امام بخاری کے مشائخ کے اسماء

* امام بخاری نے بخاری سے روانہ ہونے سے پہلے ان مشائخ سے حدیث کا سماع کیا۔

عبد الله بن محمد بن عبد الله بن جعفر بن الیمان الجعفی المسندی اور محمد بن سلام البیکندی اور ایک جماعت سے جو بڑے مشائخ میں نہیں تھے۔

بلخ میں ان مشائخ سے سامع حدیث کیا :

مکی بن ابراہیم اور وہ سب سے اعلی ہیں اور انہوں نے مرو میں عبدان بن عثمان اور علی بن لحسن بن شقیق اور صدقہ بن الفضل سے سماع کیا اور نیشاپور میں یحیی بن یحیی اور رے میں ابراہیم بن موسی سے سماع کیا۔

* ۲۱۰ھ میں عراق میں ان مشائخ سے سماع کیا:

محمد بن عیسی بن الطباع اور سریج بن النعمان اور محمد بن سابق سابق اور عفان –

+ بصرہ میں ان مشائخ سے سماع کیا:

ابو عاصم النبیل الانصاری اور عبد الرحمن بن حماد الشعیتی صاحب ابن عون اور محمد بن عرعرہ اور حجاج بن منہال اور بدل بين المحبر اور عبد اللہ بن رجاء اور متعدد سے سماع کیا ۔

* کوفہ میں ان مشائخ سے سماع کیا:

عبیداللہ بن موسی ابونعیم خالد بن مخلد طلق بن غنام اور خالد بن یزید المقری ، یہ وہ ہیں جنہوں نے حمزہ کے سامنے حدیث پڑھی۔

* اور مکہ میں ان مشائخ سے سماع کیا:

ابی عبدالرحمن ألمقری” خلاد بن یحیی حسان بن حسان البصري ابي الولید احمد بن محمد الازرقی اور الحمیدی۔

* اور مدینہ میں ان مشائچ نے سماع کیا۔

عبد العزیز اویسی ایوب بن سلیمان بن بلال اور اسماعیل بن ابی اویس۔

اور مصر میں ان مشایخ سماع کیا

سعید بن ابی مریم احمد بن اشکاب عبد اللہ بن یوسف اور اصبغ۔

اور شام میں ان مشائخ سے سماع کیا۔

ابوالیمان آدم بن ابی ایاس بن عیاش بشر بن شعیب ابوالمغیر ہ عبد القدوس احمد بن خالد الوہبی محمد بن يوسف الفريابي ابومسہر

اور ان کے علاوہ اور بہت سے۔

محمد بن ابوحاتم بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری نے اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے بتایا کہ میں نے ایک ہزار اسی (۱۰۸۰) مشائخ سے احادیث لکھی ہیں ان میں سے ایک کے سوا سب یہ کہتے تھے کہ ایمان قول او عمل ہے اور زیادہ ہوتا ہے اور کم ہوتا ہے۔

* امام بخاری کے اعلی شیوخ وہ ہیں جو تابعین سے روایت کرتے ہیں اور وہ یہ ہیں:

ابوعاصم الانصاری مکی بن ابراہیم عبید اللہ بن موسی ابوالمغیر ہ اور ان کی مثل دیگر۔

* ان کے اوساط شیوخ وہ ہیں جو اوزاعی سے روایت کرتے ہیں اور وہ یہ ہیں:

ابن ابي ذئب شعبہ شعیب بن ابوحمزہ اور الشوری۔

* پھر اس سے نچلے طبقے میں وہ ہیں جو اصحاب مالک کی مثل ہیں جیسے:

حماد بن زید اور ابی عوانہ۔

* اور چوتھے طبقہ میں وہ ہیں جو اصحاب ابن المبارک کی مثلل ہیں جیسے

ابن عیینہ ابن وہب اور ولید بن مسلم۔

* پھر پانچویں طبقہ کے مشائخ یہ ہیں:

محمد بن یحیی الزھلی اس سے انہوں نے بہت روایت کی ہے اور تدلیس کی ہے اور محمد بن عبد اللہ المخزمی محمد بن عبد الرحیم صاعقہ یہ ان کے معاصر ہیں اور ابو مسہر ان سے سماع مشکوک ہے اور غیر میچ میں انہوں نے کہا: ” حدثنا ابو مسهر يا حدثنا رجل عنه او روی عن احمد بن عبد الملك بن واقد الحرانی”۔

سیراعلام النبلاء ج 10 ص 278-279. تہذیب الکمال ج 16 ص 84-85 طبقات الشافعية الکبری ج1 ص 423-424 ھدی الساری ص 473-474 مع فتح الباری ج1 جا دارالمعرفہ بیروت)