حدیث نمبر 744

روایت ہے حضرت ابن عباس سےفرماتے ہیں کہ ایسا کبھی نہ ہوا کہ ہوا چلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنوں شریف پر بیٹھ کر یہ نہ کہیں ۱؎ کہ الٰہی اسے رحمت بنا اسے عذاب نہ بنا الٰہی اسےریاح بنا ریح نہ بناحضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اﷲ کی کتاب میں ہے کہ ہم نے ان پر تیز ہوا(آندھی)بھیجی اور ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی اور ہم نے حاملہ ہوائیں بھیجیں اور یہ کہ خوشخبریاں دینے والی ہوائیں بھیجیں۲؎(شافعی،بیہقی،دعوات کبیر)

شرح

۱؎ دونوں پنڈلیاں بچھاکر رانوں پرکھڑے ہوکر یہ فرماتے تھے اس طرح بیٹھناانتہائی عجز کا اظہار ہے،خصوصی دعاؤں کے وقت ایسی نشست قبولیت کا ذریعہ ہے۔

۲؎ حضرت ابن عباس نے اس حدیث کی شرح قرآنی آیات سے فرمائی کہ قرآن کریم میں ریح تو عذاب کی ہوا کو کہا گیا ہے اور ریاح رحمت کی ہوا کو اس لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ریح نہ بنا،ریاح بنا۔خیال رہے کہ قرآن کریم میں ریح کو رحمت کی ہوا بھی کہا گیا ہے مگرکسی صفت کے ساتھ،جیسے رب کا فرمان:”وَجَرَیۡنَ بِہِمۡ بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ”۔