امام بخاری کا علم فضل اور ان کا مرتبہ اور مقام

الخطيب البغدادی المتوفی 463 ھ اور حافظ يوسف المزی المتوفی 742 ھ لکھتے ہیں:

محمد بن ابی حاتم وراق بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے سنا ہے کہ اگر یہ لوگ میری بعض اسانید کو دیکھیں تو یہ نہیں سمجھ سکیں گے کہ میں نے کتاب التاریخ کو کیسے تصنیف کیا ہے میں نے اس کی تین بار تصنیف کی ہے۔

ابوحاتم وراق کہتے ہیں : میں نے امام بخاری سے سنا ہے کہ امام اسحاق بن راھویہ نے کتاب التاریخ لی اور عبداللہ بن طاہر کو دکھائی اور کہا: اے امیر کیا میں آپ کوسحر نہ دکھاؤں؟ عبد الله بن طاہر نے اس کتاب کو پڑھا اور تعجب سے کہا: میں نہیں سمجھتا ۔ کہ یہ اس لڑکےکی تصنیف ہوگی!

ابوالعباس بن سعد کہتے تھے اگر کوئی شخص تیس ہزار احادیث بھی لکھ لے تو ومحمد بن اسماعیل کی تصنیف کرده کتاب التاریخ سے مستغنی نہیں ہوگا۔

ابوبکر المدینی بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم نیشاپور میں امام اسحاق بن راھویہ کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے اور محمد بن اسماعیل بھی اس مجلس میں حاضر تھے امام اسحاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں سے کوئی حدیث پڑھ رہے تھے اس کی سند میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سے نیچے عطاءالکیخارانی کا ذکر تھا امام اسحاق نے کہا: اے ابو عبد اللہ! کیخاران کیا چیز ہے؟ امام بخاری نے کہا: یہ یمن کی ایک بستی ہے۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کو یمن کی طرف بھیجا تھا اس نے وہاں عطاء سے دو حدیثیں سنی تھیں تب امام اسحاق نے کہا: لگتا ہے تم ان لوگوں میں موجود تھے۔

ابراہیم بن معقل النسفی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوعبدالله محمد بن اسماعیل سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ میں امام اسحاق بن راھویہ کے پاس تھا تو انہوں نے ہمارے بعض اصحاب سے کہا: کاش تم لوگ ایک مخقر کتاب مدون کرو جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن کا ذکر ہو تو یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی اور میں اس کتاب یعنی” الجامع الصحيح کی تدوین میں شروع ہوگیا۔

السعدانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے بعض اصحاب سے یہ سنا ہے کہ امام محمد بن اسماعیل یہ کہتے تھے کہ میں نے اپنی اس کتاب الجامع الصحيح کو تقریبا چھ لاکھ احادیث سے منتخب کیا ہے اور اس کو سولہ سال میں مکمل کیا اور اس کو اپنے اور اللہ کے درمیان حجت بنایا۔ (تاریخ بغداد ج2 ص 9-14 تاریخ دمشق ج۵۵ ص۵۴ تہذیب الکمال ج16،ص۹۵)

ابراہیم بن معقل بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری سے سنا ہے کہ میں نے اپنی اس کتاب “الجامع الصحيح میں اسی حدیث کو داخل کیا ہے جو صحیح ہو اور میں نے طول سے بچنے کے لیے بہت سی احادیث صحیحہ کو ترک کردیا۔

محمد بن یوسف الفربری بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے امام محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: میں نے اس کتاب الجامع الصحيح میں ہر حدیث کو درج کرنے سے پہلے غسل کیا اور دو رکعت نماز پڑھی۔

عبد القدوس بن همام بیان کرتے ہیں کہ میں نے متعدد مشائخ سے سنا ہے کہ امام بخاری نے “الجامع الصحيح کے تراجم

(عنوانات) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور اور آپ کے مبارک منبر کے درمیان بیٹھ کر لکھے ہیں اور ہر ترجمہ (عنوان) لکھنے سے پہلے دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔

محمد بن يوسف الفربری بیان کرتے ہیں کہ میں نے محمد بن محمد جرجانی سے خوارزم میں سنا کہ میں نے خواب میں امام ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری کو دیکھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جارہے تھے وہ اپنا قدم وہیں رکھتے تھے جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم قدم رکھتے اور آپ کے قدم کے نشان پر اپنا قدم رکھتے تھے۔

محمد بن يوسف الفربری بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی آپ نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا: میں محمد بن اسماعیل بخاری کے پاس جارہا ہوں آپ نے فرمایا: میری طرف سے ان کو سلام کہنا۔ (تاریخ بغداد ج2 ص 7-10 تاریخ دمشق ص 53-58 تهذيب الكمال ج 16 ص 90-93)