أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُـبُكِ ۞

ترجمہ:

اور راستوں والے آسمان کی قسم

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور راستوں والے آسمان کی قسم۔ بیشک تم ضرور مختلف اقوال کے قائل ہو۔ اس قرآن سے وہی رو گرداں کیا جاتا ہے جس کو (ازل میں) پھیر دیا گیا تھا۔ اٹکل بچو سے باتیں کرنے والے ہلاک کردیئے جائیں۔ جو غفلت میں بھولے ہوئے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں : قیامت کب آئے گی۔ (آپ کہیے :) جس دن ان کو دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اب اپنے اس عذاب کو چکھو ‘ یہی وہ عذاب ہے جس کو تم جلد طلب کرتے تھے۔ (الذاریت : ١٤۔ ٧)

” ذات الحبک “ کے معانی

الذایت : ٧ میں ہے : والسمآء ذات الحبک۔ “ اس میں اختلاف ہے کہ اس آیت میں ” السمائ “ سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین نے کہا : اس سے مراد وہ بادل ہیں جو زمین پر سایہ کرتے ہیں ‘ حضرت ابن عمر نے کہا : اس سے مراد بلند آسمان ہیں ‘ علامہ ثعلبی اور علامہ الماوردی نے کہا : اس سے مراد ساتواں آسمان ہے۔

اور ” الحبک “ کی تفسیر میں سات قول ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : جس چیز کی ظاہری بناوٹ حسین و جمیل اور ہموار ہو۔

(٢) عکرمہ نے کہا : جب کوئی کپڑا بننے والا عمدہ کپڑا بنے تو کہتے ہیں : حبک الثوب ای اجاد ‘ سو ” ذات الحبک “ کا معنی ہے : عمدگی والا۔

(٣) ابن الا عرابی نے کہا : ہر وہ چیز جس کو تم مضبوط اور خوب صورت بنائو اس کے متعلق کہا جاتا ہے : احتبکتہ۔ یعنی حسن اور مضبوطی والا۔

(٤) حسن بصری نے کہا : اس سے مراد ہے : میزن ‘ ان کا دوسرا قول ہے : اس سے مراد ہے ستاروں والا آسمان۔

(٥) ضحاک نے کہا : اس سے مراد ہے : مختلف راستوں والا ‘ جب ہوا چلنے سے ریگستان میں مختلف راستے بن جائیں تو کہتے ہیں : ذات الحبک۔

(٦) تو ہے کی زرہ اور گھنگریالے بالوں کو بھی ” حبک “ کہتے ہیں۔ فراء نے کہا : ہر توڑ نے والی چیز کو ” حبک “ کہتے ہیں۔

(٧) جو چیز شدید الخق ہو اس کو ” حبک “ کہتے ہیں ” ذات الحبک “ کا معنی ہوا جس کی بناوٹ شدید ہو قرآن مجید میں ہے :

وبنینا فوقکم سبعا شدادا۔ (النبا : ١٢) اور ہم نے تمہارے اوپر سات شدید آسمان بنائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 7