نحمدہ و نصلی ونسلم على رسوله الكريم

1- كتاب الوحی

وحی کا بیان

اس باب سے امام بخاری کا مقصود یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر وحی نازل کرنا اللہ تعالی کی سنت ہے لہذا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل

کرنا کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے۔

1- باب كيف كان بدء الوحی إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ابتداء وحی کی کیفیت

وقول اللّٰہ جل ذکرہ انا اوحینا الیک کما اوحينا إلى نوح والنبين من بعده . (النساء:163)

اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: اے رسول معظم ! بے شک ہم نے آپ کی طرف وحی نازل فرمائی جیسے ہم نے نوح اور ان کے بعد دوسرے نبیوں کی طرف وحی (نازل) فرمائی تھی۔

کتاب باب او فصل کے معانی اور مصادیق

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی اس کتاب میں “بسم الله الرحمن الرحيم” کے بعد جو پہلالفظ لکھا وہ “باب ” ہے عموما حدیث اور فقہ کی کتابوں میں تین عنوانات لکھے جاتے ہیں: کتاب باب اور فصل – کتاب”مسائل کے اس مجموعہ کو کہتے ہیں جو بہ منزلہ جنس ہو اور اس کے تحت کئی انواع اور اصناف مندرج ہوں جیسے کتاب الطہارت اسی میں وضو غسل و تیمم کے ابواب مذکور ہوتے ہیں اور ” باب مسائل کے اس مجموعہ کو کہتے ہیں جو به منزله نوع ہو اور اس کے تحت کئی اصناف اور اشخاص مندرج ہوں جیسے وضو کے باب میں فرائض وضو، سنن وضوء اور مستحبات وضو کی فصول مذکور ہوتی ہیں او “فصل ” بہ منزلہ صنف ہے اس کے تحت کئی اشخاص مندرج ہوتے ہیں، جیسے فرائض وضوکی فصل میں مذکور ہوتا ہے کہ وضو کے چار فرض ہیں وغیرہ۔

یہاں پر امام بخاری نے کتاب کا ذکر نہیں کیا لیکن یہاں مراد وہی ہے یعنی کتاب الوحی اور اس تحت جو مختلف احادیث ذکر کی ہیں وہ بہ منزلہ ابواب ہیں امام بخاری نے بدءالوحی” کا لفظ فرمایا ہے”بدء” کے دو معنی ہیں : ظہور اور ابتداء ..” صحیح بخاری کی حدیث:۲۔ا میں وحی کے ظہور کا ذکر ہے اور حدیث :3 وحی ابتدا کی کیفیت کا ذکر ہے۔

وحی کا لغوی معنی

امام بخاری نے دوسرا لفظ جو ذکر کیا ہے وہ “وحی” ہے علامه سیدمحمد مرتضی زبیدی حنفی متوفی 1205ھ نے وحی کا لغوی معنی اس طرح بیان کیا ہے:

وحی کا معنی ہے: اشارہ کرنا، لکھنا لکھا ہوا، پیغام پہنچانا، کلام مخفی، ہر وہ چیزجس کو اپنے غیر کی طرف پہنچائو’ یہ اس لفظ کا اصل معنی ہے پھر یہ الہام کے معنی میں منحصر ہو گیا۔ (تاج العروس ج 10 ص 385 المطبعتہ الخیریہ مصر 1306ھ)

وحی کا شرعی معنی

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ۵۰۲ھ لکھتے ہیں:

اصطلاح میں وحی ان کلمات الہیہ کو کہتے ہیں، جن کو الله تعالی اپنے انبیاء اور اولیاء کی طرف القاء فرماتا ہے یہ القاء یا تو اس فرشتے

کے واسطے سے ہوتا ہے۔ جو دکھائی دے اور اس کا کلام سنائی دے جیسا کہ حضرت جبریل کا کسی خاص صورت میں الله تعالی کا کلام پہنچانا یا بغیر مشاہدہ کے اللہ کا کلام سنائی دے جیسے حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کا کلام سنا یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کوئی بات ڈال دی جائے جیسے کہ حدیث میں ہے کہ جبرائیل نے یہ بات میرے دل میں ڈالی۔( المفردات ج ۲ ص 228 مکتبہ نزار مصطفٰی، مکہ مکرمہ ۱۴۱۸ھ)

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

هو كلام الله المنزل علی نبی من انبيائه. یہ وہ کلام ہے جو الله تعالی کے کسی نبی پر نازل کیا گیا ہو۔ عمدة القاری ج1 ص ۳۹ دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)

