أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُتِلَ الۡخَـرّٰصُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اٹکل بچو سے باتیں کرنے والے ہلاک کردیئے جائیں

” الخراصون “ کا معنی اور اللہ تعالیٰ کے دعائیہ کلام کی توجیہ

الذریت : ١٠ میں فرمایا : اٹکل بچو سے باتیں کرنے والے ہلاک کردیئے جائیں۔

اٹکل بچو سے باتیں کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کو جنات میں سے کوئی شخص فرشتوں سے کوئی ایک غیب کی بات سن لیتا ‘ پھر وہ ان لوگوں کو وہ بات بتاتا اور وہ اس ایک بات کے ساتھ کئی جھوٹی باتیں ملا کر لوگوں کو بتاتے ‘ ان کو کاہن کا جاتا تھا ‘ یہ تک بندی اور اندازے سے مستقبل کے متعلق پیشین گوئیاں کرتے تھے ‘ یہ جھوٹے لوگ تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کو ہلاک کردیا جائے ‘ یہ زجرو توبیخ اور ملام تکا کلمہ ہے ‘ یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زیندہ نہیں کیا جائے گا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کو قتل کردیا جائے ‘ یعنی ان کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے قتل کردیا جائے اور بعض مفسرین نے کہا : ان پر لعنت کردی جائے یعنی یہ اللہ عتالیٰ کی رحمت سے بالکلیہ دور ہیں ” اور ” الخر اصون “ کا معنی ہے : جو بغیر علم کے محض اندازے اور اٹکل بچو۔ باتیں کرتے ہیں ‘ یہ وہ لوگ ہیں جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مجنون ‘ کذاب ‘ ساحر اور شاعروغیرہ کہتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا : ان کو قتل کردیا جائے یہ دعائیہ کلمہ ہے ‘ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعلایٰ ان کے خلاف قتل اور ہلاکت کی دعا کررہا ہے ‘ بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے لاف ہلاکت کی دعا کرنی چاہیے یا اس میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ کہیں ” قتل الخراصون “ یعنی اٹکل بچو سے باتیں کرنے وال ہلاک کردیئے جائیں یا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قہرہ غضب میں ہلاک کردیئے گئے ہیں یا یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کردی گئی ہے۔ یہ تمام تو جیہات اس لیے کی گئی ہیں کہ یہ اعتراض نہ ہو کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے خلاف دعا کی ہے کہ ان کو ہلاک کردیا جائے ‘ حالانکہ دعا وہ شخص کرتا ہے جو خود عاجز ہو اور اللہ تعالیٰ تو قادر اور قدیر ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 10