حدیث نمبر 751

روایت ہےحضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا اور سات سے منع کیا،ہمیں مریض کی عیادت،جنازوں کے ساتھ جانے،چھینک والے کا جواب دینے،سلام کا جواب دینے،دعوت قبول کرنے،قسم والے کو بری کرنے ۱؎ مظلوم کی مددکرنے کا حکم دیا ۲؎ اورسونے کی انگوٹھی باریک وموٹے ریشم و دیباج پہننے۳؎ سرخ نمدے ۴؎ اورقسی پہننے۵؎ چاندی کے برتن کے استعمال سے منع فرمایا اور ایک روایت میں ہے کہ چاندی میں پینے سے منع فرمایا کہ جو دنیا میں اس میں پی لے گا وہ آخرت میں اس سے نہ پی سکے گا۶؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یعنی اگر کوئی شخص آئندہ کے متعلق کسی ایسے کام کی قسم کھائے جوتم کرسکتے ہو تو ضرورکردو تاکہ اس کی قسم پوری ہوجائے اورکفارہ واجب نہ ہو،مثلًا کوئی کہے کہ خدا کی قسم جب تک تم فلاں کام نہ کرلو میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں یا خدا کی قسم کل تم میرے پاس ضرورآؤ گے یا اگر تم فلاں کام نہ کرو تو میری بیوی کو طلاق،ان سب صورتوں میں تم وہ کام ضرور کرلو،بشرطیکہ وہ کام ناجائز نہ ہو۔

۲؎ لمعات ومرقات میں ہے کہ مظلوم مسلمان ہو یا کافر و ذمی یا مستامن حتی المقدور اس کی ضرور مدد کی جائے۔

۳؎ حریر سےمراد باریک ریشم ہے اور استبراق سے موٹا ریشم،دیباج وہ ہے جس کا بانا ریشم ہو اور تانا سوت وغیرہ کایا وہ جس میں ریشم زیادہ ہو اور دوسری چیزکم،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تفصیل تاکیدًا فرمائی یعنی کسی طرح کا ریشم مرد نہ پہنیں۔

۴؎ گھوڑے کی کاٹھی پر گدیلایانرم و موٹا کپڑا میثرہ کہلاتا ہے یہ اگر ریشم کا ہو تو حرام ہے اور اگرکسی اور کپڑے کا ہومگر ہو سرخ تو مکروہ کیونکہ یہ متکبرین کی علامت ہے،خود کاٹھی کا بھی یہی حکم ہے۔

۵؎ مصر کے علاقہ میں ایک بستی قسی تھی،وہاں کے بنے ہوئے کپڑے کو قسی کہتے تھے،جیسے ہمارے ہاں بھاگل پوری قسی کتان اور حریر سے بنتا تھا مگر حریر غالب ہوتا تھا اس لیے اس سے منع فرمایا گیا۔منشاء یہ ہے کہ نام کچھ بھی ہو ریشم پہننا حرام ہے،شراب کو برانڈی کہہ دینے سے حرمت ختم نہیں ہوجاتی۔

۶؎ یعنی وہ جنت میں نہ جائے گا کیونکہ تمام جنتی چاندی کے برتنوں میں پئیں گے،رب تعالٰی فرماتا ہے:”قَوَارِیْرَا۠ؔؔ﴿ۙ۱۵﴾ قَوَارِیْرَا۠ؔؔ مِنۡ فِضَّۃٍ”۔مطلب یہ ہے کہ اپنے عذاب اور دوزخ میں رہنے کی مدت تک جنت میں جانے اور وہاں کے برتنوں کے استعمال سےمحروم رہے گا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اسے جنت میں بھی دوسرے برتن دیئے جائیں گے۔خیال رہے کہ سوناچاندی پہننے کی حرمت صرف مردوں کے لیے ہے،عورتوں کے لیے یہ سب جائز ہے،لیکن چاندی سونے کے برتنوں میں کھانا پینا عورت مرد سب کو حرام۔