نزول وحی کی صورتیں اور اقسام

علامہ بدرالدین عینی متوفی ۸۵۵ھ نے وحی کی حسب ذیل اقسام اور صورتیں بیان کی ہیں:

(1) حضرت موسی علیہ السلام کا کلام قدیم کو سننا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام قدیم سننا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں ہے۔

(۲) فرشتے کے واسطہ سے وحی کا نازاں ہونا۔

(۳) دل میں کسی معنی کا القاء کیا جانا۔

(۴) “صلصلة الجرس ” (گھنٹی کی آواز) کی صورت میں وحی کا نازل ہونا۔

(۵) حضرت جبرائیل کی غیر معروف آدمی کی شکل میں آ کر بات کریں جیسے ایک اعرابی کی شکل میں آئے۔

(6) حضرت جبرائیل اپنی اصلی شکل میں آئیں، جیسے حضرت جبرائیل چھ سو پروں کے ساتھ آئے جن سے یاقوت اور موتی جھڑرہے تھے۔

(7) حضرت جبرائیل کی معروف آدمی کی شکل میں آئیں جیسے حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں آئے۔

(۸) اللہ تعالی براہ راست بیداری میں آپ سے ہم کلام ہو جیسے شب معراج میں پردے کی اوٹ سے کلام فرمایا۔

(۹) اللہ تعالی آپ سے نیند میں ہم کلام ہونے” جامع ترمذی میں حدیث مرفوع ہے آپ نے فرمایا: میں نے اللہ عزوجل کو بہت حسین صورت میں دیکھا اللہ تعالی نے فرمایا: اعلی کس چیز میں بحث کر رہے ہیں؟

(۱۰) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں کوئی واقعہ دکھایا جائے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کررہے ہیں۔

(11) وحی اسرافیل جیسا کہ مسند احمد میں ہے کہ تین سال حضرت اسرافیل علیہ السلام آپ کے ساتھ موکل رہے۔

عمدة القاری ج 1 ص 78-79 دارالکتب العلميه بیروت 1421 ھ)

عنوان میں درج آیت کریمہ کی تفسیر

باب کا عنوان لکھنے کے بعد امام بخاری نے یہ آیت کریمہ لکھی ہے:” إنا أؤحينا إليك کما أوحينا إلى نوح والنبين من بعدہ “.(النساء:163)

امام بخاری کا اس کتاب میں یہ طریقہ ہے کہ باب کا عنوان ذکر کرنے کے بعد اس عنوان کے مناسب قرآن مجید کی کوئی آیت ذکر کرتے ہیں یا پھر کوئی حدیث ذکر کرتے ہیں یا کسی صحابی یا تابعی یا کسی امام کا قول ذکر کرتے ہیں یہاں باب کے عنوان میں چونکہ وی کا لفظ تھا اس لیے امام بخاری نے اس آیت کو ذکر کیا، جس میں وحی کا ذکر ہے۔

اس آیت کی مختصر تفسیر حسب ذیل ہے:

یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ پر بھی اسی طرح یک بارگی کتاب نازل کی جائے جس طرح حضرت موسی علیہ السلام پر یک بارگی کتاب نازل کی گئی تھی اللہ تعالی نے ان کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی کہ تم نوح، ابراہیم ،اسماعیل، اسحاق، یعقوب، ایوب ، یونس،ہارون اور سلیمان علیہم السلام کو ہی جانتے ہو حالانکہ ان پر بھی آسمان سے یک بارگی کوئی کتاب نازل نہیں کی گئی تھی۔

انبیاء علیہم السلام کے ذکر میں اس آیت میں سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ وہ سب سے پہلے نبی ہیں جنہوں نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا تھا یا اس لیے کہ وہ سب سے پہلے نبی ہیں، جنہوں نے احکام شرعیہ بیان کیے یا اس لیے کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اسلام تمام روئے زمین کے انسانوں کے لیے ہے اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت بھی تمام روئے زمین کے انسانوں کے لیےتھی۔ (تبیان القرآن ج 2 ص ۸۷۷ فرید بک سٹال لاہور 1420ھ)

