أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَبِالۡاَسۡحَارِ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور رات کے پچھلے پہر مغفرت طلب کرتے تھے

سحر کے وقت مغفرت طلب کرنے کی فضیلت

الذریت : ١٨ میں فرمایا : اور رات کے پچھلے پہر مغفرت طلب کرتے تھے۔

اس آیت میں متقین کی ایک اور صفت مدح بیان فرمائی ہے کہ وہ رات کے پچھلے پہر اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں۔

حسن بصری نے کہا : رات کے پچھلے پہر سحر کے وقت دعا کا مقبول ہونازیادہ متوقع ہوتا ہے۔

حضرت ابن عمر اور مجاہد نے کہا : وہ سحر کے وقت نماز پڑھتے ہیں اس لیے ان کی نماز کو استغفار کہا جاتا ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ وہ تہجد کے وقت اٹھ کر نماز پڑھتے ہیں پھر اس نماز کو دراز کرکے سحر کے وقت تک پڑھتے رہتے ہیں۔

ابن وہب نے کہا : یہ آیت انصار کے متعلق نازل ہوئی ہے وہ صبح کے وقت قباء سے روانہ ہوتے ہیں اور مدینہ منورہ پہنچ کر مسجد نبوی میں صبح کی نماز پڑھتے ہیں ‘ ضحاک نے کہا : اس سے مراد فجر کی نماز ہے۔

ابن زیدنے کہا : اس سے مراد رات کا آخری چھٹا حصہ ہے ‘ جیسا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی نماز کے بیان میں گزر چکا ہے۔

احنف بن قیس نے کہا : میں نے اپنے اعمال کا اہل جنت کے اعمال سے تقابل کیا تو میں نے دیکھا ‘ ہمارے اعمال اور ان کے اعمال میں بہت فرق ہے اور ہم ان کے اعمال تک نہیں پہنچ سکتے اور میں نے اپنے اعمال کا دوزخیوں کے اعمال سے تقابل کیا تو میں نے دیکھا کہ ان کے اعمال میں کوئی خیر نہیں ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ ‘ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ اللہ کی کتاب اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کی تکذیب اور انکار کرتے ہیں اور میں نے دیکھا کہ ہم میں سب سے اچھا مرتبہ اس مسلمان کا ہے جس کے کچھ اعمال نیک ہوں اور کچھ اعمال برے ہوں۔ (الکشف والبیان ج ٩ ص ١١٢‘ النکت والعیون ج ٥ ص ٣٦٦۔ ٣٦٥ )

اس سے پہلے ہم رات کے آخری حصہ میں نماز پڑھنے کی فضیلت میں احادیث کو بیان کرچکے ہیں ‘ اب ہم چند احادیث بیان کر رہے ہیں ‘ جن میں رات کو نماز نہ پڑھنے والوں کے متعلق وعید ہے۔

صبح تک سونے والے کی مذمت میں احادیث

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کسی ایک شخص کے رات کو سوتے وقت اس کے سر کے پیچھے گدی پر شیطان تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک دیتا ہے کہ رات بہت لمبی ہے تم سوتے رہو ‘ پھر اگر وہ بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ وضو کرتا ہے تو اس کی دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اس کی تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے پھر وہ صبح کو تروتازہ اور خوش و خرم ہوتا ہے ‘ ورنہ وہ صبح کو خبیث النفس ‘ سستی اور نحوست کا مارا ہوا ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٧٦‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٦٠٧)

حضرت سمرہ بن جند ب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خواب اور اس کی تعبیر کے بیان میں فرمایا : رہا وہ شخص جس کے سر کو پتھر سے توڑا جارہا تھا ‘ یہ وہ شخص تھا جو قرآن کا علم حاصل کرتا تھا اور اس پر عمل کرنے کو ترک کرتا تھا اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جاتا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٣‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٢٩٤‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٦٥٩۔ ٦٥٥ )

حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح تک سو یا رہتا ہے اور نماز پڑھنے کے لیے نہیں اٹھتا ‘ آپ نے فرمایا : شیطان اس کے کان میں پیشاب کردیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٧٤‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٦٠٧ٔ‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣٣٠)

