مفتی چمن زمان نجم القادری صاحب اس فتنے کے خلاف بھی آواز اٹھائیں

 

داتا صاحب علیہ رحمۃ کے عرس پر تقریر کرنے والے رفض آلود سینوں کو جب سٹیج سے اتارا گیا تو سندھ کے محقق دوران مفتی چمن زمان نجم القادری صاحب نے داتا صاحب کے واقعہ پر افسوس کرتے ہوئے داتا صاحب کے اصلاحی پہلو کو اجاگر کیا خوب محب داتا ہونے کی بظاہر کوشش فرمائی

 

ہم چمن زمان صاحب سے عرض گزار ہیں

 

اصلاحی پہلو کے ساتھ داتا صاحب علیہ رحمۃ کا ایک اعتقادی پہلو بھی ہے جو اصلاحی پہلو سے مقدم ہے لیکن افسوس کی بات ہے داتا صاحب علیہ رحمۃ کے نظریات سے عدول کرنے والے کس منہ سے محبت داتا کا دم بھرتے ہیں آپ کس منہ سے انکے ساتھ بیھٹتے ہیں؟

 

مفتی چمن زمان صاحب!

 

کاش داتا صاحب علیہ رحمہ کے افکار کو آپ نے بھی پڑھا ہوتا یقینا پڑھا ہوگا لیکن بیان آپ کبھی نہیں کریں گے ورنہ آج دس گز لمبی زبانیں علماء اہلسنت پر ناصبیت کا فتوی نہ لگاتی

 

مفتی چمن زمان صاحب!

 

عوام کو بتایا جائے داتا صاحب افضلیت صدیق اکبر کے قائل ہیں اگر ان سے سچی محبت ہے تو ان لوگوں کو لگام ڈالیں جو افضلیت صدیق اکبر کے قائل کو ناصبی خارجی مبغض اہلبیت کہتے ہیں۔۔

 

مفتی چمن زمان صاحب!

 

عوام کو بتایا جائے داتا صاحب اہل طریقت کا امام سیدنا صدیق اکبر کو کہتے ہیں اس محبت داتا میں ان لوگوں کو لگام ڈالیں جو تاجدار ولایت سیدنا صدیق اکبر کو باطنی روحانی سسٹم سے محروم سمجھتے ہیں۔

 

مفتی چمن زمان صاحب!

 

عوام کو بتاجا جائے داتا صاحب ایمان ابی طالب کے قائل نہیں ہیں اس محبت داتا کی آڑ میں ان لوگوں کو سمجھایا جائے جو سٹیجوں پر عدم ایمان کے قائلین کو گالیاں دیتے ہیں

 

مفتی چمن زمان صاحب!

 

عوام کو بتایا جائے داتا صاحب نکاح سیدہ ام کلثوم کے قائل ہیں اور اس آڑ میں ان بے لگام شتر بے مہاروں کی گردن دبوچیں جو اسکے منکر بن بیٹھے ہیں۔۔

 

مفتی چمن زمان صاحب!

 

داتا صاحب کی نظریات سے روگردانی کر کہ انکی جھوٹی محبت کا پرچار محض دھوکہ فریب ہے اگر حقیقی محب داتا ہیں تو کب ایسوں کی صحبت چھوڑ رہے ہیں کب ایسوں کو دعوت فکر دے رہے ہیں؟؟

 

لیکن ہمیں معلوم ہے

 

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار چلے گی

یہ بازو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں

 

✍🏻وقار رضا القادری