حدیث “انما الاعمال بالنيات ‘‘کا متن اور اس کی تخریج

باب کے عنوان کے بعد امام بخاری نے حسب ذیل حدیث ذکر کی ہے۔

1- حدثنا الحميدى عبدالله بن الزبير قال حدثنا سفيان قال حدثنا يحيى بن سعيد الأنصاری قال أخبرني محمد بن إبراهيم التيمى أنه سمع علقمة بن وقاص اللیثي يقول سمعت عمر بن الخطاب رضي الله عنه على المنبر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولإنما الأعمال بالنيات وانما لکل امرئ ما نوى فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها ، أو إلى امراتہ ينكحها فهجرته إلى ما هاجر إليه.( اطراف الحدیث؛ 54 2529 3898،5070،6689،6953)

امام بخاری نے کہا کہ ہمیں حمیدی عبداللہ بن زبیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ ہمیں یحیی بن سعید انصاری نے حدیث بیان کی، انہوں نے كبا: مجھے محمد بن ابراہیم تیمی نے خبر دی کہ انہوں نے علقمہ بن وقاص ليثی سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کومنبر پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اعمال کا مدار صرف نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے عمل کا ثمره وہی ہوگا جس کی اس نے نیت کی سوجس شخص کی ہجرت دنیا کی طرف ہو جس کو وہ حاصل کرے یا کسی عورت کی طرف ہو جس سے وہ نکاح کرے تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ( شمار ) ہو گی جس کی طرف ہجرت کرنے کی اس نے نیت کی تھی۔( صحیح مسلم:1907،سنن ابوداؤد: 2201،سنن ترمذی: 1647، سنن نسائی: ۳۸۰۳ ۷ ۳۳۳۔ 75 سنن ابن ماجہ:4227 مسند الحمیدی:28 ابن الجارو : 64 “الموطا: ۹۸۳ مسند الطیالسی نے 37، مسند البزار : 257 صحیح ابن خزیمہ: ۱۴۲ صحیح ابن حبان :۳۸۸حلیتہ الا ج 8 ص 42 سنن بیہقی ج ا ص 41 کتاب المعرفة : 182 تاریخ بغداد ج۲ ص 153 شرح السنه :1 مسند احمد ج اص ۲۵ طبع قدیم مسند احمد 168 ج اص ۳۰۳ مؤسسة الرسالة بیروت1420 ھ)

حدیث مذکور کے رجال

(1) الحمیدی یہ ابوبکر عبد اللہ بن الزبیر القرشی الاسدی میں یہ ۲۱۹ھ میں مکہ میں فوت ہو گئے تھے ان سے امام ابوداؤ اور امام نسائی نے بھی روایت کی ہے۔ امام مسلم نے صحیح مسلم کے مقدمہ میں ان کی ایک حدیث روایت کی ہے

(2) سفیان بن عیینہ یہ حدیث فقہ اور فتوی میں امام جلیل ہیں اور امام شافعی کے مشائخ میں سے ایک ہیں یہ ۱۹۸ء میں فوت ہو گئے تھے

(۳) یحیی بن سعید انصاری مدنی یہ مشہور تابعی ہیں اور ائمہ مسلمین سے ہیں ان کو مدینہ میں منصب قضاء دیا گیا تھا اور یہ 104ھ میں فوت ہوگئے ان سے محدثین کی ایک جماعت نے حدیث روایت کی ہے

(4) محمد بن ابراہیم بن الحارث یہ بہت احادیث روایت کرتے تھے یہ 120ھ میں فوت ہوگئے تھے

( 5 ) علقمہ بن وقاص اللیثی ابن مندہ نے ان کا صحابہ میں ذکر کیا ہے اور جمہور علماء نے ان کا تابعین میں ذکر کیا ہے

(6) حضرت عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبد العزی بن ریاح ابن عبد اللہ قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی العدوی القرشی یہ اپنے آٹھویں جد کعب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمع ہو جاتے ہیں . رضی اللہ عنہ( عمدة القاری ج1ص45)

حدیث” انما الاعمال بالنيات‘‘ کی فنی حیثیت

یہ حدیث ایک اعتبار سے غریب ہے اور دوسرے اعتبار سے مشہور ہے اور یہ متواتر نہیں ہے کیونکہ اس کا مدار یحیی بن سعید پر ہے

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عمر کے سوا اس کوکسی اور نے روایت نہیں کیا اور حضرت عمر سے علقمہ کے سوا اس کو کسی اور نے روایت نہیں کیا ۔ اور علقمہ سے صرف محمد بن ابراہیم نے روایت کیا ہے اور محمد سے صرف یحیی بن سعید نے روایت کیا ہے اور ان سے اس حدیث کو بہت لوگوں نے روایت کیا ہے پس سند کے اول راویوں کے اعتبار سے یہ حدیث غریب اور فرد ہے اور سند کے آخری راوی کے اعتبار سے یہ حدیث مشہور ہے۔ (عمدة القاری ج 1 ص 47دارالکتب العلمیہ بیروت1421ھ)

