أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَـعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓئِكَةً فِى الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم چاہتے تو تمہاری جگہ فرشتے پیدا کردیتے جو تمہارے بعد زمین میں رہتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور اگر ہم چاہتے تو تمہاری جگہ فرشتے پیدا کردیتے جو تمہارے بعد زمین میں رہتے اور بیشک وہ (ابن مریم) ضرور قیامت کی نشانی ہیں، سو (اے مخاطب ! ) تم قیامت میں شک نہ کرنا اور میری پیروی کرتے رہنا، یہی صراط مستقیم ہے اور شیطان تم کو روکنے نہ پائے، بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے (الزخرف : 60-62)

فرشتوں کے اللہ کی بیٹیاں نہ ہونے کی ایک اور دلیل

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو تمہاری جگہ زمین پر فرشتوں کو آباد کردیتے جو تمہارے بعد زمین میں رہتے، بستے اور فرشتوں کے آسمانوں پر رہنے میں کوئی فضیلت نہیں ہے حتیٰ کہ ان کی عبادت کی جائے یا یہ کہا جائے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٦ ص ٩٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اگر ہم چاہتے تو اے مردو ! ہم تم سے فرشتوں کو پیدا کردیتے اور تمہارے بعد زمین پر فرشتے اس طرح رہتے جس طرح تمہاری اولاد تمہارے بعد رہتی ہے اور جس طرح ہم نے عیسیٰ کو عورت سے بغیر مرد کے پیدا کردیا تاکہ تم ہماری عظیم قدرت کو پہچانو اور تم یہ جان لو کہ فرشتوں کا بھی اسی طرح پیدا ہونا ممکن ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے کہ فرشتے اس کی بیٹیاں ہوں۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٦٤٠، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 43 الزخرف آیت نمبر 60