۲- باب

باب

۲- حدثنا عبدالله بن يوسف قال أخبرنا مالك،عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أن الحارث بن هشام رضي الله عنه سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يارسول الله كيف ياتيک الوحی؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أحيانا یاتینی مثل صلصلة الجرس، وهو اشدة على فيفصم عني وقد وعيت عنه ما قال وأحيانا یتمثل الى الملک رجلا، فيكلمنى فاعى ما يقول قالت عائشة رضي الله عنها ولقد رایته ينزل عليه الوحي في اليوم الشديد البرد فیفصم عنه وإن جبينه ليتفصد عرقا . (طرف الحدیث:3215)

امام بخاری نے کہا کہ ہمیں عبد اللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا کہ ہمیں مالک نے خبر دی از ہشام بن عروہ از والد خود از حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنھا که حضرت الحارث بن ہشام رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، پس کہا: یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی تھی ؟ تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبھی کبھی وحی میرے پاس گھنٹی کی جھنکار کی مثل آتی تھی اور وہ مجھ پر سخت دشوار ہوتی ہے پھر جب وہ وحی مجھ سے منقطع ہوتی تو میں یاد کرچکا ہوتا ہوں کہ فرشتہ نے کیا کہا تھا اور کبھی فرشتہ میرے لیے مرد کی شکل میں متشکل ہوجاتا ہے سو وہ مجھ سے بات کرتا رہتا ہے اور میں یاد کرتا رہتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بے شک میں نے دیکھا کہ سخت سرد دن میں آپ پر وحی نازل ہوتی تو جس وقت وحی آپ سے منقطع ہوتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا تھا۔

(صحیح مسلم: ۲۳۳۳، سنن ترمذی: 3634،سنن نسائی: 148-933 مسند الحمیدی:256 مسند ابن راہویہ: 754-755 افعال العباد للبخاری ص: 84 سنن الکبری للنسائی : 1005. المعجم الکبیر :3342 الشریعہ للآجری ص 453-454 ابن مندہ:678-680’السماء والصفات للبیہقی :426 مسند احمد ج 6 ص 158 طبع قدیم مسند احمد: 25252- ج۴۲ص 146 مؤسسة الرسالة بيروت ۱۴۲۱ھ)

صحیح البخاری: ۲ کے رجال خصوصا امام مالک اور حضرت عائشہ کا تعارف اور ائمہ ستہ کے سنین وفات

اس حدیث کی سند میں چھ راوی ہیں:

پہلے راوی امام بخاری کے استاذ عبدالله بن يوسف ہیں یہ ” موطا امام مالک‘‘ کے رجال میں سے ہیں انہوں نے امام مالک اور لیث بن سعد وغیرھما سے حدیث کا سماع کیا ہے اور ان کے شاگردوں میں یحیی بن معین، محمد بن یحیی ذہلی وغیرہ ہیں ۔