حدیث “انما الاعمال بالنيات‘‘ کے راوی کا مختصر تذکرہ

علامہ عبد الرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ۵۹۷ھ لکھتے ہیں:

یہ حدیث حضرت ابوحفص عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبوت کے چھے سال میں اسلام قبول کیا ایک قول ہے کہ انہوں نے نبوت کے پانچویں سال میں اسلام قبول کیا۔ حلال بن یساف نے کہا کہ حضرت عمر چالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے مسلمان ہونے کے بعد اسلام لانے اور لیث نے کہا ہے کہ تینتیس (۳۳) مردوں کے مسلمانوں ہونے کے بعد اسلام لاۓ ایک قول یہ ہے کہ ان کے اسلام لانے کے بعد چالیس مسلمانوں کا عدد مکمل ہوگیا پھر حضرت جبریل نازل ہوئے اور انہوں نے کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! آسمان والے عمر کے اسلام لانے پر مبارک باد دے رہے ہیں ان کو فاروق کا لقب دیا گیا کیونکہ جس دن وہ اسلام لائے اس دن سے اسلام کا ظہور اور غلبہ ہو گیا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احادیث روایت کی ہیں ان کی تعداد پانچ سو سینتیس (537) ہے ان میں سے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں اکیاسی (81) احادیث ہیں۔

جس طرح قرآن مجید کی آیات کے شان نزول اور اسباب ہوتے ہیں اسی طرح بعض احادیث کے بھی اسباب ہوتے ہیں اس حدیث کا سبب یہ ہے کہ ایک شخص نے مکہ میں ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا تھا وہ ہجرت کر کے مدینہ چلی گئی وہ شخص بھی اس سے نکاح کی رغبت میں مدینہ چلا گیا اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث فرمائی اور اس شخص کو مہاجرام قیس کہا جاتا تھا۔(کشف المشکل ج1 ص 16 دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ)

حدیث” انما الاعمال بالنيات ‘‘کا شرف اور اس کی فضیلت

علامہ ابن الجوزی لکھتے ہیں:

علاء اپنی تصانیف میں اس حدیث کو سب سے پہلے لکھتے ہیں کیونکہ عموما اس کی حاجت پڑتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام اعمال میں اصل چیز نیت ہے اور عبد الرحمان مهدی یہ کہتے تھے کہ جو بھی کوئی کتاب تصنیف کرے اس کو چاہیے کہ اس کتاب کی ابتدا میں اس حدیث کو لکھے اسی وجہ سے امام بخاری نے اپنی کتاب کا افتتاح اس حدیث سے کیا ہے۔

امام شافعی متوفی 204ھ نے کہا: اس حدیث میں فقہ کے ستر ابواب ہیں۔

امام احمد بن حنبل متوفی 241ھ نے کہا: اصول اسلام تین احادیث پرمشتمل ہیں: (1) اعمال کا مدار نیت پر ہے ( صحیح بخاری:1) (۲) حلال ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے (صحیح بخاری : 52) (۳)جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی عبادت نکالی جس کا دین میں منشاء نہ ہو وہ مردود ہے (صحیح البخاری : 2697)۔

امام ابوداؤد الجستانی متوفی 275ھ نے کہا: فقہ کا مدار پانچ احادیث پر ہے: (۱) اعمال کا مدار نیات پر ہے (صحیح البخاری:1) (۲) حلال ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے (صحیح البخاری: 52)(۳) میں نے تم کو جس کام سے منع کیا ہے اس سے اجتناب کرو اور میں نے تم کو جس کام کا حکم دیا ہے اس پر جس قدر عمل کر سکتے ہو عمل کر اور صحیح مسلم : 1337ھ) (۴) کسی کوضرر نہ پہنچائو اور ایک دوسرے کو باہم ضرر نه دو (سنن ابن ماجہ: 2341) یعنی یہ سمجھ کر کہ ایک نے مجھے ضرر دیا ہے تو میں بھی اس کو ضرر دوں پہلاحکم وجوبی ہے اور دوسرا حکم استجبابی ہے سعیدی غفرلہ: (۵) دین خیر خواہی ہے (صحیح بخاری:۵۷)۔

