حدیث نمبر 749

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں ۱؎ سلام کا جواب دینا،بیمارکی عیادت کرنا،جنازوں کے ساتھ جانا،دعوت قبول کرنا،چھینک کا جواب دینا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ پانچ کی تعداد حصر کے لیے نہیں بلکہ اہتمام کے لیے ہے یعنی پانچ حق بہت شاندار اورضروری ہیں کیونکہ یہ قریبًا سارے فرض کفایہ اورکبھی فرض عین ہیں لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زیادہ حقوق بیان ہوئے۔خیال رہے کہ یہ اسلامی حقوق ہیں۔مسلمان فاسق ہویا متقی سب کے ساتھ یہ برتاوے کیے جائیں،کافروں کا ان میں سےکوئی کوئی حق نہیں۔

۲؎ بیمارکی عیادت اور خدمت یوں ہی جنازے کے ساتھ جانا عام حالات میں سنت ہے لیکن جب کوئی یہ کام نہ کرے تو فرض ہے،کبھی فرض کفایہ،کبھی فرض عین،یوں ہی دعوت میں شرکت کھانے کے لیے یا وہاں انتظام و کام و کاج کے لیے سنت ہے،کبھی فرض لیکن اگر خاص دسترخوان پرناجائز کام ہوں جیسے شراب کا دور یا ناچ گانا تو شرکت ناجائزہے،چھینکنے والا الحمدﷲ کہے تو سننے والے سب یا ایک جواب میں کہیں “یَرْحَمُكَ اﷲُ”پھرچھینکنے والاکہے”یَھْدِیْکُمُ اﷲُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ”اور اگر وہ حمد نہ کرے یا اسے زکام ہےکہ باربارچھینکتاہے تووہ پھر جواب ضروری نہیں۔سلام کرنا سنت ہے اور جواب دینا فرض مگر ثواب سلام کا زیادہ ہے،یہ ان سنتوں میں سے ہے جس کا ثواب فرض سے زیادہ ہے۔(شامی ومرقاۃ وغیرہ)اس کے مسائل ان شاءاﷲ “کتاب الادب”میں آئیں گے۔