حدیث نمبر 745

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان پرکوئی شےیعنی بادل نمودار دیکھتے تو اپنے کام کاج چھوڑ دیتے اور ادھرمتوجہ ہوجاتے ۱؎ اورکہتے الٰہی جو کچھ اس میں ہے اس کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر اگرکھل جاتا تو اﷲ کا شکر کرتے اور اگر بارش ہوتی تو کہتے الٰہی اسے نفع بخش بارش بنا ۲؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،شافعی)لفظ شافعی کے ہیں۔

شرح

۱؎ یعنی غیرضروری کام چھوڑ دیتے جیسےکھانا پینا،کسی سےبات چیت۔یہ مطلب نہیں کہ نماز وغیرہ عبادات چھوڑ دیتے۔اس سےمعلوم ہوا کہ دعا کے وقت تمام الجھنوں سے دل کا فارغ ہونا بہت مفیدہے اگرچہ مشغولیت میں بھی دعائیں اچھی ہیں۔

۲؎ یعنی اگر بغیر بارش ہوئے بادل پھٹ کر غائب ہوجاتا تو بارش نہ ہونے پرنہیں بلکہ مصیبت نہ آنے پر شکر کرتے اور اگر برسنے لگتا تو یہ دعا فرماتے۔اب بھی یہ دعائیں یادکرنی چاہئیں اور ان موقعوں پر پڑھنی چاہئیں۔