امام ابوداؤد کی دوسری روایت یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ہزار پانچ سو (1500) احادیث روایت میں اور ان سے انتخاب کر کے میں نے کتاب السنن میں لکھیں جن کا میں ضامن ہوں پس ان میں میں نے صحیح اور ان کے مشابہ اور مقارب احادیث لکھی ہیں اور ان میں سے چار احادیث ایسی ہیں جو انسان کے دین کے لیے کافی ہیں (1) اعمال کا مدار نیات پر ہے (صحیح البخاری3) (۲) حلال ظاہر ہے اور حرام بھی تاجر ہے (صحیح بخاری : 52) (۳) کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ غیر مقصود باتوں کو ترک کردے (سنن ترمذی: 2317) (۴) کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوگا حتی کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بھی اس چیز کو پسند کرے جس کو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے (صحیح البخاری : ۱۳ )۔(کشف المشكل لاابن الجوزی ج1 ص 16-17 دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳۲۴ھ )

نیت کا معنی اور نیت کے متعلق حدیث کے دونوں جملوں کا فرق

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوارشاد فرمایا ہے: اعمال کا مدار نیات پر ہے اس کا معنی یہ ہے:

ہر عمل کی صحت کا اعتبار اس کی نیت سے ہوتا ہے یعنی اگر اس عمل سے اس کا قصد اللہ تعالی کی رضا ہے تو اس کی سب سے زیادہ فضیلت ہے اور اگر اس عمل سے اس کا مقصود جنت کا حصول ہے تو اس میں بھی فضیلت ہے اور اگر اس عمل سے مقصود دنیا کا حصول ہے تو اگر دنیا کی وہ چیز مباح ہے تو وہ کام مباح ہے اور اگر وہ چیز ناجائز ہے تو وہ کام ناجائز ہے۔

نیت کا معنی ہے : قصدمصمم اور پکا ارادہ اور اس عمل کے لیے تحریک کرنا۔

اس حدیث کا پہلا جملہ ہے اعمال کا مدار صرف نیات پر ہے اور دوسرا جملہ ہے : ہر شخص کے عمل کا ثمرہ وہی ہوگا جس کی اس نے نہت کی ہے پہلے جملہ میں اس پر تنبیہ ہے کہ اعمال پر ثواب اور عذابکا مدار ان اعمال کی نیت پر ہے دوسرے جملہ میں اس پر تنبیہ ہے کے اعمال میں مقدار کاتعین ان کی نیات سے ہوتا ہے مثلا مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جانا ایک عمل ہے اگر اس میں انسان کئی کاموں . کی نیت کر لے تو اس کو کئی کاموں کا ثواب ملے گا مثلا وہ یہ نیت کرے کہ راستے میں اس کو جو مسلمان ملے گا وہ اس کو سلام کرے گا اگر اس نے پہلے سلام کر لیا تو اس کے سلام کا جواب دے گا اگر کوئی ضرورت مند سائل ملا تو اپنی حیثیت کے مطابق اس کا سوال پورا کرے نیکی کا حکم دے گا برائی سے روکے گا مسجد میں پہلے دایاں پیر داخل کرے گا اور یہ دعا پڑھے گا:” اللهم افتح لی ابواب رحمتك وغیرها تو اگر وہ ایک عمل میں متعدد نیک کاموں کی نیت کرے گا تو اس ایک عمل میں اس کو متعدد نیک کاموں کا ثواب ملے گا۔

نیت میں مذاہب اور فقہاء احناف کے موقف پر دلائل

علامہ ابن جوزی متوفی ۵۹۷ھ لکھتے ہیں: امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک شریعت میں کوئی عمل اس وقت معتبر ہوتا ہے جب اس ملک میں عبادت کی نیت کی جائے مثلا اگر کوئی شخص ٹھنڈک حاصل کرنے کی نیت سے غسل کرے تو اس غسل سے جنابت زائل نہیں ہوگی اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک پانی سے طہارت حاصل کرنے کے لیے عبادت کی نیت ضروری نہیں ،اگر کوئی شخص ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے غسل کرے پھر بھی اس غسل سے جنابت زائل ہوجائے گی۔ کشف المشكل ج1 ص ۱۸ دار الکتب العلمیہ بیروت 1424ھ)

فقہاء احناف کی دلیل یہ ہے کہ ہر عمل شرعی میں عبادت کی نیت کرنا ضروری نہیں ہے کیونک قرض کا ادا کرنا امانتوں کا واپس کرنا اذان دینا، تلاوت قرآن مجید کرنا’ وعظ و نصیحت کرنا راستہ دکھانا راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا یہ سب کام عبادات ہیں اور اس پر اجماع ہے کہ یہ سب کام عبادات کی نیت کے بغیر صحیح ہیں لہذا غسل اور وضو بھی عبادت کی نیت کے بغیر صحیح ہونے چاہیں۔

