بزرگانِ دین کا اندازِ تجارت

(فرمان عطاری مدنی)

دینِ اسلام نے جہاں ہمارے خاندانی،مُعاشرتی،اَخلاقی نظام کو بہتر بنانے میں ہماری رہنمائی کی ہے وہیں معاشی وتجارتی مُعاملات کوبحسن وخوبی انجام دینے کیلئے بھی کئی زَرّیں اُصول عطا فرمائے ہیں۔ان اسلامی اُصولوں پرعمل کرکےہمارے بُزرگانِ دین نے سچائی اور دِیانت داری کی وہ مثالیں قائم فرمائیں جو قیامت تک آنے والے تاجروں کیلئے مینارِ نُور بن کر رہنمائی کرتی رہیں گی۔

تمام کپڑوں کی قیمت صدقہ کردی: اسلامی اُصولِ تجارت میں سے ایک اَہم بات دھوکہ دَہی سے بچنا ہے۔ بُزرگانِ دین گاہک کودھوکہ دَہی کے ذریعے عیب دارچیز تھمانے کے بجائے خریدارپراس عیب کو واضح کیا کرتے، جیساکہ امامِ اعظم ابُوحنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نےایک بار اپنے شریکِ تجارت سےفرمایا: فُلاں کپڑے میں کچھ عیب ہے۔ جب اُسے فروخت کروتو عیب بیان کر دینا۔لیکن جب ما لِ تجارت فروخت کیاگیا تو وہ عیب بتانابھول گئے۔ جب امامِ اعظمرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے تمام کپڑوں کی قیمت صدقہ کردی ۔(تاریخ بغداد،ج13،ص356)

تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا:حضرت سَیِّدُنا سری سقطی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کامعمول تھا کہ کوئی چیز بیچتے وقت تین دینار سے زیادہ نفع نہ لیتے ۔ ایک مرتبہ آپ نے 60دینار کے 96صاع بادام خریدکربازار میں ان کی قیمت 63دینار رکھی، ایک تاجر نے سارے بادام خریدنے کیلئے قیمت پوچھی تو آپ نے فرمایا: 63 دینار۔خریدنے والے نے خود کہا:حضور! باداموں کا ریٹ بڑھ چکاہے۔آپ 90دینار میں یہ (96 صاع ) بادام مجھے فروخت کردیں۔آپ نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے وعدہ کرلیا ہے کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا۔(عیون الحکایات، ص164 ، ملخصاً)

ایثار کا جذبہ: نیک لوگوں کی ایک پاکیزہ صفت یہ بھی ہے کہ مارکیٹ میں موجود اپنے مسلمان تاجروں کیلئے ایثار کا جذبہ رکھتے تھے،جیساکہ قُطبِ مدینہ مولانا ضیاءُ الدّین احمد قادری مدنی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک مالدار حاجی صاحِب کافی مقدار میں کپڑے کی خریداری کیلئےایک کپڑا فروش کے پاس گئے۔دکاندار نے کہا: میں آپ کا آرڈر پورا تو کرسکتا ہوں مگرآپ سامنے والی دُکان سے خرید لیجئے کیونکہاَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ آج میری اچّھی بِکری ہوگئی ہے، جبکہ اُس بے چارے کا دھندا آج کچھ مَندا (یعنی کم ہوا) ہے۔

حقوقُ اللہ کی پاسداری کرتے:بُزرگانِ دین دورانِ تجارت حُقُوقُ اللہ کی ادائیگی کاخاص اہتمام فرماتے جیساکہ حضرت ابنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھا کہ بازار والے اذان سنتے ہی اپناسامان چھوڑکرنماز کیلئے کھڑے ہوگئے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایاکہ اِنہی لوگوں کے حق میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ نےفرمایا: ( رِجَالٌۙ-لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ) (تَرْجَمَۂ کنز الایمان:وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت الله کی یاد(سے)،پ18،النور :37) ( معجم کبیر،ج9،ص 222، حدیث: 9079)

میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!دیکھاہمارے بُزرگانِ دین کا اندازِ تجارت کیسا شاندار تھا مگر افسوس ہمارے تجارتی مُعاملات میں بددیانتی، ناانصافی،دروغ گوئی،فریب دَہی،سُود خوری اور بدخواہی جیسی بُرائیاں گھس گئیں اورکاروبار میں بے برکتی عام ہوگئی۔اگر ہم شرعی حُدود و قُیود میں رہتے ہوئے تجارت کریں،بُزرگانِ دین کے اندازِ تجارت کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنائیں گے تو ہمارے کاروبار میں کثرت وبرکت کے ساتھ ہماری معیشت کو بھی اِسْتِحکام نصیب ہوگا اور خوشحالی بھی عام ہوگی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اسلامی اُصولوں کے مُطابق رزقِ حلال کمانے اور کھانے کی توفیق نصیب فرمائے۔