متن حدیث میں تسامع

سند حدیث کے علاوہ اس نفس حدیث کے متن میں بھی امام بخاری سے کافی تسامح واقع ہوئے ۔ سطور ذیل میں ان میں سے بعض غلطیوں کا ذکر کیا جاتا ہے:

(1) کتاب الزکوۃ میں امام بخاری نے ایک حدیث واردکی ہے

عن عائشة أن بعض ازواج النبي صلى الله عليه و سلم قلن للنبي صلى الله عليه وسلم اینا اسرع بك لحوقا قال اطولكن یدا فاخذوا قصبة يذرعونها فكانت سودة اطولهن يدا فعلمنا بعد انما كانت طول يدها الصدقة و كانت اسرعنا لحوقا به صلی الله عليه و سلم و كانت تحب الصدقة.(صحیح بخاری ج 1 ص 191،کراچی)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے آپ سے عرض کیا کہ حضور! آپ کی ازواج میں سے کون سب سے پہلے آپ کے ساتھ واصل ہوگی؟ فرمایا: جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے یہ سن کر سب اپنے اپنے ہاتھ ماپنے لگیں اور ان میں لمبے ہاتھ سودہ کے تھے اور بعد میں ہم کومعلوم ہوا کہ ہاتھوں کی لمبائی سے صدقہ مراد ہے اور سودہ کا سب سے پہلے انتقال ہوا اور وہ صدقہ سے محبت رکھتی تھیں۔

 

اس حدیث کے جمله “كانت اسرعنا لحوقا به ‘‘میں” كانت‘‘ کی ضمیر سودہ کی طرف راجع ہے جس کا مفاد یہی ہے کہ آپ بعد ازواج میں سب سے پہلے سودہ کا وصال ہوا اور یہ بات تمام اصحاب سیر اور ارباب تاریخ کی شہادت سے قطعا باطل ہے کیونکہ آپ کے بعد سب سے پہلے حضرت زینب بنت حجش که ۲۰ھ میں وصال ہوا اور حضرت سودہ کا وصال تو اس کے بہت بعد 54ھ میں ہوا ہے۔ ( عمدة القاری ج ۸ ص 282 طبع مصر) اس حدیث میں راوی سے زینب کا لفظ چھوٹ گیا ہے۔ عبارت یوں ہونی چاہیے تھی: “وكانت زینب اسرع لحوقا به صحیح مسلم میں یہ جملہ اس طرح ہے: “وكانت زينب اطول یدا لانها كانت تعمل وتتصدق‘‘ – بہرحال یہ امام بخاری کا کام تھا کہ وہ اس راوی کی روایت کو اپنی صحیح میں درج کرتے جس کی روایت میں یہ تاریخی غلطی نہیں ہوئی جیسا کہ امام مسلم نے کیا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی ایک طویل بحث کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ اس روایت میں ابوعوانہ کو وہم ہوا ہے۔ (فتح الباری ج ۴ ص۳۰)

(۲) “باب احداد المراة على غير زوجها‘‘ کے تحت امام بخاری نے یہ حدیث وارد کی ہے:

عن زينب بنت ابی سلمة قالت لما جاء نعی ابی سفیان من الشام دعت ام حبيبة بصفرة في اليوم الثالث فمسحت عارضیها وذراعيها. الحديث (صحیح بخاری ج 1 ص 10 طبع کراچی)

زینب بنت سلمہ کا بیان ہے کہ جب شام سے حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر آئی تو حضرت ام حبیبہ نے تین دن کے بعد سوگ ختم کردیا۔

اس حدیث میں امام بخاری نے یہ بیان کیا ہے کہ ابوسفیان کی وفات کی اطلاع شام سے آئی تھی حالانکہ یہ بات تاریخی طور پر قطعا غلط ہے کیونکہ باتفاق مؤرخین ابوسفیان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا تھا چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

وفي قوله من الشام نظر لان أبا سفيان مات بالمدينة بلا خلاف بين أهل العلم با لاخبار والجمهور على انه مات اثنتين وثلاثين وقيل سنة ثلاث وله في شبی من طرق هذا الحديث تقييده بذلك الا في رواية سفيان بن عيينة هذه واظنها و هما .

اس روایت میں شام کے لفظ پر اعتراض ہے کیونکہ مورخین میں سے کسی کا اس بات پر اختلاف نہیں ہے کہ ابوسفیان کا انتقال مدینہ میں ۳۲ھ یا ۳۳ھ میں ہوا تھا اور اس واقعہ میں شام کی قید میں نے سفیان بن عیینہ کی روایت کے سوا اور کہیں نہیں دیکھی اور میرا گمان یہ ہے کہ یہ راوی کا وہم ہے۔ فتح الباری ج ۳ ص 388 طبع مصر)

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کو درج کرنے میں امام بخاری نے کامل غوروخوض اور تحقیق وتتبع سے کام نہیں لیا۔