نیز فقہاء احناف کی دلیل یہ حدیث بھی ہے:

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: مال دار تو اجر لے گئے وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنے زائد اموال کو صدقہ کرتے ہیں آپ نے فرمایا: کیا الله تعالی نے تمہارے لیے صدقات نہیں رکھے ہر تسبیح کرنا صدقہ ہے اور ہر تکبیر پڑھنا صدقہ ہے اور ہر حمد کرنا صدقہ ہے اور ہر مرتبه لا اله الا الله“ پڑھنا صدقہ ہے اور نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنی بیویوں سے جماع کرنا صدقہ ہے صحابہ نے کہا: یا رسول الله! ہم میں سے کوئی شخص اپنی شہوت پوری کرنے کے لیے جماع کرے اس میں بھی اس کے لیے اجر ہوگا؟ آپ نے فرمایا: یہ بتائو کہ اگر وہ اپنی شہوت حرام طریقہ سے پوری کرتا تو اس میں اس کے اوپر گناہ ہوتایا نہیں؟ پس اسی طرح جب وہ اپنی شہوت حلال طریقے سے پوری کرے گا تو اس کے لیے اجر ہوگا۔ (دوسری روایت میں فرمایا: کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ صرف برے کاموں میں تمہارا حساب ہوگا اور اچھے کاموں میں تمہارا حساب نہیں ہو گا۔ (صحیح مسلم:1006’الادب المفرد:227’شرح السنه: 1944 صحیح ابن حبان :838 مسند البزار: ۳۹۱۸’ مسند احمد ج۵ سے 167 طبع قدیم مسند احمد: 21473 ج35 ص 376 مؤسسة الرسالة بیروت 1420ھ)

اس حدیث میں یہ واضح تصریح ہے کہ اگر کسی جائز اور صحیح کام میں عبادت کی نیت نہ بھی کی جاۓ تب بھی اس میں اجر و ثواب ملتا ہے۔

ہجرت کی تعریف اس کی اقسام اور صورتیں

اس حدیث میں ہجرت کا لفظ ہے ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ یہ حدیث ایک خاص صحابی کے متعلق وارد ہے جس نے ام قیس (قیلہ نام کی عورت) کی خاطر ہجرت کی تھی (اس صحابی کا نام معروف نہیں ہے )لیکن خصوصیت مورد کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ عموم الفاظ کا اعتبار ہوتا ہے اس لیے ہم ہجرت کی تفصیل اور تحقیق کر رہے ہیں۔

ہجرت کا لغوی معنی ہے : ترک کرنا۔ ( مختار الصحاح ص۳۹۷ بیروت ) اور اس کا اصطلاحی معنی ہے: کافروں کے علاقے کو ترک کرکے مسلمانوں کے علاقے میں جانا یا دارالخوف کو ترک کر کے دارالاسلام کی طرف جانا اور لغوی اور اصطلاحی معنی کے اعتبار سے ہجرت کی حسب ذیل صورتیں اور اقسام ہیں:

(1) ابتداء میں مسلمانوں کا مکہ معظمہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کرنا اور دارالخوف سے دارالامن کی طرف ہجرت ہے یا جیسے اب مسلمانوں کا بھارت سے برطانیہ امریکا ہالینڈ یا بعض افریقی ممالک کی طرف ہجرت کرنا۔

(۲) مسلمانوں کا مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا یا بعد میں اسلام لانے والوں کا مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔

(۳) جوشخص کافروں کے ملک میں رہتا ہو اور وہاں شعائر اسلام اور اظہار دین پر قادر نہ ہوتو اس پر دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنا واجب ہے جسے بھارت سے مسلمانوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کی ۔

(۴) برے کاموں کو ترک کر کے نیک کاموں کی طرف ہجرت کرنا حدیث میں ہے: مہاجر وہ ہے جو الله تعالی کے منع کیے ہوۓ کاموں سے ہجرت کرے۔ (صحیح البخاری : ۱۰)مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں سے ہجرت کرے۔ (سنن ابن ماجہ:3943) مہاجر وہ ہے جو برائیوں سے ہجرت کرے۔ (مسند احمد ج ۲ ص206)

