أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اٰخِذِيۡنَ مَاۤ اٰتٰٮهُمۡ رَبُّهُمۡ‌ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ مُحۡسِنِيۡنَؕ‏ ۞

ترجمہ:

وہ ان کو لینے والے ہوں گے جو ان کا رب ان کا عطا فرمائے گا ‘ بیشک اس سے پہلے (دنیا میں) وہ نیک کام کرنے والے تھے

الذریت : ١٦ میں فرمایا : وہ ان کو لینے والے ہوں گے جو ان کا رب انہیں عطا فرمائے گا۔

اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ وہ ان احکام اور فرائض کو قبول کرنے والے اور ان کے تقاضوں پر عمل کرنے والے ہوں گے جو انکارب انہیں عطا فرمائے گا اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ جنت میں ان نعمتوں کو وصول کرنے والے اور ان پر قبضہ کرنے والے ہوں گے جو ان کا رب انہیں عطا فرمائے گا۔

اس کے بعد فرمایا : بیشک اس سے پہلے (دنیا میں) وہ نیک کام کرنے والے تھے۔

یعنی جنت میں داخل ہونے سے پہلے وہ دنیا میں نیک کام کرنے والے ہوں گے ‘ فرائض کو اچھی طرح سے ادا کرنے والے ہوں گے یعنی فرائض کو ان کے اوقات مستحبہ میں ان کی شروط ‘ ارکان ‘ واجبات ‘ سنن اور مستحبات کے ساتھ ادا کرنے والے ہوں گے یا فرائض کے ساتھ سنن اور نوافل کو بھی ادا کرنے والے ہوں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 16