دوسرے راوی امام مالک رحمہ الله امام دار الہجبرت ہیں ان کا پورا نام مالک بن انس اصحبی ہے امام مالک نے نوسو مشائخ سے حدیث کا سماع کیا ہے جن میں سے تین سو تابعین اور چھ سو تبع تابعین تھے امام ابوحنیفہ کے فضائل میں سے یہ ہے کہ امام مالک ان سے سوال کرتے تھے اور ان کے قول کو اختیار کرتے تھے امام ابوحنیفہ امام مالک سے حدیث کا سماع بھی کرتے تھے اور جن دیگر اکابر نے امام مالک سے حدیث کی روایت کی ہے ان میں سفیان بن عیینہ ،شعبہ بن الحجاج، عبد الله بن المبارک ، عبد الرحمان الاوزاعی اور امام شافعی وغیرھم ہیں اور جن لوگوں نے امام مالک سے” الموطأ ‘‘ کی روایت کی ہے وہ شمار سے باہر ہیں امام شافعی رضی اللہ عنہ نے کہا: ” جب تمہارے پاس امام مالک کی روایت کی ہوئی حدیث پنچے تو اس کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو باندھ لو امام محمد بن حسن شیبانی نے کہا: میں امام مالک کے پاس تین سال سے زیادہ عرصہ رہا اور میں نے ان سے سات سو سے زیادہ احادیث کا سماع کیا ہے الواقدی نے کہا ہے کہ امام مالک متوسط قد کے تھے ڈاڑھی کے بال سفید تھے خضاب نہیں لگاتے تھے وہ ان علماء میں سے ہیں جو اپنے دین کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہوئے علامہ ابن الجوزی نے کہا کہ جب امام مالک بن انس نے سلطان کی غرض کے موافق فتوی نہیں دیا تو ان کو ستر (۷۰) کوڑے مارے گئے ،ابوجعفر منصور نے بھی ان پر بہت تشدد کیا وہ ۱۴ صفر یا ۱۴ ربیع الاول 179ھ میں فوت ہوگئے عبدالله بن محمد آل ابن عباس حاکم مدینہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور بقیع میں ان کو دفن کیا گیا وہ ربیع الاول ۹۴ھ میں پیداہوئے۔

فائدہ: الخطیب نے اپنی کتاب ” المتفق والمفترق“ میں ذکر کیا ہے کہ امام مالک متوفی 179ھ چھ نئے مذاہب کے بانیوں میں سے ایک ہیں دوسرے امام ابوحنیفہ ہیں جو بغداد میں ۱۵۰ھ میں ستر (۷۰) سال کی عمر میں فوت ہوئے تیسرے امام شافعی ہیں جو ۲۰۴ھ میں مصر میں چون(۵۴) سال کی عمر میں فوت ہوئے چوتھے امام احمد بن حنبل ہیں جو ا۲۴ھ میں بغداد میں اسی (۸۰)سال کی عمر میں فوت ہوئے پانچویں سفیان ثوری ہیں جو 161ھ میں بصرہ میں چونسٹھ (64) سال کی عمر میں فوت ہوئے چھٹے داؤد بن علی الاصبہانی ہیں جو ۲۹۰ھ میں بغداد میں اٹھاسی (۸۸) سال کی عمر میں فوت ہوئے اور یہی ظاہریہ یعنی غیر مقلدین کے امام ہیں (ائمه اربعہ کے مقلدین دنیا میں بہت زیادہ ہیں سب سے زیادہ امام ابوحنیفہ کے مقلدین ہیں سفیان ثوری کا اب کوئی مقلد نہیں ہے تاہم داود بن علی ظاہری کے مقلدین موجود ہیں جو اپنے آپ کو غیر مقلد سلفی یا اہل حدیث کہتے ہیں)۔

اس حدیث کے تیسرے راوی ہشام بن عروہ بن الزبير بن العوام القرشی الاسدی المدنی ہیں،یہ اکابر تابعین سے ہیں انہوں نے حضرت ابن عمر کی زیارت کی انہوں نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے حق میں دعا کی، یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قبل کے سال اکسٹھ (61) ہجری میں پیدا ہوئے اور ۱۴۵ھ میں بغداد میں فوت ہو گئے بہت سے لوگوں نے ان سے احادیث روایت کی ہیں۔

اس حدیث کے چوتھے راوی ابوعبدالله عروہ ہیں جو ہشام مذکور کے والد ہیں یہ بہت عظیم تابیں ہیں مدینہ کے مشہور سات فقہاء میں ان کا شمار ہوتا ہے ان کی والدہ حضرت اسماء بنت الصدیق رضی اللہ عنہا ہیں۔ عروہ کے متعدد شرف ہیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ان کے خالو ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے نانا ہیں ،حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ان کے والد ہیں، حضرت اسماء ان کی والدہ ہیں حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا ان کی خالہ ہیں یہ بیس ہجری میں پیدا ہوئے کتب صحاح ستہ میں عروہ بن الزبیر نام کا اور کوئی نہیں ہے۔

