقِ عَصَاكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْؕ-یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ-اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ(۱۰)

اور اپنا عصا ڈال دے (ف۱۲) پھر موسیٰ نے اُسے دیکھا لہراتا ہوا گویا سانپ ہے پیٹھ پھیر کر چلا اور مڑ کر نہ دیکھا ہم نے فرمایا اے موسیٰ ڈر نہیں بےشک میرے حضور رسولوں کو خوف نہیں ہوتا (ف۱۳)

(ف12)

چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے بحکمِ الٰہی عصا ڈال دیا اور وہ سانپ ہو گیا ۔

(ف13)

نہ سانپ کا نہ کسی اور چیزکا یعنی جب میں انہیں امن دوں تو پھر کیا اندیشہ ۔

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۱)

ہاں جو کوئی زیادتی کرے (ف۱۴) پھر برائی کے بعد بھلائی سے بدلے تو بےشک میں بخشنے والا مہربان ہوں (ف۱۵)

(ف14)

اس کو ڈر ہو گا اور وہ بھی جب توبہ کرے ۔

(ف15)

توبہ قبول فرماتا ہوں اور بخش دیتا ہوں ، اس کے بعد حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیمات کو دوسری نشانی دکھائی گئی اور فرمایا گیا ۔

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُ جْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ-فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ(۱۲)

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال نکلے گا سفید چمکتا بے عیب (ف۱۶) نو۹ نشانیوں میں (ف۱۷) فرعون اور اس کی قوم کی طرف بےشک وہ بے حکم لوگ ہیں

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ(۱۳)

پھر جب ہماری نشانیاں آنکھیں کھولتی اُن کے پاس آئیں (ف۱۸) بولے یہ تو صریح جادو ہے

(ف16)

یہ نشانی ہے ان ۔

(ف17)

جن کے ساتھ رسول بنا کر بھیجے گئے ہو ۔

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّاؕ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠(۱۴)

اور اُن کے منکر ہوئے اور اُن کے دلوں میں ان کا یقین تھا(ف۱۹) ظلم اور تکبر سے تو دیکھو کیسا انجام ہوا فسادیوں کا (ف۲۰)

(ف19)

اور وہ جانتے تھے کہ بے شک یہ نشانیاں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں لیکن باوجود اس کے اپنی زبانوں سے انکار کرتے رہے ۔

(ف20)

کہ غرق کر کے ہلاک کئے گئے ۔