استنباط مسائل میں تسامح

شروع میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ اس کتاب کی تدوین سے امام بخاری کا مقصد صرف احادیث کو جمع کرنا نہیں ہے بلکہ تراجم ابواب پر استدال میں بھی ان کے مقصد میں شامل ہے اور بشری تقاضا سے مسائل کے استنباط میں بھی امام بخاری سے غلطیاں واقع ہوئیں ہیں ۔ ہم یہاں پر بعض کی مثالیں پیش کرکے ان کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔

(1) امام بخاری نے سن “تقضي الحائض المناسك كلها الا الطواف‘‘ کے عنوان سے ایک باب ذکر کیا ہے اور اس کے تحت تعلیقا یہ حدیث لائے ہیں:

کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یذکر الله على كل احيانه. (صحیح بخاری ج 1 ص 44)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرحال میں اللہ تعالی کا ذکر کرتے تھے۔

اس حدیث کے لانے سے امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ جنبی شخص اور حائضہ عورت قرآن کریم کی تلاوت کر سکتے ہیں حالانکہ یہ بات شرعا ممنوع ہے چنانچہ علامہ عینی لکھتے ہیں:

اراد البخاری با براد هذا وبما ذكر في هذا الباب الاستدلال على جواز قراءة الجنب والحائض لان الذكر اعم من ان يكون بالقران او لغيره. ( عمدة القاری ج 3 ص 274)

اس حدیث کو لانے سے امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ جنبی شخص اور حائضہ عورت قرآن مجید کی تلاوت کر سکتے ہیں کیونکہ ذکر عام ہے اور قرآن اور غیرقرآن دونوں کو شامل ہے۔

اور حافظ ابن حجر اس باب کے تحت لکھتے ہیں:

ان مراده الاستدلال على جواز قراءة الحائض والجنب. (فتح الباری ج 1 ص 423 طبع مصر )

اس حدیث سے امام بخاری کی مراد حائض اور جنبی کی قرات قرآن پر استدال ہے۔

(۲) اذا شرب الكلب في الاناء ‘‘اس عنوان کے تحت امام بخاری نے متعدد احادیث ذکر کی ہیں ایک حدیث یہ ہے:

عن النبي صلى الله عليه وسلم ان رجلا رای کلبا ياكل الثرى من العطش فاخذ الرجل خفه فجعل يغرف له به حتی ارواه فشكر الله له فادخله الله الجنة. (صحیح بخاری ج 1 ص 29 طبع کراچی)

رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ ایک شخص نے دیکھا کہ ایک کتا کچڑ چاٹ رہا ہے اس نے اپنے موزہ میں پانی بھر کر اس کو

چلو سے پانی پلایا حتی کہ اس کو سیراب کر دیا تو اللہ نے اس کے اس فعل کی مدد کی اور اس کو جنت میں داخل کر دیا۔

اس حدیث میں امام بخاری نے ثابت کیا ہے کہ کتے کا جھوٹا پاک ہے چنانچہ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:

استدل به المصنف على طهارة سور الكلب.(فتح الباری ج 1 ص ۸۹، طبع مصر )

مصنف نے اس حدیث سے کتے کے جھوٹے کی طہارت پر استدلال کیا ہے۔

اسی باب میں ایک اور حدیث ذکر کی ہے:

كانت الكلاب تبول وتقبل وتدبر في المسجد في زمان رسول الله صلی الله عليه وسلم فلم يكونوایرشون من ذالك.

عہد رسالت میں کتے مسجد میں آجایا کرتے تھے اور بسا اوقات وہ مسجد میں پیشاب بھی کر دیا کرتے تھے اور صحابہ اس پر پانی نہیں ڈالتے تھے ۔

(صحیح بخاری ج 1 ص ۲۹، طبع کراچی)

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: یہ ابتدائی دور کی بات ہے جب مسجد میں دروازے نہ تھے اور بعد میں مسجد کی تطہیر و تکریم کا حکم وارد ہوا اور مسجد میں دروازے لگائے گئے تاہم زمین پر اگر پیشاب گرجائے اور دھوپ سے وہ خشک ہو جائے تو زمین پاک ہوجاتی ہے اور ان کے نہ دھونے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ زمین کی پاکیزگی کے لیے دھونا ضروری نہیں ہے۔ زمین خشک ہونے سے بھی پاک ہوجاتی ہے اور یہی احناف کامذہب ہے لیکن امام بخاری نے اس حدیث سے کیا ثابت کیا اور کون سافقہی مسئلہ مستنبط کیا ہے یہ حافظ بدر الدین عینی سے سنیے فرماتے ہیں:

احتج به البخاري على طهارة بول الكلب.(عمدة القاری ج 3 ص 44 طبع مصر)

اس حدیث سے امام بخاری نے کتے کے پیشاب کی طہارت پر استدلال کیا ہے۔