اس حدیث کی پانچویں راویہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ان کی والدہ حضرت ام رومان زینب رضی اللہ عنہا بنت عامر ہیں اور وہ حضرت عبد الرحمٰن کی بھی والدہ ہیں۔ الواقدی کے قول کے مطابق 6 ھ میں ان کی وفات ہوئی ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے دو سال پہلے عقد نکاح کیا، ایک قول ہے کہ تین سال پہلے، اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی، ایک قول ہے کہ سات سال عمر تھی، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی غزوہ بدر کے بعد 2 ھ میں ہوئی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں حضرت عائشہ آٹھ سال پانچ ماہ رہیں، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی اور انہوں نے 65 سال عمر گزاری یہ فقہاء صحابہ میں بہت سے صحابہ سے بڑی تھیں اور ان چھ صحابہ میں سے ایک ہیں جو زیادہ روایت کرنے والے ہیں انہوں نے 2210 احادیث روایت کی ہیں جن میں سے 147 احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور 54 احادیث میں امام بخاری منفرد ہیں اور 58 احادیث میں امام مسلم منفرد ہیں، حضرت عائشہ نے بہت سے صحابہ سے احادیث روایت کی ہیں اور ان سے دوسو کے قریب صحابہ اور تابعین نے احادیث روایت کی ہیں وہ آٹھ رمضان یا آٹھ شوال 55ھ یا 56ھ یا 57ھ یا 58ھ میں فوت ہوگئیں، انہوں نے فرمایا تھا کہ ان کو نماز وتر کے بعد رات کو بقیع میں دفن کیا جائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اس میں اختلاف ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا افضل ہیں یا حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا بعض نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا افضل ہیں اور بعض نے کہا: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا افضل ہیں ،قاضی ابوبکر بن العربی نے قطعیت سے کہا کہ حضرت خدیجہ افضل ہیں اور دوسرے علماء نے بھی کہا اور یہی زیادہ صحیح ہے اور اس میں بھی اختلاف ہے کہ حضرت عائشہ افضل ہیں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا افضل ہیں اور میں نے اپنے بعض اکابر اساتذہ سے سنا ہے کہ دنیا میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا افضل ہیں اور آخرت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا افضل ہیں (کیونکہ آخرت میں سیده فاطمه حضرت علی کے پاس ہوں گی اور حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوں گی)۔ (عمدة القاری ج اص 76 دارالکتب العلمیہ بیروت 1421ھ )

حضرت عائشہ اور سیدہ فاطمہ کی فضیلت میں محاکمہ ،تمام صحابہ میں کون افضل ہے اور ام المومنین کے لقب کی توجیہ

امام مالک کے نزدیک تمام صحابہ میں مطلقا سیده فاطمہ رضی اللہ عنہا افضل ہیں کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جزو ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جزو کے مساوی نہیں قرار دیتے ہیں علامه آلوسی کا بھی یہی مختار ہے۔(روح المعانی جز 22 ص 424)

