أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ‏۞

ترجمہ:

پھر رزق کو تقسیم کرنے والے فرشتوں کی قسم

مشکل الفاظ کے معانی

امام الحسین بن مسعود بغوی متوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

” فالمقسمت امرا۔ “ وہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق چیزوں کو مخلوق کے درمیان تقسیم کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی قسم اس لیے کھائی کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی صفت اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں اور اس قسم کا جواب ان آیات میں ہے :

” انما توعدون لصادق۔ “ یعنی تم سے جو ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے اور گناہ گاروں کو جو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے وہ وعدہ اور وعید سچا ہے۔

” وان لدین لواقع۔ “ یعنی قیامت کے دن میدان حشر میں ضرور حساب و کتاب ہوگا۔ (معالم التنزیل ج ٤ ص ٢٨١۔ ٢٨٠‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

حافظ اسماعیل بن عمرو بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

ابو الطفیل بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے کوفہ میں منبر پر چڑھ کر فرمایا : تم مجھ سے اللہ کی کتاب کی جس آیت کے متعلق یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جس سنت کے متعلق سوال کرو گے میں تم کو اس کی خبردوں گا ‘ تب ابن الکواء نے کھڑے ہو کہا : اے امیر المؤ منین ! اس آیت کا کیا معنی ہے :” والذریت ذروا۔ “ ؟ آپ نے فرمایا : اس کا معنی ہے : آندھی ‘ اس نے کہا :” فالحملت وقرا۔ “ کا کیا معنی ہے ‘ آپ نے فرمایا : اس کا معنی ہے : بادل ‘ اس نے کہا :” فالجریت یسرا۔ “ کا کیا معنی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کا معنی ہے : کشتایں۔ اس نے کہا :” فالمسمت امرا۔ “ اس کا کیا معنی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کا معنی ہے : فرشتے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٥٤‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

ان آیات کی یہ تفسیر حدیث مرفوع سے بھی ثابت ہے ‘ اس کی تفصیل یہ ہے :

امام بزار اپنی سند کے ساتھ صبیغ تمیمی سے روایت کرتے ہیں :

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ صبیغ تمیمی حضرت عمر بن الخطاب کے پاس گیا اور کہا : یہ بتائیے :” الذریت ذروا۔ “ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : آندھیاں ہیں اور اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کو نہ سنا ہوتا تو میں تم کو نہ بتاتا ‘ اس نے کہا : اچھا بتائیے :” فالحملت وقرا۔ “ سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ بادل ہیں اور اگر میں نے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ سنا ہوتا تو میں تم کو نہ بتایا ‘ اس نے کہا : اچھا یہ بتائیے کہ ” فالجریت یسرا۔ “ سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ کشتیاں ہیں اور اگر میں نے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ سنا ہوتا تو میں تم کو نہ بتاتا ‘ اس نے کہا : اچھا ” فالمقسمت امرا۔ “ سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس سے مراد فرشتے ہیں اور اگر میں نے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ سنا ہوتا تو میں تم کو نہ بتاتا ‘(پھر حضرت عمر نے اپنی فراست سے جان لیا کہ اس شخص میں خبث باطن ہے اور یہ عناداً سوال کررہا ہے اس لیے) آپ نے حکم دیا کہ اس کو سو درے مارے جائیں اور اس کو ایک کو ٹھڑی میں قید کردیا جائے ‘ پھر جب اس کے مارے کے زخم ٹھیک ہوگئے تو پھر اس کو سو درے مارنے کا حکم دیا اور اس کو اونٹ کے کجاوے پر سوار کرا کر انکال دیا اور حضرت ابو موسیٰ اعشری کی طرف لکھا کہ لوگوں کو اس سے بات کرنے سے منع کردیں ‘ پھر ایک عرصہ تک یونہی رہا ‘ حتیٰ کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے لکھا کہ اب اس نے بہت پکی قسمیں کھا کر کہا کہ اب اس کے دل میں کوئی بغض اور عناد نہیں ہے ‘ تب حضرت عمر نے ان کی طرف لکھا کہ میرا گمان ہے کہ اب اس کے دل میں کوئی عناد نہیں رہا ‘ اب لوگوں کو اس سے بات کرنے کی اجازت دے دو ۔

امام بزار نے کہا : اس سند کے علاوہ ہمیں اور کسی طریقہ سے اس حدیث کا علم نہیں ہے اور اس سند میں ایک راوی ابو بکرہ بن ابی سبرہ ہے اور وہ ضعیف راوی ہے اور اس کا ایک راوی سعید بن سلام العطار رہے ‘ وہ اصحاب الحدیث میں سے نہیں ہے اور ہم پہلے اس کی علت بیان کرچکے ہیں اور اس سند کے علاوہ اور کسی سند سے ہمیں اس حدیث کا علم نہیں ہے۔ (کشف الاستار عن زوائد البز اور ج ٣ ص ٧٠۔ رقم الحدیث : ٢٢٥٩‘ مؤسسۃ الرسالۃ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

امام بزار کے حوالہ سے اس حدیث اور اس کے ضعف کو حافظ ابن عسا کر متوفی ٥٧١ ھ (تاریخ دمشق ج ٢٥ ص ٢٧٩) اور حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ ( تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٥٤) نے بھی بیان کیا ہے۔

اور تم کو خیر و شر اور ثواب و عذاب کی جو خبریں دی گئیں ہیں وہ ضرور صادق ہیں اور قیامت کے دن حساب و کتاب ضرور ہوگا۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 4