حدیث نمبر 757

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو اپنے پر اعوذ کی آیات دم کرتے اور اپنا ہاتھ وہاں پھیرتے ۱؎ تو جب حضور کو وہ بیماری ہوئی جس میں حضور کی وفات ہوئی تو میں آپ پر وہی دعائیں دم کرتی جو آپ دم کرتے تھے اور آپ کا ہاتھ پھیرتی۲؎ (مسلم،بخاری)اورمسلم کی روایت میں ہے فرماتی ہیں کہ جب حضور کے گھر والوں میں سےکوئی بیمارہوتا تو آپ اس پر اعوذ والی آیات دم کرتے۳؎

شرح

۱؎ عنہ کی ضمیر نفث کی طرف ہے یعنی وہ آیات پڑھ کر اپنے ہاتھ پر دم کرتے،پھر ہاتھ شریف بیمار جگہ پر پھیر لیتے تاکہ آیت قرآنی کا دم شریف اور ہاتھ کی برکتیں جمع ہوجائیں۔اس حدیث سےصوفیاء کا دم درود بیمار جگہ پر ہاتھ پھیرنا سب ثابت ہوا۔

۲؎ یعنی مرضِ وفات میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے تو دم و دعائیں ساری چھوڑ دی تھیں کیونکہ آپ جانتے تھے یہ بیماری آخری ہے اس سے شفاءنہیں۔(مرقاۃ)مگر ام المؤمنین مایوس نہ تھیں،شفاء کے لیے آیتیں پڑھتیں اور برکت کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر دم کرتیں۔

۳؎ جیسے فلق اور ناس وغیرہ،یہاں ہاتھ پھیرنے کا ذکر نہیں کیونکہ آپ کبھی فقط دم کرتے تھے کبھی ہاتھ بھی پھیرتے تھے۔