میں کہتا ہوں کہ اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد کا یہی حکم ہونا چاہیے اور مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے بعد افضل البشر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں پھر حضرت عمر ہیں، پھر حضرت عثمان ہیں، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت میں، میں نے تبیان القرآن، ج8 ص 103-111 (النور:11-20 ) میں چالیس احادیث ذکر کی ہیں اور حضرت سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت میں ،میں نے تبیان القرآن ج7 میں 910-014 ( المؤمنون:۱۰۱) میں انیس احادیث ذکر کی ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور آپ کی دیگر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو جو ام المومنین کہا جاتا ہے اس کی اصل قرآن مجید کی یہ آیت ہے: ” وازواجة أمهتهم (احزاب:6 )اور نبی کی ازواج مسلمانوں کی مائیں ہے، ان کے احترام، اور ان کے ساتھ نیکی کرنے میں اور ان کے ساتھ نکاح کی تحریم میں وہ مسلمانوں کی ماؤں کی مثل ہیں، نہ کہ ان کے ساتھ خلوت، سفر کرنے یا ان کے بے حجاب دیکھنے میں وہ مائوں کی مثل ہیں اس میں اختلاف ہے کہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنوں کا باپ کہنا جائز ہے یا نہیں؟ امام شافعی کے نزدیک جائز ہے اور امام ابو اسحاق کے نزدیک جائز نہیں ہے،صحیح یہ ہے کہ یوں کہنا چاہیے کہ آپ ہمارے باپ کی مثل ہے حدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انما انا لكم بمنزلة الوالد اعلمكم. الحديث

میں تمہارے لیے باپ کے قائم مقام ہوں تم کو تعلیم دیتا ہوں۔

سنن ابوداؤد:8 صحیح مسلم: 262، سنن ترمذی:16 سنن ابن ماجه 316)

اس حدیث کے چھٹے راوی ہیں : الحارث بن ہشام بن عبد الله بن عمرو بن مخزوم – یہ ابوجہل کے حقیقی بھائی تھے اور حضرت خالد بن الولید نے عم زاد تھے غزوہ بدر میں کافروں سے لشکر میں تھے اور انہوں نے شکست کھائی، فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے اور اسلام میں عمدہ زندگی گزاری۔ غزوہ حنین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سو اونٹ عطا فرماۓ ،جنگ یرموک میں ۱۵ھ میں شہید ہوئے حضرت الحارث بن ہشام کی “صحیح بخاری ” اور “صحیح مسلم” میں صرف یہی حدیث ہے اور سنن ابن ماجہ میں ان کی صرف ایک یہی روایت ہے صحاح ستہ کے علاوہ ان کی ایک سو پچاس روایات ہیں ۔ (عمدة القاری ج 1 ص 77 دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)

حدیث مذکور فنی حیثیت

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:

ہوسکتا ہے کہ جس وقت حضرت الحارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کے متعلق سوال کیا ہو، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی موجود ہوں اور یہ سوال و جواب سن رہی ہوں پھر یہ حدیث متصل ہوگی اصحاب اطراف نے اس پر اعتماد کیا ہے اور اس حدیث کا مسند عائشہ میں اخراج کیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت الحارث نے بعد میں حضرت عائشہ کو اس واقع کی خبر دی ہو پھر یہ حدیث مرسل الصحابہ ہوگی اور جمہور نے اس پر متصل کا حکم لگادیا اور اس حدیث کے مرسل ہونے کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ مسند احمد اور معجم البغوی، وغیرہ یہ میں از عامر بن صالح از ہشام از عروہ و از عاشه از الحارث بن ہشام روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا الحدیث ۔اس سند میں عامر ضعیف راوی ہے لیکن میں نے ابن مندہ کے پاس اس کا متابع پایا ہے تاہم مشہور پہلا قول ہے (یعنی یہ حدیث متصل اور مسند ہے)۔ (فتح الباری ج1 ص 498 دارالمعرفہ بیروت 1426ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث کو جو” مسند احمد” کے حوالہ سے لکھا ہے تو اس کے متعلق شعیب الارنؤط لکھتے ہیں:

یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند میں عامر بن الصالح الزبیری ہے اور یہ متروک راوی ہے اور اس حدیث کو الحارث بن ہشام کی “مسند” سے شمار کیا گیا ہے۔ (مسند احمد ج 6 ص 158 طبع قدیم، مسند احمد:25253- ج 42 ص 147 مؤسسة الرسالةبیروت)

میں کہتا ہوں کہ امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی 360ھ نے اس حدیث کو اس سند سے روایت کیا ہے: از محمد بن نصر بن حمید البغدادی از محمد بن عبدالله الارزی از عاصم بن ھلال از ایوب از ہشام بن عروه از عروه از الحارث بن ہشام وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےسوال کیا ۔ الحدیث ( المعجم الکبیر: 3344)