رات بھر سونے والے کے کان میں شیطان کے پیشاب کرنے کی توجیہات

حافظ احمد علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ رات پھر سونے والے کے کان میں شیطان پیشاب کردیتا ہے ‘ اس میں اختلاف ہے کہ اس پیشاب سے حقیقت سے مراد ہے یا مجاز ‘ علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ اس جگہ حقیقت مراد لینے سے کوئی مانع نہیں ہے اور یہ محال نہیں ہے ‘ کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ شیطان کھاتا بھی ہے اور پیتا بھی ہے اور جماع بھی کرتا ہے تو اس کے پیشاب کرنے سے کوئی مانع نہیں ہے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ شیطان کا پیشاب کرنا سونے والے کو نماز سے روکنے سے کنایہ ہے اور اس کے کان میں ایسی ڈاٹ لگاتا ہے تاکہ وہ اللہ کا ذکر نہ سن سکے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ یہ اس سے کنایہ ہے کہ شیطان اس کے کان میں باطل چیزوں کی لذت بھر دیتا ہے حتیٰ کہ وہ لذت اذان کے سننے سے مانع ہوتی ہے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ شیطان کا اس کے کان میں پیشاب کرنا اس سے کنایہ ہے کہ شیطان اس کی توہین کرتا ہے اور اس کو بہت حقیر جانتا ہے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ یہ اس سے کنایہ ہے کہ شیطان اس پر غالب ہوتا ہے اور اس کا استخفاف کرتا ہے حتی کہ اس کے کان کو اپنا بیت الخلاء بنا لیتا ہے ‘ کیونکہ کسی چیز کے استخفاف کی علامت یہ ہے کہ اس پر پیشاب کردیا جائے۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو شخص نماز کے لیے اٹھنے سے غافل ہے وہ اس شخص کی مثل ہے جس کے کان میں پیشاب کردیا گیا ہو گو یا اس کے کان کی حس سماعت فاسد ہوگئی ہے اور عرب کسی چیز کے فساد کو اس پر پیشاب کیے جانے سے تعبیر کرتے ہیں۔

حضرت ابن مسعود نے فرمایا : کسی شخص کے کے ناکام اور اس کے برے ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ صبح تک سوتا رہے اور شیطان اس کے کان میں پیشاب کرچکا ہو۔

علامہ طیبی نے کہا کہ کان کا خصوصیت سے ذکر فرمایا ہے ‘ حالانکہ سونے کا تعلق آنکھوں سے ہے ‘ کیونکہ انسان کسی چیز کی آواز سن کر بیدار ہوتا ہے اور کان میں پیشاب کرنے کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ وہ کان میں آسانی کے ساتھ داخل ہوسکتا ہے اور اس کے اثر سے تمام اعضاء میں سستی پیدا ہوتی ہے۔

طلب مغفرت کے لیے وقت سحر کی خصوصیت

سحر کے وقت استغفار کرنے کی فضیلت میں یہ آیت بھی ہے :

الصبرین والصدقین والقنتین والمنفقین والمستغفرین بالاسحار۔ (آل عمران : ١٧) صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور (اللہ کی) اطاعت کرنے والے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور سحر کے وقت استغفار کرنے والے۔

طلوع فجر سے پہلے جو وقت ہوتا ہے اس کو سحر کہتے ہیں ‘ روزہ رکھنے سے پہلے اسی وقت کھانا کھایا جاتا ہے اس کو سحری کہتے ہیں ‘ اور اس وقت استغفار کرنے کی فضیلت کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) رات کی ظلمت کے بعد اس وقت صبح کا نور طلوع ہوتا ہے ‘ اسی طرح سو یا ہوا انسان بہ منزلہ مردہ ہوتا ہے اور اس وقت اس میں نئی زندگی آتی ہے اور جس طرح اس وقت اس جہان میں نور کا ظہور ہوتا ہے اسی طرح اس وقت انسان کی دل میں معرفت کا نور پیدا ہوتا ہے۔

(٢) سحر کے وقت انسان کو بہت میٹھی نیند آتی ہے اور جب انسان نیند کی لذت کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کی عبادت بہت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے۔

(٣) اس وقت بالکل سناٹا اور تنہائی ہوتی ہے اور ایسے میں بندہ جو عبادت اور استغفار کرتا ہے اس میں کامل اخلاص ہوتا ہے اور ریا کا شائبہ بھی نہیں ہوتا۔

سحر کے وقت استغفار کے متعلق احادیث اور آثار

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے سحر کے وقت استغفار کرنے کے متعلق حسب ذیل آثار ذکر کیے ہیں :

ابراہیم بن حاطب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سحر کے وقت مسجد کے ایک کونے میں کسی شخص کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا : اے میرے رب ! تو نے مجھے حکم دیا تو میں نے تیری اطاعت کی اور یہ سحر کا وقت ہے ‘ سو تو میری مغفرت فرما ‘ پھر میں نے دیکھا تو وہ حضرت ابن مسعود (رض) تھے۔

