حدیث نمبر 753

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی قیامت کے دن فرمائے گا اے انسان میں بیمار ہوا تو نے میری مزاج پرسی نہ کی بندہ کہے گا الٰہی میں تیری عیادت کیسے کرتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا کیا تجھے خبر نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تو تو نے اس کی بیمار پرسی نہ کی ۱؎ کیا تجھے خبرنہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا اے آدمی میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے نہ کھلایا عرض کرے گا الٰہی تجھے میں کیسےکھلاتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا کیا تجھےعلم نہیں کہ تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تونے اسے نہ کھلایا کیا تجھے پتہ نہیں کہ اگر تو اسے کھلاتا تو میرے پاس پاتا ۲؎ اے انسان میں نے تجھ سے پانی مانگا تو تو نے مجھے نہ پلایا عرض کرے گا مولا میں تجھے کیسے پلاتا تو تو جہانوں کا رب ہے فرمائے گا تجھ سے میرے فلاں بندے نے پانی مانگا تو نے اسے نہ پلایا اگر تو اسے پلاتا تو آج میرے پاس وہ پاتا ۳؎(مسلم)

شرح

۱؎ اس میں اشارۃً یہ فرمایا گیا کہ بندہ مؤمن بیماری کی حالت میں رب تعالٰی سے اتنا قریب ہوتا ہے کہ اس کے پاس آنا گویا رب کے پاس ہی آناہے اور اس کی خدمت گویا رب کی اطاعت ہے بشرطیکہ صابروشاکرہوکیونکہ بیمار مؤمن کا دل ٹوٹا ہوتاہے اور ٹوٹے دل بیمار کاشانہ یار ہیں،حدیث قدسی ہے”اَنَاعِنْدَالْمُنْکَسِرَۃِ قُلُوْبُھُمْ لِاَجَلِیْ”میں ٹوٹے دل والوں کے پاس ہوں۔اس ترتیب سےمعلوم ہورہا ہے کہ بیمار پرسی اگلے اعمال سے افضل ہے کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر پہلے کیا۔

۲؎ یعنی اس کھانے کا ثواب یہاں پاتا۔خیال رہے کہ بیمار پرسی کے بارے میں فرمایا کہ تو بیمار کے پاس مجھے پاتا اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کے بارے میں فرمایا کہ تو اس کا ثواب یہاں پاتا۔معلوم ہوا کہ بیمار پرسی بہت اعلیٰ عبادت ہے۔

۳؎ اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ فقراءمساکین اﷲ کی رحمت ہیں،ان کے پاس جانے،ان کی خدمتیں کرنے سے رب مل جاتا ہے،تو اولیاءاﷲ کا کیا پوچھنا ان کی صحبت رب سے ملنے کا ذریعہ ہے،مولانا فرماتے ہیں۔شعر

ہر کہ خواہد ہم نشینی باخدا اونشیند در حضور اولیا

قرآن کریم فرماتا ہے:”وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا”الایۃ “لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا۔صوفیاءفرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ جوگنہگارتمہارے پاس آجائے وہ خداکو پالے گا،مولانا کے شعر کا ماخذ یہ آیت اور یہ حدیث ہے۔