اس سند میں عامر بن صالح الزبیری نہیں ہے جس کی وجہ سے ” مسند احمد” کی روایت میں ضعف تھا سو یہ اس حدیث کا متابع ہے ۔

امام ابو عبدالله محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی 402ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث کو ہشام بن عروہ کے اصحاب نے ازعروہ از عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کیا ہے کہ حضرت الحارث بن ہشام نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کے متعلق سوال کیا۔ الحدیث ( المستدرک ج 3 ص 279 طبع قدیم المستدرک: 5213 المکتبتہ العصریہ 1420ھ )

اس تصریح سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ عامر زبیری کے علاوہ ہشام بن عروہ کے دوسرے اصحاب نے بھی اس حدیث کو روایت کیا، لہذا واضح ہوگیا کہ حضرت عائشہ نے اس حدیث کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا بلکه حضرت الحارث بن بشام سے سن کر روایت کیا ہے،سو یہ حدیث مرسل الصحابة ہے ،مسند اور متصل نہیں ہے۔

“احيانا‘‘ کا معنی اور’’ صلصلة الجرس‘‘ کی تحقیق

اس حدیث میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی کبھی وحی میرے پاس گھنٹی کی جھنکار کی مثل آتی تھی ۔

کبھی کبھی کے لیے اس حدیث میں “احيانا” کا لفظ ہے اور “احیانا” “حین” کی جمع ہے اس کا معنی ہے: وقت۔( النہایۃ ج ۱ ص ۴۵۱ مختار الصحاح ص ۱۰۸ بیروت)

قرآن مجید میں ہے:

مل آتي على الإنسان حين من الدهر . ( الدھر :1) یقینا انسان پر زمانہ میں ایک وقت آچکا ہے۔

“حین” کا اطلاق زمانہ کے ایک لمحہ پر بھی ہوتا ہے اور زیادہ مدت پر بھی ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے:

کانو یتحینون وقت الصلوتہ

صحابہ نماز کا وقت طلب کرتے تھے ۔

( صحیح بخاری : 604 صحیح مسلم :377- سنن نسائی:262)

اس حدیث میں فرمایا ہے: کبھی کبھی وحی میرے پاس گھنٹی کی جھنکار کی مثل آتی تھی، اس میں وحی کی طرف آنے کی نسبت کی گئی ہے، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ آنا جانا ذی روح اجسام کی صفت ہے اور وحی تو ذی روح جسم نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل میں مراد یہ ہے کہ حامل وحی یعنی فرشتہ میرے پاس آتا تھا اور گھنٹی کی جھنکار اس کے پروں کی آواز تھی اور جب فعل کی نسبت اس کے فائل کی طرف ہو تو اس کو اسناد حقیقت عقلی کہتے ہیں اور جب فعل کی نسبت اس کے کسی متعلق کی طرف کسی تاویل سے کی جائے تو اس کو اسناد مجاز عقلی کہتے ہیں ۔ آنے والا تو فرشتہ تھا لیکن چونکہ وه حامل وحی تھا، اس لیے آنے کا اسناد وحی کی طرف کردیا قرآن کریم میں اسناد مجاز عقلی کی بہت مثالیں ہیں اور ہم نے تبیان القرآن میں الواقعہ:63 کے تحت اس پر بھرپور بحث کی ہے۔

نیز اس حدیث میں”صلصلة“ کا لفظ ہے علامہ ابن اثیر متوفی 606 ھ نے لکھا ہے:

اس کا معنی ہے : لوہے کے لوہے کے ساتھ ٹکرانے کی آواز ۔

( نهاية ج ۳ ص 43 دارالکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ التوشیخ ج ۱ ص ۶۷ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۰ ھ)