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مر (رض) رات کو عبادت کرتے تھے اور نماز پڑھتے رہتے تھے ‘ پھر پوچھتے : اے نافع ! کیا سحر ہوگئی ہے ؟ میں کہتا : نہیں ! تو پھر نماز پڑھنے میں مشغول ہوجاتے ‘ اور جب میں کہتا : ہاں ! تو پھر وہ بیٹھ کر استعفار کرتے اور مغفرت کی دعا کرتے رہتے حتیٰ کہ فجر طلوع ہوجاتی۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم سحر کے وقت ستر مرتبہ استغفار کریں۔

جعفر بن محمد بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے رات کو نماز پڑھی پھر رات کے آخری حصہ میں ستر مرتبہ استغفار کیا ‘ اس کا نام سحر کے وقت استغفار کرنے والوں میں لکھا جائے گا۔

زید بن اسلم نے کہا : سحر کے وقت استغفار کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو صبح کی نماز باجماعت پڑھتے ہیں۔ (جامع البیان جز ٣ ص ٢٨٤۔ ٢٨٣‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

سعید جریری بیان کرتے ہیں کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے کہا : اے جبریل ! رات کا کون سا وقت افضل ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نہیں جانتا ‘ لیکن مجھے یہ علم ہے کہ سحر کے وقت عرش ہلنے لگتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٧ ص ٩١‘ رقم الحدیث : ٣٤٢٤٠‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

سفیان ثوری بیان کتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رات کیا ول حصے میں ایک منادی نداء کرتا ہے کہ نماز میں قیام کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ نماز میں قیام کریں ‘ پھر وہ اٹھ کر سحر تک نماز پڑھتے رہتے ہیں ‘ پھر سحر کے وقت ایک منادی نداء کرتا ہے کہ استغفار کرنے والے کہاں ہیں ؟ پھر وہ لوگ استغفار کرتے ہیں ‘ پھر اور لوگ کھڑے ہوتے ہیں وہ نماز پڑھ کر ان کے ساتھ مل جاتے ہیں ‘ پھر جب فجر طلوع ہوتی ہے تو ایک منادی نداء کرتا ہے : سنو ! غافل لوگوں کو قیام کرنا چاہیے ‘ پھر وہ اپنے بستروں سے اس طرح اٹھتے ہیں جس طرح مردے اپنی قبروں سے اٹھیں گے۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں روئے زمین والوں کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہوں ‘ پھر اچانک میں اپنے گھروں کو آباد کرنے والوں کو دیکھتا ہوں اور ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو مجھ سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو نماز ِ تہجد پڑھتے ہیں اور ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو سحر کو اٹھ کر استغفار کرتے ہیں تو میں زمین والوں سے عذاب کو دور کردیتا ہے۔

مکحول نے کہا : جب کسی امت میں سے پندرہ آدمی ہر وز اللہ تعالیٰ سے پچیس مرتبہ استغفار کرتے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس امت کو عام عذاب سے ہلاک نہیں کرتا۔

یہ تمام روایات اس پر دلات کرتی ہیں کہ استخضار قلب کے ساتھ زبان سے استغفار کرنا چاہیے اور ابن زید کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ سحر کے وقت استغفار کرنے سے وہ لوگ مراد ہیں جو صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔

لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا : ایسا نہ ہو کہ مرغ تم سے افضل ہوجائے وہ صبح کے وقت اذان دے اور تم سوئے ہوئے ہو۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ٤ ص ٣٨۔ ٣٧‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

استغفار کے کلمات اور استغفار کی فضیلت

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سید الا ستغفار یہ ہے کہ تم یہ دعا کرو :

اللھم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی واما عبدک وانا علی عھدک ووعدک ما استطعت ‘ اعوذ بک من شر ما صنعت ابوء لک بنعمتک علی وابوء بذنبی فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت۔ اے اللہ ! تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ‘ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور تیرے وعدہ پر قائم ہوں ‘ میں اپنے کیے ہوئے کاموں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ میں اپنے اوپر تیری کی ہوئی نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں اور میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں سو تو مجھے بخش دے ‘ بیشک تیرے سوا اور کوئی گناہوں کو نہیں بخشے گا۔