(3) “فضل من شهد بدر‘‘ اور غزوة الرجیع میں امام بخاری نے ایک طویل حدیث میں فرمایا: “وقتل خبيب هو قتل الحارث بن عامر بن نوفل يوم بدر “ یعنی خبیب نے جنگ بدر میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا اس جگہ بھی امام بخاری نے سخت مغالطہ کھایا ہے کیونکہ خبیب نام کے دو شخص ہیں خبیب بن عدی اور خبیب بن اساف اور تمام تر اہل مغازی کا اتفاق ہے کہ جس شخص نے جنگ بدر میں حارث بن عامر کوقتل کیا تھا وہ خبیب بن اساف ہیں اور امام بخاری نے حدیث میں جس خبیب کا واقعہ ذکر کیا ہے جن کو مشرکین نے گرفتار کر کے مکہ میں سولی دے دی تھی وہ خبیب بن عدی ہیں اور خبیب بن عدی نہ تو غزوہ بدر میں شریک ہوئے نہ انہوں نے حارث کوقتل کیا لہذا ان کے بارے میں امام بخاری کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ خبیب نے حارث کوقتل کیا تھا چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

ان اهل المغازی لم يذكر احد منهم أن خبيب بن عدى شهد بدرا ولا قتل الحارث بن عامر وانما ذكروا أن الذي قتل الحارث بن عامر بیدر خبیب بن اساف وهو خبیب بن عدى وهو خزرجی وخبیب بن عدی اوسی. (فتح الباری ج۸ ص ۳۸۴)

ابل مغازی میں سے کسی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ خبیب بن عدی جنگ بدر میں حاضر ہوئے اور نہ ہی انہوں نے حارث کو کیا تھا۔ انہوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ جس شخص نے حارث کوقتل کیا وہ خبیب بن اساف تھے اور اس واقعہ میں جس کا ذکر ہے وہ خبیب بن عدی ہیں اور خبیب بن عدی قبیلہ اوس کے ہیں اور خبیب بن اسان قبیلہ خزرج کے۔

یہی اعتراض علامہ بدرالدین عینی نے بھی عمدة القاری شرح بخاری ج 1 ص ۱۰۰پرذکر کیا ہے۔

(4) باب مناقب عثمان‘‘ میں امام بخاری نے ایک حدیث وارد کی ہے جس میں ذکر ہے:

ثم دعا عليا فامره ان يجلد فجلده ثمانين. (صحیح بخاری ج ا ص 522)

پھر حضرت عثمان نے حضرت علی کو بلا کر کوڑے لگانے کا حکم دیا توانہوں نے اس کو اسی کوڑے لگائے۔

امام بخاری نے اس روایت میں اسی کوڑے مارنے کا ذکر کیا ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ حضرت علی نے چالیس کوڑے مارے تھے چنانچہ ابن حجر فرماتے ہیں:

في رواية معمر فجلد الوليد اربعین جلدة وهذه الرواية اصح من رواية يونس و الوهم فيه من الراوي. (فتح الباری ج۸ ص ۵۷،طبع مصر)

معمر کی روایت میں ہے کہ ولید کو چالیس کوڑے لگائے گئے

اور صحیح تر روایت یہی ہے اور اس روایت میں راوی کو وہم لاحق ہوا ہے۔

حافظ بدرالدین عینی بھی ( عمدة القاری ج16 ص ۲۰۴ میں) یہی فرماتے ہیں۔

(۵) باب ما ذكر في الاسواق‘‘ کے تحت امام بخاری نے مذکور ذیل حدیث وارد کی ہے

عن ابي هريرة الدوسی قال خرج النبي صلی الله عليه وسلم في طائفة النهار لا يكلمني ولا اكلمه حتی اتی سوق بنی قینقاع فجلس بفنا بيت فاطمة الحديث.(صحیح بخاری ج 1 ص 285 )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت باہر نکلے اور آپ مجھ سے کلام فرماتے اور نہ میں نے آپ سے کلام کیا یہاں تک کہ آپ بنوقينقاع کے بازار میں آئے اور حضرت فاطمہ کے گھر کے صحن میں جا کر بیٹھ گئے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ کا گھر بنی قینقاع کے بازار میں تھا حالانکہ فی الواقع ایسا نہیں تھا بلکہ ان کا مکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے مکانوں کے درمیان تھا۔ ناقل کو اس روایت میں وہم ہوا ہے۔

صحیح مسلم کی روایت میں وہم نہیں ہے اس میں اس طرح ہے: “حتى جاء سوق بنی قینقاع ثم انصرف حتى اتي فناء فاطمة “یعنی حضور بنو قینقاع کے بازار تشریف لاۓ پھر واپس تشریف لے گئے حتی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے صحن میں داخل ہوۓ چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

قال الداو دی سقط بعض الحديث عنالناقل او ادخل حديثا في حديث لان بيت فاطمة ليس في سوق بنی قینقاع انتهى وما ذكره اولا احتمالا هو الواقع. (فتح الباری ج 5 ص۲۴۴)

داؤدی نے کہا کہ ناقل سے حدیث کے بعض الفاظ ساقط ہوگئے یا اس نے ایک حدیث کو دوسری میں داخل کر دیا کیونکہ حضرت فاطمہ کا مکان بنو قینقاع کے بازار میں نہیں تھا۔ علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ داؤدی نے جو پہلا احتمال ذکر کیا ہے (یعنی ناقل بعض الفاظ ساقط ہو گئے ہیں اصل میں وہی واقعہ ہے۔

مزید تفصیل کے لیے عمدة القاری ج 11 ص 239 ملاحظه فرمائیں۔