علامه زمحشری متوفی 583ھ نے لکھا ہے: حضرت ابن عباس نے فرمایا: اس کا معنی ہے : خشک مٹی کے بجنے کی آواز۔

( الفائق ج ۲ ص ۲۶۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۷ ھ)

نیز اس حدیث میں” الجرس‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : پست آواز ۔(العنایۃ ج ۱ ص ۲۵۲ دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۱۷ھ)

علامہ محمد بن ابوبکر رازی متوفی 660 ھ لکھتے ہیں:

پرندوں کی چونچ سے نکلنے والی آواز کو جرس کہتے ہیں حدیث میں ہے : جنتی جنت کے پرندوں کی جرس سنیں گے ، زیورات کی جھنکار کو بھی جرس کہتے ہیں، اونٹوں کے گلوں میں جوگھنٹی بندھی ہوئی ہوتی ہے اور ان کے چلنے سے جو گھنٹی کی آواز آتی ہے اس کو بھی جرس کہتے ہیں ۔ ( مختار الصحاح ص 71 دار احیاء التراث العربی بیروت 1419ھ)

حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ کسی سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور لوگ سونے کے لیے چلے گئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیغام بھیجا کہ جس اونٹ کے گلے میں بھی کوئی قلاده ( ہار یا گھنٹی کی رسی) ہو اس کو کاٹ دیا جائے ۔ (صحیح بخاری : 3005،سنن ابوداؤد : 2552)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے ان قافلوں کی مصاحبت نہیں کرتے، جن میں کتا ہو یا جرس (گھنٹی) ہو۔ (صحیح مسلم: 2113 – سنن ابوداؤد 2556 سنن ترمذی: 1703 صحیح ابن خزیمہ:۲۵۵۳،سنن دارمی: 2672 سنن بیہقی ج 5 ص 254 مسند احمد ج۲ ص 263 طبع قدیم مسند احمد :7566۔ ج 13، ص14 ، مؤسسة الرسالة بیروت 1417ھ)

ان احادیث میں جرس کی آواز کو مکروہ فرمایا اور وحی ایک اشرف اور اعلی آواز ہے اس کو مکروہ چیز کی آواز سے تشبیہ دینا کیسے درست ہوگا کیونکہ زیر بحث حدیث میں وحی کو جرس کی آواز کی مثل فرمایا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کو دوسری چیز کے ساتھ تشبیہ دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ تمام اوصاف اور تمام احکام میں اس کی مثل ہو دوسرا جواب یہ ہے کہ ان احادیث کا محمل جنگی قافلے ہیں اور اگرجنگی قافلوں میں اونٹوں کے گلوں میں گھنٹی ہو تو اس سے دشمن کو مسلمانوں کے ٹھکانوں کا پتا چل جائے گا تیسرا جواب یہ ہے کہ گھنٹی کی آواز یا جرس کی دو حیثیتیں ہیں ایک تو وہ آواز قوی اور مسلسل ہوتی ہے اور دوسری یہ کہ اس میں جھنکار ہوتی ہے وحی کو جو جرس کے ساتھ تشبیہ دی ہے وہ اس آواز کی قوت اور تسلسل کی وجہ سے ہے اور جھنکار کی صفت کے لحاظ سے اس کا سننا ممنوع ہے اور اس کو مزمار الشیطان بھی کہا گیا ہے اور اس لحاظ سے وحی کو اس کے ساتھ تشبیہ نہیں دی گئی۔

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:

جس “صلصلة” کا حدیث میں ذکر ہے وہ فرشتہ کی آواز وحی ہے علامہ خطابی نے کہا ہے اس سے مراد وہ آواز ہے جس کو مسلسل سنا جا ئے اور پہلی بار اس کو سننے سے معنی واضح نہ ہوحتی کہ بعد میں اس سے معنی سمجھ میں آئے اور ایک اور قول یہ ہے کہ یہ فرشتہ کے پروں کی خفیف سی آواز ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا: جب الله تعالی آسمانوں میں اپنا کوئی حکم نافذ فرماتا ہے تو فرشتے اپنے پروں کو ایک دوسرے پر مارتے ہیں۔ (فتح الباری ج 1 ص 500. دار المعرفہ بیروت 1426ھ)