(۵) آخری زمانہ میں جب فتنوں کا ظہور ہوگا تو لوگ شام کی طرف ہجرت کریں گے حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب ایک ہجرت کے بعد دوسری ہجرت ہوگی پھر رد ئے زمین کے نیک لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کو لازم پکڑ لیں گے اور روئے زمین کے برے لوگ اپنی جگہوں پر رہیں گے۔

علامہ ابن اثیر متوفی 606ھ نے کہا: اس سے مرادشام کا علاقہ ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق سے نکل کر شام کی طرف ہجرت کی تھی ۔ ( النہاية ج۵ ص ۲۱۲ دارالکتب العلمیہ بیروت 1418ھ)

آیا ہجرت فتح مکہ کے بعد منقطع ہوگئی یا قیامت تک باقی رہے گی ؟

ہجرت کے متعلق احادیث میں تعارض ہے بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت تک ہجرت جاری رہے گی اور بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت منقطع ہو جائے گی جن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت منقطع ہوجاۓ گی وہ یہ ہیں :

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم کو جہاد کے لیے بلایا جائے تو جہاد کے لیے روانہ ہو جاؤ ۔ (صحیح بخاری : ۲۷۸۳،سنن ابو داؤد:۲۴۸۰ مسلم : ۵۳ ۱۳ ترمذی : ۱۵۹۰)

عبید بن عمرو نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: آج کل ہجرت نہیں ہے پہلے مومنین کو یہ خطرہ تھا کہ ان کو آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا تو وہ اپنے دین کو بچانے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بھاگتے تھے اور اب اللہ تعالی نے اسلام کو غلبہ عطا فرما دیا ہے اب مومن جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کرے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ صحیح بخاری:3900)

حضرت مجاشع بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے بیٹے معبد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گیا تا کہ آپ اس کو ہجرت پر بیعت کریں آپ نے فرمایا: ہجرت مہاجروں کے لیے ختم ہو چکی ہے پھر آپ نے اس کو اسلام اور جہاد پر بیعت کرلیا۔ (صحیح بخاری: 2962 صحیح مسلم: ۱۸۶۳)

مذکور الصدر احادیث نے اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ہجرت منقطع ہوچکی ہے اور جو حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہجرت قیامت تک جاری رہے گی ،وہ یہ ہے ۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہوگی جب تک توبہ منقطع نہ ہو اور توبہ اس وقت منقطع ہوگی جب سورج مغرب سے طلوع ہو۔ (سنن ابوداؤد: ۲۴۷۹)

ہجرت کی متعارض احادیث میں تطبیق اور توفیق

ان متعارض احادیث میں تطبیق اس طرح ہے کہ ابتداء اسلام میں ہجرت فرض تھی اور فتح مکہ کے بعد ہجرت کی فرضیت منسوخ ہوگئی اب ہجرت مستحب ہے فرض نہیں ہے لہذا جو ہجرت منقطع ہوچکی ہے وہ فرض ہے اور جو ہجرت قیامت تک باقی رہے گی وہ مستحب ہے۔

علامه ابوالسعادات المبارك بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی 606ھ لکھتے ہیں:

ہجرت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہجرت وہ ہے جس پر الله تعالی نے اپنے اس قول میں جنت کا وعدہ کیا ہے:

إن الله اشتري من المؤمنين أنفسهم وأموالهم بان لهم الجنتہ التوبہ :111)

بے شک اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا ہے۔

ایک شخص اپنے اہل اور مالک کو چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اور ان میں سے کسی چیز کی طرف رجوع نہیں کرتا اور جس جگہ سے ہجرت کی تھی وہاں سے اپنے آپ کو بالکل منقطع کر لیتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص اس جگہ فوت ہو جہاں سے اس نے ہجرت کی تھی اور جب حضرت سعد بن خولہ مکہ میں فوت ہوگئے تو آپ نے اس پر اظہار افسوس کیا۔ (صحیح بخاری:1295 صحیح مسلم : 1628)اور آپ نے یہ دعا کی: اے اللہ! ہمیں مکہ میں نہ فوت کرنا ۔ ( مسند احمد ج ۲ص ۲۵) پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو پھر وہ مدینہ کی طرح دارالاسلام ہوگیا،سو جو ہجرت فتح مکہ کے بعد منقطع ہوگئی وہ یہی ہجرت ہے۔

