بلبلِ مدینہ ، اویس رضا قادری نے سیدی اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے کلام سُنا سنُا کر قلوب کو گرمایا ہے،

جبکہ

پنڈی کے ایک نام نہاد ” مفتی” نے ایرانی ترانے بے سُرے انداز میں گا گا کر دل و دماغ سڑایا ہے۔

 

مفتی جی کو رافضیوں کی پاسداری میں امام حسین رضی اللہ عنہ کا تو خیال رہا۔۔ کہ یہ شہادت کا مہینہ ہے اس ماہ

نکاح کرنا سوء ادب، گستاخی، بے ادبی یے،

مگر ان کی والدہ ، والد ، بھائی، کی طرف دیہان نہ گیا

بالترتیب 3، 15، 21 رمضان المبارک ان مقتدر شخصیات

کا وصالِ پُر ملال ہوا۔۔ہاں مفتی جی اس ماہ میں کسی

بھی ٹی وی پر بیٹھ کر روپیہ وصول کرنے سے تھکتے نہیں

 

مگر مجال ہے جو مفتی جی نے آج تک رمضان میں نکاح

کی خوشی منانے والوں کو اس انداز سے یاد کیا ہو جس

انداز سے منبر پر بیٹھ کر جناب اویس رضا کو اور افسوس

صد افسوس ذاتیات پر آتے ہوئے ، بغض و عناد میں ڈوب کر

، بازاری زبان استعمال کرتے ہوئے ان کی صاحبزادی کو یاد کیا؟؟؟

 

محرم میں نکاح حرام ہے۔۔۔ یہ خالص رافضیوں کی ایجاد و اختراع ہے، شرع میں بے جا مداخلت ہے، رافضی ناہنجار محرم میں سوائے نکاح کے ہر حرام کام خوشی سے سر انجام دیتے ہیں اس میں سرِ فہرست ” متعہ ” ہے

 

مفتی جی !

مجھے تو شک ہے یا تو آپ کے والد یا پھر انکے والد کبھی کٹر رافضی رہے ہونگے کہ ” خون تو اثر لاتا ہے”

مجھے امیدِ واثق ہے اپنا ڈی این اے کراکر ہماری تشفی و

تسلی کرادیں گے۔

 

لو مفتی جی ! اب ہم اس قبیح و شنیع رسم کو ٹھکراتے ہوئے اپنی چھوٹی بہن کی شادی 20 محرم کو کرنے کا

اعلان کرتے ہیں،

 

آپ بھی ہمت کریں اور محرم الحرام میں سادگی سے نکاح کی ترغیب دیکر اس بری رسم کا خاتمہ کریں

 

مفتی جی ! اب آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں ، یا تو راہِ راست پر آئیں جو کہ مشکل ہے یا پھر چھری چاقو لیکر

کسی باڑے کا رخ کریں ، تاکہ دو پیسے ہاتھ آجاویں

 

ابنِ حجر

18/8/2021ء