آواز جرس کی صورت میں وحی کے دشوار ہونے کی وجوہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کی اس قسم کے متعلق فرمایا: اور وہ مجھ پر سخت دشوار ہوتی تھی۔

اس کے دشوار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کسی شخص کے خطاب کی بنسبت آواز جرس سے معنی سمجھنا دشوار ہوتا ہے۔

ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ وحی تو متعدد طریقوں سے حاصل ہوتی ہے مثلا کبھی وحی شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی صورت میں حاصل ہوتی ہے اور کبھی نبی کے دل میں کوئی بات ڈال دی جاتی ہے کبھی نبی کو سچے خواب دکھائے جاتے ہیں کبھی نبی سے بلاواسطہ کلام کیا جاتا ہے (جیسے شب معراج کو ہوا) اور کبھی آپ نے حضرت جبریل کو ان کی اصل شکل میں چھ سو پروں کے ساتھ دیکھا حضرت عائشہ نے فرمایا: آپ نے حضرت جبریل کو اس طرح صرف دو بار دیکھا ہے اور کبھی آپ نے حضرت جبریل کو اعرابی کی صورت میں دیکھا اور کبھی آپ نے ان کو حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں دیکھا الغرض حصول وحی کی بہت صورتیں ہیں اور اس حدیث میں صرف دو صورتیں ذکر فرمائی ہیں، کبھی آواز جرس کی صورت میں اور کبھی فرشتہ آپ سے بات کرتا رہتا تھا اور آپ اس کو یاد کرتے رہتے تھے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ عام معمول یہ ہے کہ قائل اور سامع کے درمیان کوئی مناسبت ہونی چاہیے اور یہ مناسبت دو |طرح سے حاصل ہوگی یا تو سامع غلبه روحانیت سے قائل کے وصف سے متصف ہوجائے اور یہ پہلی قسم ہے اور یا قائل سامع کے وصف سے متصف ہوجائے اور یہ دوسری قسم ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت جبریل کے بشریت کے ساتھ متصف ہونے کی بہ نسبت آپ  کا ملکیت کے ساتھ متصف ہونا آپ پر مشکل اور دشوار تھا۔

تشکل جبریل کی تحقیق

آپ نے فرمایا:اور کبھی فرشتہ میرے لیے مرد کی شکل میں متشکل ہوجاتا تھا۔ اس فرشتہ سے مراد حضرت جبریل علیہ السلام ہیں جیسا کہ اس حدیث میں اس کی تصریح ہے:

امام محمد بن سعد متوفی ۲۳۰ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر دو طرح سے وحی آتی تھی کبھی جبریل مجھ پر وحی ڈالتے جیسے ایک مرد دوسرے مرد کے دل میں کوئی بات ڈالتا ہے اور اس میں کچھ مجھ سے چھوٹ جاتا تھا۔ (صحیح البخاری کی حدیث میں ہے کہ انقطاع وحی کے بعد میں اس کو یاد کر چکا ہوتا تھا) اور کبھی میرے پاس آواز جرس کی طرح وحی آتی اور وہ میرے دل سے مخلوط ہوجاتی یعنی میرے دل میں رچ جاتی پھر اس میں سے کوئی چیز مجھ سے نہیں چھوٹتی تھی۔ (الطبقات الکبری ج 1 ص 155 دارالکتب العلمیہ 1418ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی 852ھ فرماتے ہیں:

