تراجم ابواب

صحیح بخاری کے تراجم ابواب اپنی وقت اور خفاء کے اعتبار سے مشہور ہیں ۔ علامہ ابن خلدون نے کہا ہے کہ احادیث کی تراجم ابواب سے مطابقت امام بخاری کا امت مسلمہ پر قرض ہے لیکن حق یہ ہے کہ علامہ بدرالدین عینی اور حافظ ابن حجر نے بڑی حد تک یہ قرض اتار دیاہے۔

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ بسا اوقات امام بخاری ترجمۃ الباب میں دو چیزوں کا ذکر کرتے ہیں اور حدیث میں فقط ایک کا ذکر ہوتا ہے ایسی صورت میں ترجمہ کی حدیث سے دلالت تضمنی کے اعتبار سے مطابقت ہوتی ہے اور بعض مرتبہ ترجمہ میں حکم عام ہوتا ہے اور حدیث میں کسی خاص صورت کا بیان ہوتا ہے اور کبھی حدیث متعدد امورکی متحمل ہوتی ہے اور ترجمہ میں ان محتملات میں کسی ایک کا تعین ہوتا ہے اور کبھی ترجمة الباب اور حدیث میں علت مشترکہ ہوتی ہے مثلا امام بخاری نے ایک باب” في كم تقصر الصلوة” کے عنوان سے قائم کیا اور اس کے تحت یہ حدیث لائے: عن ابن عمر لا تسافر المراة ثلاثة ايام الامع ذي محرم” بہ ظاہر ترجمہ اور حدیث میں کوئی مطابقت نہیں ہے کیونکہ عنوان ہے: کتنی مدت میں نماز قصر کی جائے اور حدیث میں عورت کو تین دن سے زیادہ بغیر محرم کے سفر سے منع کیا گیا ہے لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کے مطابق سفر شرعی تین دن ہے لہذا نماز کی قصر میں بھی تین دن کی مسافت کا اعتبار ہوگا۔ ان تمام باریکیوں تک پہنچنے کے باوجود بعض ایسے مقامات ہیں جہاں ترجمة الباب کی حدیث سے مطابقت تمام فہم و ادراک سے باہر ہے مثلا ایک جگہ امام بخاری لکھتے ہیں: “باب طول القيام في صلوة الليل “”اور اس کے تحت حدیث لائے ہیں:”عن حذيفة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا قام للتهجد من الليل يشوص فاه بالسواك ‘اسی طرح ایک جگہ لکھا ہے:”باب اذا فاته العيد يصلي ركعتين و كذلك النساء ومن كان في البيوت والقرى”.

اور اس کے تحت یہ حدیث لائے ہیں:” عن عائشة أن أبا بكر دخل عليها و عندها جاريتان في ايام منی تدفان وتضربان و النبي صلى الله عليه و سلم متغش بشوبه فانتهرهما ابو بكر فكشف النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن وجھہ فقال دعهمایا ابا بكر فانها ایام عید وتلك الأيام ایام منی” پہلی مثال میں باب رات کو طویل قیام کا ہے اور حدیث میں مسواک کرنے کا ذکر ہے اور دوسری مثال میں باب نماز عید کی قضا کا ہے اور حدیث میں لڑکیوں کے دف بجانے کا ذکر ہے اس قسم کی صحیح بخاری میں کافی مثالیں ہیں اور ان کی مطابقت معلوم کرنا امت مسلمہ پر امام بخاری کا بہرحال قرض باقی ہے۔