ہم منافق مسلکی بیمار ہیں

افتخار الحسن رضوی

 

ہم اپنی مرضی کی بشارتیں اور جنتیں تلاش کرنے پر آئیں تو تخلیق آدم سے پہلے کے حالات بھی یوں بیان کرتے ہیں جیسے ہم تمام تخلیقی اور ارتقائی مراحل کے چشم دید گواہ ہوں۔ ہم نقص، منفیت اور عیوب تلاش کرنے پر آئیں تو جس کی گود اور سائے میں سید الانبیاء علیہ الصلاۃ والسلام نے پرورش پائی اسے بھی کافر ثابت کر دیتے ہیں۔ جب مسلک خطرے میں پڑ رہا ہو تو ہم ابو لہب کی انگلی کو برکت “دلوا” کر پیر کے دن اس سے عذاب اٹھوا دیتے ہیں۔ جب ہمیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سیاسی و تاریخی کردار پر اعتراضات کا جواب نہ ملے تو ہم میسون کے لیے کراچی سے چھپی ہوئی کتاب کو حوالہ بنا کر “متقیہ و پرہیز گار، عابدہ و زاہدہ” ہونے کے حوالے تلاشتے ہیں جب کہ مؤرخین خاموش ہیں بلکہ گم ہیں کہ موصوفہ نے کب، کس کے کہنے پر کس تاریخ کو اسلام قبول کیا، طلاق کیوں لی، اور بعد از طلاق کے حالات کیا رہے، کب انتقال ہوا اور جنازہ کس نے پڑھایا اور کلبی نصرانی خاندان کے نواسے یزید کو “یزید بنانے” میں ان کا کردار کیسا تھا؟ ۔

ہم اس قدر فراست و بصارت روحانی کے مالک ہیں کہ لوحِ محفوظ تک ہمارے پیروں کی رسائی ہے اور وہ مریدوں کے جنتی و جہنمی ہونے کے فیصلے پڑھ کر سنا دیتے ہیں۔ حکومت کے عروج و زوال کے فیصلے ہمارے بھنگی چرسی کرتے ہیں لیکن اہل بیت کے قاتلوں کی نشاندہی کرتے وقت ہماری آنکھیں اندھی ہو جاتی اور دماغ ماؤف ہو جاتے ہیں۔ یزید ہمیں بے قصور نظر آتا ہے اور اس کے “ملوث” ہونے کے ثبوت ہمیں نہیں ملتے۔ ہم اس قدر احسان فراموش اور منافقت میں اٹے پڑے ہیں کہ ہمیں سیدہ طیبہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا “خطا” پر نظر آتی ہیں جب کہ خاندانی حسبی نسبی نسلی میسون بنت بحدل کلبیہ النصرانیہ “متقیہ” نظر آتی ہے۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں ہم یزید اور یزید کی امی کی وکالت کیوں کر رہے ہیں؟ کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نجات ان سے مشروط ہے؟ اگر یہی أصول ہے اور اسی طرز پر حمایت کرنی ہے تو پھر سیدنا نوح علیہ السلام کے بیٹے کی بھی وکالت کریں۔ ولید بن مغیرہ کو بھی بہشت میں ایک محل الاٹ کر دیں، أبو لہب کی انگلی ہی کیوں، پورا ہی جنتی کر دیں کہ رسول اعظم ﷺ کا سگا چچا ہے۔ مختار ثقفی پکا مصدقہ و مسلمہ تابعی تھا، صحابی رسول کا بیٹا تھا، مؤرخین کے نزدیک اس کا دعوٰی نبوت متنازعہ ہے۔ یوپی اور کراچی کا اسلام اور ہے، محمد مصطفیٰ کریم ﷺ کا اسلام اور ہے۔ کسی ایک شخصیت کے دفاع میں اس قدر آگے مت جائیں کہ واپسی کی راہ نہ ملے۔ دین آپ کے مزاج کا نام نہیں، عقیدہ آپ کے پیر صاحب کی کرامت اور کتاب کا محتاج نہیں۔ دین میں عدل ہے اور عدل کا تقاضا یہی ہے کہ مسلک نہ بچاؤ بلکہ اسلام بچاؤ۔

 

کتبہ: افتخار الحسن رضوی

28 اگست 2021 | 19 محرم 1443

#IHRizvi