أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُكۡرَمِيۡنَ‌ۘ ۞

ترجمہ:

(اے رسول مکرم ! ) کیا آپکے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ارے رسول مکرم ! ) کیا آپکے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے ؟۔ جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : سلام ! ابراہیم نے (بھی) جواب میں کہا : سلام (اور دل میں سوچا) یہ اجنبی لوگ ہیں۔ پھر چپکے سے اپنے گھر گئے پس بھنا ہوا فربہ بچھڑا لے آئے۔ سو بچھڑا ان کے سامنے رکھ کر کہا : کیا تم نہیں کھاتے ؟۔ پھر ابراہیم کو ان سے خوف محسوس ہوا ‘ انہوں نے کہا : آپ ڈریئے مت اور ان کو ایک علم والے لڑکے کی بشاری دی۔ پھر ان کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اپنے چہرے پر ہاتھ مار کر کہا : میں تو بڑھبا (اور) بانجھ ہوں۔ انہوں نے کہا : آپ کے رب نے اسی طرح فرمایا ہے ‘ بیشک وہی بہت حکمت والا ‘ بےحد علم والا ہے۔ (الذریت : ٣٠۔ ٢٤ )

حضرت ابراہیم کے پاس فرشتوں کا مہمان ہونا

ان آیتوں میں یہ قصہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بدکار قوم پر عذاب دینے کے لیے بھیجے تھے ‘ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی سدوم میں جانے سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے ‘ کیونکہ حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے ‘ وہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اجنبی شکل و صورت میں گئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ضیافت کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے ‘ جب انہوں نے کھانے سے ہاتھ روکا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خوف زدہ ہوئے کہ یہ مرا نمک کیوں نہیں کھا رہے ؟ کہیں ہی مجھے کوئی نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتے ‘ تب انہوں نے بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ فرشتے ہیں اور انہوں نے آپ کو ایک علم والے بیٹے کی بشاری دی ‘ اور بعد میں بتایا کہ وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کو عذاب پہنچا نے کے لیے آئے ہیں ‘ اس کی تفصیل بعد والی آیتوں میں آئے گی۔

ان آیتا کی مفصل تفسیر ہم ھود : ٧٣۔ ٦٩“” تبیان القرآن “ ج ٥ ص ٥٩٣۔ ٥٨٤ میں بیان کرچکے ہیں ‘ وہاں ملاحظہ فرمائیں ‘ اس تفسیر کے عنوانات حسب ذیل ہیں :

(١) حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ (٢) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آنے والے فرشتوں کی تعداد اور ان کی بشارت میں مختلف اقوال (٣) فرشتوں کے سلام کے الفاظ (٤) سلام کے متعلق احادیث (٥) جن لوگوں کو سلام کرنا مکروہ ہے اور جن لوگوں کے سالم کا جواب دینا ضرور نہیں یا مکروہ ہے (٦) سلام کرنے کے شرعی الفاظ اور اس کے شرعی احکام اور مسائل (٧) اسلام میں مہمان نوازی کی حیثیت (٨) مہمان نوازی کے متعلق احادیث اور ان کی تشریح (٩) مہمان نوازی کے متعلق مذاہب فقہائ (١٠) مہمان نوازی کے وجوب کے متعلق احادیث (١١) مہمان نوازی کے وجوب کے دلائل کے جوابات (١٢) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خوف زدہ ہونے کی وجوہ (١٣) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مہمانوں کے فرشتے ہونے کا علم تھا یا نہیں (١٤) پچھلی امتوں میں بھی کھانے سے پہلے ” بسم اللہ “ پڑھنا مشروع تھا (١٥) حضرت سارہ کے ہنسنے کی وجوہ (١٦) ” یا ویلتی “ کا معنی اور ترجمہ (١٧) اہل بیت کے مصداق کی تحقیق۔

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے عذاب سے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا

ان آیات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل کو تسلی دینے کی طرف اشارہ ہے کہ پچھلی امتوں میں بھی کفار انبیاء (علیہم السلام) کے پیغام کی تکذیب کرتے تھے ‘ تب ہی حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے فرشتے بھیجے گئے ‘ اس لیے اگر آپکی قوم کے کفار آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ پریشان نہ ہوں ‘ اور ان فرشتوں کو پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بھیجا گیا تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عزت افزائی ہو اور ان کا مقام اور مرتبہ ظاہر ہو۔

ان فرشتوں کے متعلق فرمایا : یہ ابراہیم کے معزز مہمان ہیں حالانکہ واقع میں وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمان نہ تھے ‘ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چونکہ ان کو اپنا مہمان گمان کیا تھا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب نہیں کی اور ان کو حضرت ابر اہیم (علیہ السلام) کا مہمان ہی قرار دیا اور اس میں یہ بتایا ہے کہ صادق وہ ہوتا ہے جس کا کلام واقع کے مطابق ہو اور صدیق وہ ہوتا ہے کہ واقع اس کے کلام کے مطابق ہوجائے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صدیق تھے ‘ قرآن مجید میں ہے :

انہ کان صدیقا نبیا۔ (مریم : ٤١) بیشک ابراہیم صدیق (بہت سچے) نبی تھے۔

اسی طرح ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے سفر میں ایک شخص کے متعلق فرمایا :” کن ابا خیثمۃ “ تو ابا خیثمہ ہوجا تو وہ ابا خیثمہ ہوگیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٦٩ )

ان فرشتوں نے کہا : ہم کو مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے ‘ وہ مجرم قوم حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں میں تھی ‘ پھر ان فرشتوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کیوں بھیجا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تکریم کے لیے تھا ‘ تاکہ ان کو پہلے سے معلوم ہوجائے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں میں عذاب آنے والا ہے اور وہ نا گزیر ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت بدکار قوم تھی اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار منع کرنے کے باوجود باز نہیں آتی تھی اور ان آیتوں میں ذکر ہے کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی ‘ اس سے مراد حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ہے :

وبشرنہ باسحق۔ (الصفت : ١١٢) اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق کی بشارت دی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 24