أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ‌ۖ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَـبَّارٍ‌ۖ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ۞

ترجمہ:

ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ (کفار) کہہ رہے ہیں، اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں، پس آپ اس کو قرآن سے نصیحت فرمائیں جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہو

جبر کا معنی

قٓ: ٤٥ میں فرمایا : ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ (یہ کفار) کہہ رہے ہیں ‘ اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں ‘ پس آپ اس کو قرآن سے نصیحت فرمائیں جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتاہو۔

یعنی جو کفار آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کو برا کہتے ہیں ہم ان کی باتوں کو خوب جانتے ہیں اور آپ ان کو جبراً مومن اور مسلمان بنانے والے نہیں ہیں ‘ اس آیت کا حکم ٓیت جہاد نازل کرنے سے منسوخ ہوگیا ہے۔

اس آیت کی وضاحت درج ذیل آیت سے ہوتی ہے :

ومآ اھدیکم الا سبیل الرشاد (المؤمن : ٢٩) میں تو تمہیں صرف نیکی کا راستہ دکھارہا ہوں۔

اور رہا واقع میں تم کو نیک بنادینا ‘ اس پر میرا اختیار نہیں یہ صرف اللہ عزوجل کی قدرت میں ہے اور وہ بھی کسی کو جبراً مومن یا نیک نہیں بناتا ‘ انسان نیکی یا بدی میں سے جس چیز کو بھی اختیار کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس میں وہی چیز پیدا کردیتا ہے۔ اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا :

لست علیھم بمصیطر۔ (الغاشیہ : ٢٢) آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔

جبر کا معنی یہ ہے کہ انسان کی مرضی کے خلاف اپنے زور اور اپنی طاقت سے اس سے کوئی ایسا فعل صادر کرانا جس فعل کو وہ ناپسند کرتا ہو اور اس کو اپنے اختیار سے کرنا نہ چاہتا ہو۔

بعض صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! کاش ‘ آپ ہم کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں تو یہ آیت نازل ہوئی : پس آپ اس کو قرآن سے نصیحت فرمائیں جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہو۔ وعید عذاب کی خبر کو کہتے ہیں اور وعد ثواب کی خبر کو کہتے ہیں : قادہ یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! ہم کو ان لوگوں سے کردے جو تیری وعید سے ڈرتے ہوں اور تیرے وعد کی توقع رکھتے ہوں۔

سورۃ قٓ کا اختتام

الحمد للہ رب العلمین ! آج ٩ جمادی الثانیہ ١٤٢٥ ھ/٢٧ جولائی ٢٠٠٤ ء بہ روز منگل بعد نماز ظہر سورت قٓ کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ اس سورت کی تفسیر کی ابتداء ١١ جولائی ٢٠٠٤ ء کو ہوئی تھی ‘ سو اللہ تعالیٰ نے صرف سولہ دنوں میں اس سورست کی تفسیر کو مکمل کا دیا ‘ والحمد للہ ‘ اگرچہ اس کی تفسیر کے دوران کچھ ضعف اور مرض کی شدت کی وجہ سے کام میں تعطل بھی رہا۔

٧ جمادی الثانیہ ١٤٢٧ ھ کو میری امی کا انتقال ہوا تھا ‘ قارئیں سے التماس ہے کہ وہ ایک بار سورة فاتحہ اور تین بار سورة اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب میری امی کو پہنچا دیں اور ان کی مغفرت اور ان کے درجاتا کی بلندی کے لیے دعا کریں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ میری امی کی قبر کو ” روضۃ من ریاض الجنۃ “ (جنت کے باغوں میں سے ایک باغ) بنادے۔

الہٰ العلمین ! جس طرح آپ نییہاں تک پہنچا دیا ہے اپنے فضل و کرم سے باقی تفسیر کو بھی مکمل کردایں۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز ماشاء اللہ ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔

والحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبین وعلیٰ آلہ الطاھرین و اصحابہ الراشدین وعلی اولیاء امتہ وعلیٰ علماء ملتہ وامتہ اجمعین :

غلام رسول سعیدی غفرلہ

القرآن – سورۃ نمبر 50 ق آیت نمبر 45