اور دوسری ہجرت وہ ہے جو اعراب اور دیہاتیوں کی ہجرت ہے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا، لیکن ان کی ہجرت اس طرح نہیں تھی جس طرح پہلی قسم والوں کی ہجرت تھی پس وہ بھی مہاجر ہیں لیکن پہلی قسم کی ہجرت کرنے والوں کی فضیلت میں داخل نہیں ہیں اور جو ہجرت قیامت تک منقطع نہیں ہوگی وہ یہی ہجرت ہے۔( النهاية ج 5 ص 212 دارالکتب العلمیہ بیروت 1418ھ)

حدیث کے عنوان کی حدیث کے ساتھ مطابقت کی وجوہ

امام بخاری نے اس حدیث کا عنوان قائم کیا ہے:” بدء الوحی” یعنی وحی کی ابتداء اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس عنوان کے تحت امام بخاری نے جو جو حدیث ذکر کی ہے اس میں وحی کی ابتداء کا ذکر نہیں ہے اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں:

(1) “بدء“ کا معنی ابتداء بھی ہے اور ظہور اور غلبہ بھی ہے،وحی کی ابتداء کا ذکر اس باب کی تیسری حدیث میں ہے اور یہ حدیث آپ نے مدینہ منورہ میں ارشاد فرمائی تھی اور وحی کا ظہور اور غلبہ مدینہ منورہ میں ہوا تھا۔

(۲) اس حدیث میں فرمایا ہے: اعمال کا مدار نیات پر ہے یعنی ہر کام میں حسن نیت اور اخلاص ہونا چاہیے اور اس حدیث کو وارد کرنے سے امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اس ” الجامع الصحيح المسند” کو حسن نیت اور اخلاص کے ساتھ مدون کیا ہے۔

(۳) اس حدیث میں ہجرت کا ذکر ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں بیان فرمائی ۔

(4) یہ حدیث رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں منبر پر خطبہ میں ارشاد فرمائی اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس حدیث کو منبر پر خطبہ میں بیان کیا اور جب یہ حدیث منبر پر خطبہ بن سکتی ہے تو کتاب کے شروع میں بھی خطبہ بن سکتی ہے ،سو امام بخاری نے یہ چاہا کہ اپنی اس کتاب میں اپنے الفاظ پر مشتمل خطبہ لکھنے کے بجائے حدیث صحیح کی اس کتاب میں حدیث صحیح کو ہی به طور خطبہ وارد کیا جائے، اسی وجہ سے امام بخاری نے اپنی اس کتاب میں الگ خطبہ نہیں لکھا۔

امام بخاری نے اپنی اس کتاب کے شروع میں اللہ تعالی کی حمد کو ذکر کیوں نہیں کیا؟

امام بخاری پر ایک اور اعتراض یہ ہوتا ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مہتم بالشان کام جس کے شروع میں( اللہ تعالی کی حمد نہ کی جائے وہ نا تمام رہتا ہے۔ (سنن بیہقی ج ۳ ص 209 مشکوتہ : 3151 کنز العمال : 2511)

اور امام بخاری نے اپنی اس کتاب کے شروع میں الله تعالی کی حمد نہیں بیان کی اس کا جواب یہ ہے کہ امام بخاری نے اپنی اس کتاب کو قرآن مجید کی آیت النساء : 163 سے شروع کیا ہے اور اس کے بعد “انما الاعمال بالنيات ” حدیث صحیح کو روایت کیا ہے جو خطبہ کے قائم مقام ہے اور امام بخاری نے اللہ تعالی کی حمد کے لیے اس آیت اور اس حدیث کو کافی قرار دیا علاوہ ازیں اس کے شروع میں بسم الله الرحمن الرحيم لکھی ہے اور رحمان اور رحیم الله تعالی کی صفات کمال ہیں ، اور حمد کا معنی ہے : اظہار صفات کمال لہذا” بسم الله الرحمن الرحیم لکھنے سے الله تعالی کی حمد ہوگئی اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے جو مکاتیب احادیث میں درج ہیں ان کے شروع میں صرف بسم الله الرحمن الرحيم لکھی ہوئی ہے اور حمد کے الفاظ درج نہیں ہیں، سو امام بخاری نے اپنی اس کتاب کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے مطابق بنایا۔

* ہم نے اس حدیث کی شرح، شرح صحیح مسلم : 4812۔ ج۵ ص 921-925 میں بھی کی ہے لیکن یہاں پر اس سے بہت زیادہ تفصیل اور تحقیق کی ہے نیز اس شرح کی بعض چیزوں کو حذف کر کے بہت سے نئے مباحث کا اضافہ کیا ہے اور اس کی بہ نسبت یہاں احادیث کی تخریج بھی بہت زیادہ کی ہے۔ ولله الحمد.