أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيۡلٌ لِّـكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍۙ ۞

ترجمہ:

ہر بہتان تراشنے والے بدکار کے لیے ہلاکت ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ہر بہتان تراشنے والے بدکار کے لیے ہلاکت ہے وہ اللہ کی ان آیتوں کو سنتا ہے جو اس پر تلاوت کی جاتی ہیں، پھر تکبر کرتے ہوئے (اپنے کفر پر) ڈتا رہتا ہے جیسے اس نے ان آیتوں کو سنا ہی نہیں، سو (اے رسول مکرم ! ) آپ اس کو درد ناک عذاب کی بشارت دیجئے اور جب اسے ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کا علم ہوتا ہے تو وہ اسے مذاق بنا لیتا ہے، ان ہی کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے ان کے پیچھے دوزخ ہے اور ان کے کیے ہوئے عمل ان کے کسی کام نہیں آئیں گے اور نہ وہ ان کے کام آسکیں گے جن کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنا مددگار بنا لیا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے جو (کتاب) ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا ہے ان کے لیے شدید درد ناک عذاب ہے (الجاثیہ :7-11)

ویل کا معنی

” ویل “ فارسی زبان کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : سخت عذاب۔ امام ابن جریر نے کہا : ویل دوزخ کی ایک وادی ہے جس میں دوزخیوں کی پیپ بہتی ہے۔ (جامع البیان جز ٢٥ ص ١٨٤) “ افاک “ افک سے بنا ہے، اس کا معنی ہے : کسی پر تہمت لگانا، اس پر بہتان تراشنا، ” اثیم “ مبالغہ کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے : بہت زیادہ اثم (گناہ) کرنے والا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 45 الجاثية آیت نمبر 7