جو شخص یقین کے ساتھ دن میں ایک بار ان کلمات کے ساتھدعا کرے اور اس دن شام ہونے سے پہلے فوت ہوجائے تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا اور جس شخص نے رات کو یقین کے ساتھ ان کلمات سے دعا کی اور وہ صبح ہونے سے پہلے فوت ہوگیا تو وہ اہل جنت سے ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٣٠٦‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥٠٧٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٧٢)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کے پتے سوکھ چکے تھے ‘ آپ نے اس درخت پر لاٹی ماری تو اس کے پتے نیچے گرنے لگے تو آپ نے فرمایا : بیشک ” الحمد للہ “ اور ” سبحان اللہ “ اور ” لا الہ الا اللہ “ اور اللہ اکبر “ سے بندے کے گناہ اس طرح گرتے ہیں جس طرح اس درخت کے پتے گر رہے ہیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٥٩٩)

حضرت بلال بن یسار بن اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے کہا :” استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھوالحی القیوم واتوب الیہ “ اس کی مغفرت کردی جائے گی خواہ وہ میدان جہاد سے پیٹھ موڑ کر بھاگا ہو۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٥١٧‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٤٨ )

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو نیک کام کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور جب وہ برا کام کرتے ہیں تو اللہ سبحانہ سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٢٠ )

حضرت عبد اللہ بن بسر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اس شخص کو مبارک ہو جس کے صحیفہ اعمال میں بہ کثرت طلب مغفرت کی دعا ہو۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨١٨)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بندہ (گناہ کا) اعتراف کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ سبحانہ ‘ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١٤١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٠ ٢٧٧)

تہائی رات کے مستجاب وقت میں دعا قبول نہ ہونے کی وجوہ

حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ڈھیل دیتا رہتا ہے حتیٰ کہ نصف رات کا اول حصہ گزر جاتا ہے تو پھر ایک منادی یہ دعا کرتا ہے کہ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور کوئی مغفرت طلب کردی جائے اور کوئی سوال کرنے والا ہے کہ اس کو عطا کیا جائے ؟ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٥٨ )

اسی طرح یہ حدیث بھی ہم ذکر کرچکے ہیں کہ رات کے تہائی حصہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : کوئی ہے جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اس کی دعا قبول کروں ؟ الحدیث (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٥٨‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٣١٤)

ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اس وقت میں دعا قبول ہوتی ہے حالانکہ بعض دعا کرنے والوں کی دعا اس وقت قبول نہیں ہوتی ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا قبول ہونے کی شرائط کے مطابق دعا کی جائے تو دعا قبول ہوتی ہے اور شرائط دعا میں سے یہ ہے کہ ذہن کو حاضر کر کے دعا کرے ‘ بےپروا ہی اور بےتوجہی سے دعا نہ کرے اور یہ کہ اس کا کھانا ‘ پینا اور لباس پاک ہو اور حلال ذرائع سے حاصل ہوا ہو ‘ ناپاک اور حرام خوراک اور حرام لباس کے ساتھ کی ہوئی دعا قبول نہیں ہوتی اور یہ کہ وہ کسی گناہ کی یا رشتہ قطع کرے کی دعا نہ کرے اور دعا کے قبول ہونے میں جلدی نہ کرے اور کبھی اس طرح بھی ہوتا ہے کہ وہ کسی گناہ کی یا رشتہ قطع کرنے کی دعا نہ کرے اور دعا کے قبول ہونے میں جلدی نہ کرے اور کبھی اس طرح بھی ہوتا ہے کہ وہ جس چیز کو مانگ رہا ہے وہ اللہ کے علم میں اس کے لیے اچھی نہیں ہے بلکہ بری ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ اس چیز کے بدلہ میں اسے کوئی اور چیز عطا فرما دیتا ہے یا اس سے کوئی مصیبت ٹال دیتا ہے اور دعا کے قبول ہونے میں بندہ کو جلدی اور بےصبری نہیں کرنی چاہیے ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ لگ بھگ تین سو سال بعد قبول ہوئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکہ میں بعثت کی جو دعا کی تھی وہ تقریباً اڑھائی ہزار برس بعد قبول ہوئی ‘ ہم عاجز اور ناتواں بندے ہیںٔ‘ انبیاء (علیہم السلام) جتنا حوصلہ اور قوت برداشت ہم میں کہاں ہے ‘؟ سو اے بار الہٰ ! ہمیں امتحان میں نہ ڈال اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جس کو برداشت کرنے کی ہم میں طاقت نہیں ‘ ہماری غلطیوں ‘ کوتاہیوں اور گناہوں کو معاف فرما ‘ ہم کو تاحیات اپنی رحمت سے گناہوں سے محفوظ رکھ اور جو گناہ سرزد ہوگئے ان کو معاف فرما ! آمین۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 18