حدیث نمبر 762

روایت ہے انہی سے اورحضرت ابوسعید سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مسلمان کو تکلیف بیماری غم و رنج ایذائےغم حتی کہ کانٹا جو اسے لگے نہیں پہنچتا مگر اﷲ اس کی برکت سے خطائیں مٹا دیتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اذی اورغم ہم معنی ہیں،کبھی ان دونوں میں یہ فرق کیاجاتاہے کہ اذی وہ ہے جوکسی کی طرف سے انسان کو پہنچے اورغم میں یہ قید نہیں،نیز حزن معمولی غم کو بھی کہتے ہیں اورغم سخت کو یعنی وہ غم جو انسان کو قریبًا بے ہوش کردے،بعض نے فرمایا کہ آنے والے خطرے پر تکلیف کا نام ھمہے اورگزشتہ پرغم و حزن۔خلاصۂ حدیث یہ ہے کہ صابرمسلمان کی تھوڑی تکلیف بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ اگرکسی کو عبادتوں میں لذت نہ آئے،اس پر اسےغم ہو یہ بھی گناہوں کی معافی کا باعث ہے،عبادات کی لذت پانے والا لذت کے لیے بھی عبادت کرتا ہے مگر اس سے محروم خالص اﷲ کیلئے۔