أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَصۡحٰبُ الۡاَيۡكَةِ وَقَوۡمُ تُبَّعٍ‌ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيۡدِ ۞

ترجمہ:

اور ایکہ (جنگل) والوں نے اور تبع کی قوم نے، ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا سو عذاب کی وعید برحق ہے

ایکہ والوں کا مصداق

قٓ:14 میں فرمایا : اور ایکہ والوں نے اور تبع کی قوم نے۔

ایکہ اس جگہ کو کہتے ہیں : جہاں بہت زیادہ اور بہت گھنے درخت ہوں، درختوں کا جھنڈ، جنگل۔ بعض لوگوں نے کہا : کسی خاص شہر یا ملک کا نام ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلم اصحابِ ایکہ اور اہل مدین کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور دونوں قوموں پر عذاب نازل کیا گیا، اہل مدین ایک ہولناک چیخ سن کر ہلاک ہوگئے اور اصحاب الایکہ جس جنگل میں تھے ان پر بادل کا عذاب آیا تھا۔ اور اس آیت میں قوم تبع کا ذکر ہے، تبع عرب کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا، اس کو تبع اس لیے کہتے تھے کہ اس کے متبعین بہت زیادہ تھے۔ وہب بن منبہ نے کہا : تبع خود مسلمان تھا اور اس کی قوم کافر تھی، اس لیے اس آیت میں اس کی قوم کا ذکر ہے۔

تبع کا معنی اور مصداق

قتادہ نے کہا : تبع کی قوم سے مراد قوم سبا ہے، سبا میں حمیر قبیلہ تھا، یہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے، جیسے روم کے بادشاہ کو قیصر اور فارس کے بادشاہ کو کسریٰ کہتے ہیں۔ مؤرخین کا اتفاق ہے کہ تبابعہ میں سے بعض تبع کو بہت شہرت حاصل ہوئی، بعض مورخین نے کہا کہ وہ ملکوں کو فتح کرتا ہوا سمرقند تک پہنچ گیا، قوم سبا اپنے وقت کی بہت عظیم قوم تھی جو قوت اور خوش حالی میں نمایاں تھی لیکن جب اس قوم نے بھی رسولوں کی تکذیب کی تو اس کو بھی ملیا میٹ کر کے رکھ دیا گیا۔

حافظ ابن کثیر نے دو تبع کا ذکر کیا ہے، اول تبع وہ تھا جو پہلے کافر تھا پھر مسلمان ہوگیا اور علماء یہود کے ہاتھ پر اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دین کو قبول کرلیا اور یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے پہلے کا واقعہ ہے، اس نے جرہم کے زمانہ میں بیت اللہ کا حج کیا تھا اور جس تبع کا قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے، یہ اس تبع سے بہت متاخر تھا، اس کی قوم اس کے ہاتھ پر مسلمان ہوگئی تھی، پھر جب یہ فوت ہوگیا تو پھر اس کی قوم آگ اور بتوں کی پرستش کرنے لگی، اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی مذمت فرمائی، اس کا نام اسعد ابوکریب یمانی تھا، اس نے اپنی قوم پر تین سو چھپن سال حکومت کی تھی۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے سات سو سال پہلے فوت ہوگیا تھا اور امام ابن ابی الدین نے ذکر کیا ہے کہ زمانہء اسلام میں صنعاء میں ایک قبر کو کھودا گیا تو اس میں سے دو لڑکیوں کی لاشیں ملیں، ان کی لوح پر لکھا ہوا تھا کہ یہ تبع کی بیٹیاں ہیں، یہ موت کے وقت ” لا الہ الا اللہ “ کی شہادت دیتی تھیں، انہوں نے شرک نہیں اس سے پہلے صالحین بھی اسی عقیدے پر فوت ہوئے تھے۔ کعب احبار نے کہا : اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم کی مذمت کی ہے، تبع کی مذمت نہیں کی۔ حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تبع کو بُرا نہ کہو وہ مسلمان ہوچکا تھا۔ (مسند احمد ج 5 ص 340) امام عبدالرزاق، امام ابن ابی حاتم اور امام طبرانی نے بھی اپنی سندوں کے ساتھ اس حدیث کو روایت کیا ہے۔(تفسیر ابن کثیر ج 4 ص 156-157، ملخصا، دارالفکر، بیروت، 1419 ھ)

پھر فرمایا : ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا، سو عذاب کی وعید برحق ہے۔ یعنی ان میں سے ہر قوم نے ان رسولوں کی تکذیب کی جن کی طرف ان کو مبعوث کیا گیا تھا پھر ان تمام قوموں پر اللہ تعالیٰ کی وعید کے موافق عذاب نال ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو ڈرایا ہے کہ اگر تم اپنے کفر پر اصرار کرتے رہے تو تم پر بھی اس عذاب کا خطرہ ہے جو ان قوموں پر آچکا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 50 ق آیت نمبر 14