أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَانُوۡا قَلِيۡلًا مِّنَ الَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہ رات کو کم سوتے تھے

رات کو کم سونے اور زیادہ عبادت کرنے کی فضیلت

الذریت : ١٧ میں فرمایا : وہ رات کو کم سوتے تھے۔

اس آیت میں ” یھجعون “ کا لفظ ہے ‘” الھجوع “ کا معنی ہے : رات کو سونا ‘ اور ” التھاجع “ کا معنی ہے : تھوڑی سی نیند کرنا۔

یعنی وہ راتکو کم وقت سوتے ہیں اور زیادہ وقت نمازیں پڑھتے ہیں۔

عطاء نے کہا : یہ اس وقت کی بات ہے جب ان پر رات کا قیام فرض تھا ‘ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی :

یایھا المزمل۔ قم الیل الا قلیلا۔ (المزمل : ٢۔ ١) اے چادر اوڑھنے والے۔ رات کو نماز میں کم قیام کیا کرو۔

اس کا معنی ہے : وہ رات کو بہت کم وقت سوتے تھے اور زیادہ وقت عبادت میں گزارتے تھے۔

مجاہد نے کہا : یہ آیت انصار کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ جو مغرب اور عشاء کی نمازیں مسجد نبوی میں پڑھتے تھے اس کے بعدقباء میں اپنے گھروں کی طرف جاتے تھے۔

رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے کا سب سے عمدہ طریقہ

رات کو اٹھ کر نماز پڑنے کے متعلق بہترین طریقہ یہ ہے :

حضرت عبد اللہ بن عمرورضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ سبحانہ ‘ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے وہ ہیں جو حضرت دائود (علیہ السلام) کے روزے ہیں ‘ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور اللہ کے نزدیک سب سے پسند یدہ نماز حضرت دائود (علیہ السلام) کی نماز ہے ‘ وہ نصف رات تک سوتے تھے تہائی رات میں قیام کرتے تھے اور پھر رات کے آخری چھٹے حصے میں سو جاتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٢٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١١٥٩‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤١٢‘ سنن ابن ماجہ : ١٤١٩)

اس حدیث کی وضاحب اس طرح ہے کہ فرض کیجئے کہ رات چھ گھنٹے کی ہے تو اس کا نصف تین گھنٹے ہیں تو آپ تین گھنٹے سو کر پھر اٹھ جائیں اور تہائی رات نماز پڑھیں اور چھ گھنٹوں کے تہائی دو گھنٹے ہیں ‘ پس آپ دو گھنٹے نماز پڑھیں اور پھر رات کے چھٹے حصہ میں پھر سو جائیں اور چھ گھنٹے کا چھٹا حصہ ایک گھنٹہ ہے ‘ پس آپ ایک گھنٹہ سو کر پھر نماز فجر کے لیے اٹھ جائیں۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ نے الذریت : ١٨۔ ١٧ کی تفسیر میں یہ حدیث ذکر کی ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات کو آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے ‘ حتیٰ کہ جب رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو وہ ارشاد فرماتا ہے : کوئی ہے جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اس کی دعا قبول کروں ‘ کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اس کو عطا کروں اور کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے اور میں اس کی مغفرت کروں ؟ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٥٨‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٣١٤‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٧٣٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣٦٦ )

اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے پوچھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو کس طرح نماز پڑھا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : آپ رات کے اول حصے میں سوتے تھے اور آخری حصہ میں نماز میں قیام کرتے تھے ‘ آپ نماز پڑھتے رہتے ‘ پھر آپ اپنے بستر کی طرف لوٹ جاتے ‘ پھر جب مؤذن ( نماز فجر کی) اذان کہتا تو آپ جلدی سے اٹھ جاتے ‘ پھر اگر آپ کو غسل کی حاجت ہوتی تو آپ غسل کرتے ورنہ وضو کر کے حجرہ سے باہر چلے جاتے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٣٩‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٦٤٠ )

بہ ظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ رات کے نصف اول میں سوتے تھے پھر رات کے تہائی حصے میں نماز میں قیام کرتے تھے اور پھر رات کے آخری چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے اور آپ کے ارشاد کے مطابق یہی آپ کے رب کے نزدیک رات کی نماز پڑھنے کا سب سے عمدہ اور پسندیدہ طریقہ ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 17