أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُّـؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ اُفِكَ ۞

ترجمہ:

اس قرآن سے وہی رو گرداں کیا جاتا ہے جس کو (ازل میں) پھیر دیا گیا تھا

ازل میں کفار کو ایمان سے پھیر دینے کی توجیہ

الذریت : ٩ میں فرمایا : اس قرآن سے وہی روگرداں کیا جاتا ہے جس کو (ازل) میں پھیر دیا گیا تھا۔

یعنی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن مجید پر ایمان لانے سے ان ہی کو رو گرداں کیا جاتا ہے جن کو ازل میں رو گرداں کیا گیا تھا یا جنہوں نے قرآن مجید کو سحر یا کہانت کہا یا پچھلے لوگوں کے افسانے کہا ‘ ان کو اس جرم کی پاداش میں ایمان لانے سے پھیر دیا جاتا ہے اور جن لوگوں کو ازل میں ایمان لانے سے پھیر دیا گیا تھا یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بسیار کوشش اور بھر پور تبلیغ کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 9