محرم الحرام میں شادی کا معاملہ

افتخار الحسن رضوی

برصغیر پاک و ہند کی مسلمان سوسائٹی کا معاملہ ہمیشہ پیچیدگیوں کا شکار رہا ہے۔ مسلمان ہو جانے کے باوجود ذہنوں سے ہندو کلچر ابھی تک نہیں نکلا۔ اس پر مزید دبائو انگریزی کلچر کا شامل ہو چکا ہے اور اب اسلام خال خال ہی نظر آتا ہے۔ دوسری جانب دین پسندوں میں علاقائی اعتبار سے اختیار کیے گئے مذہبی تہوار اصل دین سے کہیں دور ہیں۔ اس کی چند مثالیں حالیہ برسوں میں مزید کھل کر سامنے آئی ہیں، مثلا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا عرس منانا اور اب محرم میں کھلے عام شادیاں منانا۔ دونوں کام کرنے والوں کے پاس اپنے فکری و عقلی دلائل ہیں، جب کہ مخالفت کرنے والوں کا اپنا مزاج ہے۔ لیکن ان دو عنوانات پر ہونے والے مقابلے نے کم از کم ہند و پاک کے مسلمانوں کو ایک نئی تقسیم سے ضرور دوچار کیا ہے۔

ماہِ محرم میں شادی کے جواز و عدم جواز پر کوئی اعتقادی، ایمانی یا فقہی ممانعت قطعا موجود نہیں ہے کیونکہ شارع اسلام ﷺ کی بعثت سے لے کر وفات تک کے دورانیے میں ایسا کوئی حکم مذکور نہیں ہے، بلکہ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہاں بھی اس کی ممانعت نہیں ہے۔ وجہ بہت سادی اور واضح ہے کہ واقعہ کربلا پیش نہیں آیا تھا ۔ اسی طرح سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے ادوار میں ایسا کوئی معاملہ یا واقعہ اس روز پیش نہ آیا تھا کہ محرم میں شادی ممنوع ہوتی۔ نبی کریم ﷺ کی تاریخ وصال سے تقریبا پچاس برس بعد پیش آنے والا واقعہ شرعی قانون تبدیل نہیں کر سکتا۔ تاریخی کتب سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خود ماہِ محرم میں نکاح فرمایا، آپ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نکاح بھی اسی ماہ میں ہوئے۔ لہٰذا شرعا محرم میں نکاح پر کوئی ممانعت موجود نہیں ہے۔

ائمہ اہل بیت علم و حکمت اور دانش کا مرکز و منبع تھے بلکہ خالص دین اسی گھرانے کی برکت سے ہے۔ فقہی مذاہب کے ائمہ اربعہ بالخصوص امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ تو اہل بیت اطہار علیہم السلام ہی کے خوشہ چیں تھے ، امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے براہ راست شرفِ تلمذ پایا۔ شیخ آلوسی اور شاہ عبد العزیز دہلوی کی روایات کے مطابق تو امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے امام محمد باقر اور ان کے چچا حضرت زید بن علی بن حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی اکتسابِ فیض کیا ہے۔ لیکن ائمہ اہل بیت سمیت ان ائمہ اربعہ سے محرم میں نکاح کی کوئی ممانعت ثابت نہیں ہے۔

اگر ہم معاشرتی، علاقائی اور اخلاقی حوالے سے بات کریں تو ہند و پاک کا معاشرہ مذہبی معاملات میں بہت حساس ہے۔ اہل بیت اطہار اور اصحاب رسول رضوان اللہ اعلیہم اجمعین سے متعلق عوامی جذبات بہت بھڑکے ہوئے رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں امت کا مفاد، معاشرے کی بہتری اور جذبات کو مجروح ہونے سے بچانے کے لیے عافیت اسی میں ہے کہ کم از کم محرم کے پہلے دو ہفتوں میں شادی نہ کی جائے، بلکہ ان ایام میں زیادہ سے زیادہ اہل بیت اطہار علیہم السلام کا ذکرِ خیر، عبادات اور خصوصا شہدائے کربلا کی یاد منائی جائے۔ میرے خیال میں ایسی کوئی اولاد نہیں جو اپنے باپ یا ماں کے یوم وفات پر شادیانے بجائے اور مبارکبادیاں دے۔ لہٰذا عقل مندی، ادب، احترام اور اہل بیت سے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ اس عشرے میں ایسا کوئی عمل نہ کیا جائے۔

میرے ذہن میں ایک خیال دوڑ رہا ہے کہ اہل تشیع اور روافض اس آڑ میں جو انتشار پھیلا رہے ہیں، اس طبقے کے ایک سو ذاکرین کے شناختی کارڈ حاصل کر یں اور تفتیش کریں۔ عین ممکن ہے پچاس فیصد کی پیدائشیں ماہِ شوال میں ہوئی ہوں گی۔ یہ جز وقتی اور محدود پیمانے پر غمِ حسین demonstrate کرنے والا طبقہ پہچانا جائے گا۔ محرم میں دنیا کو شادیوں سے روکتے ہیں اور خود نفس کی پوجا میں مبتلا رہتے ہیں۔