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ فرشتہ بشر کی شکل میں متشکل ہوجاتا ہے، متکلمین نے کہا ہے کہ فرشتے اجسام علویہ (نورانی) ہیں وہ جس شکل میں چاہیں متشکل ہوجاتے ہیں یعنی وہ جوشکل چاہیں اختیار کر سکتے ہیں اور بعض فلاسفہ کا گمان یہ ہے کہ فرشتے جواہر روحانیہ ہیں۔ علامہ ابن عبد السلام کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت جبریل کے مرد کی شکل میں متشکل ہونے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی ان کی خلقت کی بعض زائد چیزوں کو زائل کر دیتا اور پھر دوبارہ لوٹا دیتا’ حافظ عسقلانی فرماتے ہیں : اور حق یہ ہے کہ مرد کی شکل میں فرشتے کے متشکل ہونے کا معنی یہ نہیں ہے کہ فرشتہ کی ذات مرد ہوجاتی تھی بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے مخاطب کو مانوس کرنے لیے مرد کی صورت میں ظاہر ہوتا اور ان کے جسم میں جو زاند چیزیں تھیں وہ زائل نہیں ہوتی تھیں بلکہ دیکھنے والوں کی نظر سے چھپ جاتی تھیں ۔ (فتح الباری ج ا ص۵۰۰ دار المعرفه بیروت : 1426ھ)

“ليتفصد کامعنی اور عنوان باب سے حدیث کی مطابقت

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سخت سرد دن میں آپ پر وحی نازل ہوتی تو جس وقت وحی آپ سے منقطع ہوتی تو آپ کی پیشانی

سے پسینه بہ رہا ہوتا تھا۔

حدیث میں ” ليتفصد عرفا‘‘ ہے اس لفظ کا مصدر ” فصد” ہے اس کا معنی خون بہانے کے لیے رگ کو کاٹنا ہے۔ ( انہایہ ج 3 ص ۴۰۳) اس حدیث میں آپ کی پیشانی کو اس رگ سے تشبیہ دی ہے جس کوخون بہانے کے لیے کاٹا جائے لیکن جس طرح رگ سے خون بہتا ہے اسی طرح آپ کی پیشانی سے پسینہ بہ رہا تھا۔ اسخت سردی میں پسینہ بہنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ نزول وحی کے وقت آپ کو بہت مشقت اور تھکاوٹ ہوتی تھی۔

اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت الحارث بن ہشام نے آپ سے وحی کے متعلق سوال کیا اور آپ نے اس کا مفصل جواب دیا ،اس سے معلوم ہوا کہ اطمینان حاصل کرنے کے لیے سوال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اس باب کا عنوان ہے: “بدء الوحی” اور اس حدیث میں وحی کی ابتدا کا کوئی ذکر نہیں ہے اس کا ایک جواب یہ ہے کہ حضرت الحارث کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ وحی کی ابتداء کی کیفیت کیسی تھی یا وحی کے ظہور کی کیفیت کیسی تھی، دوسرا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے یہ ظاہر ہوا کے حصول وحی دو قسموں میں منحصر ہے خواہ وحی ابتداء میں آئے یا بعد میں اور تیسرا جواب یہ ہے کہ جب عنوان باب کے تحت کئی احادیث ہوں تو کسی ایک حدیث کے ساتھ عنوان کی مطابقت ضروری ہے ہر حدیث کے ساتھ مطابقت ضروری نہیں ہے اور اس باب کی تیسری حدیث کے ساتھ عنوان کی مطابقت بہت واضح ہے۔

* شرح صحیح مسلم:۰ 5940 ج۶ ص 791-793۔ میں بھی ہم نے اس حدیث کی شرح کی ہے۔ اس حدیث میں آپ کے پسینہ بہنے کا ذکر ہے ہم نے “شرح صحیح مسلم ” میں بیان کیا ہے کہ آپ کا پسینہ بہت خوشبودار تھا ہم نے وہاں اس کے متعلق بہت احادیث ذکر کی ہیں اور کافی فوائد بھی ذکر کیے ہیں ،جن کا یہاں اعادہ نہیں کیا۔