محسنِ پاکستان سے ملاقات

از:سید راشد علی گردیزی

 

آج سے چار سال قبل 9 اکتوبر کی شام کو ہم دوست اسلام آباد کے پنج ستاری ہوٹل کی بدمزہ چاٸے کا مزہ لے رہے تھے۔اتنے میں ہمارے میزبان معروف بزنس مین رفیق پردیسی کے موباٸل کی گھنٹی بجی :

 

جی ڈاکٹر صاحب !

 

بس تھوڑی دیر میں حاضر ہوتا ہوں۔۔۔۔

 

ڈاکٹر صاحب !اگر ممکن ہو تو میرے کچھ مہمان بھی ہیں۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب سے بات کرتے تھوڑا توقف ہوا تو پردیسی صاحب نے ہمیں بتایا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کا فون ہے۔آپ لوگ بھی چلیں گے…؟

 

یہ وہ لمحہ تھا جہاں ہماری خواہش اظہار سے پہلے پوری ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ ہمارے شناختی کارڈ کارڈ نمبرز انھیں میسج کر دیے گئے اورہم تھوڑی دیر میں فیصل مسجد کے ساتھ مارگلہ کے دامن میں واقع ڈاکٹر صاحب کے گھر داخل ہو گئے۔پتا چلا یہ گھر نہیں ہے بلکے سیکورٹی کلیرنس کے لیے اس گھر میں لایا گیا تھا۔اطراف کے تمام گھروں میں مختلف اداروں کے لوگ تھے۔آخر ایک سکینر سے نکل کر دوسرے گھر پہنچ گئے۔سکینر دو گھروں کی بیچ کی دیوار توڑ کر لگایا گیا تھا ۔

 

یوں محسن پاکستان کے دولت کدے میں داخل ہو گئے۔برآمدے میں مارگلہ کی پہاڑیوں سے آئےبندر اس انداز سے جمع تھے جیسے یہاں کوئی آتا جاتا نہ ہو۔

 

ڈرائینگ روم کے دروازے پر محسن پاکستان مہمانوں کو خوش آمدید کہنے پہلے سے کھڑے تھے۔

 

طویل القامت ، سر کے بالوں میں سیاہی اور سپیدی،بھرا ہوا جسم سر کے بال گھنے اور پیچھے کی طرف کیے ہوئے،جیسے بچھائے گے ہوں۔کھلی کھلی پینٹ اور ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھے۔بولے تو آواز باریک جوحلیے سے بہت مختلف لگی۔تیز تیز اردو بولتے ۔۔۔۔۔

 

ڈاکٹر صاحب کی بیٹھک ایک طرف سے مکمل کتابوں سے بھری ہوئی تھی جیسے کسی لائبریری میں بیٹھے ہوں۔۔۔۔ سلام دعا کے بعد تعارف ہوا۔کمال شفقت سے سب کا حال چال پوچھا۔

 

ایف ایٹ کی کسی بیکری کا نام لیا اور کہا: وہاں سے چیز کیک بہت اچھا ملتا ہے ۔خاص طور پر آپ لوگوں کے لیے منگوایا ہے۔پردیسی صاحب نے کہا: آپ کراچی آئیں تو وہاں آپ کوسمندر کے وسط میں اپنی بوٹ پر ڈنر کروائیں گے۔

 

فرمانے لگے: میرا تعلق بھوپال سے ہے۔وہاں کے بچے چلنا بعد میں سیکھتے ہیں تیرنا پہلے سیکھ لیتے ہیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ بھوپال کی اطراف میں دریا ہیں۔۔۔۔۔۔۔

 

۔میں نے پوچھا: جنگ اخبار میں آپ کے کالم میں پڑھا تھاکہ بھوپال میں کبھی کوئی غدار پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی قادیانی۔۔۔۔۔ اس پر فرمایا: بالکل درست ہے۔پھر بھوپال کی علمی اور ادبی خدمات کا تذکرہ کرنے لگے۔انھوں نے نواب آف بھوپال کے شاعر مشرق علامہ اقبال رح پر کیے احسانات کا ذکر کیا اور کہا کہ اقبال کو اقبال بنانے میں ان کا بڑا کردار تھا۔

 

زبیر بیگ نے جاتے ہوئے راستے میں بتایا تھا کہ ڈاکٹر صاحب مغلیہ خاندان سے ہیں۔موقع غنیمت جان کر تصدیق کرنے کے لیے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ یوسف زئی پٹھان ہیں۔اس ملاقات میں ممبر پنجاب بار کونسل سجاد اکبر عباسی ایڈووکیٹ،زبیر بیگ،ارسلان اکبر عباسی ایڈووکیٹ اور پردیسی صاحب کے دو پراپرٹی ڈیلر دوست تھے۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی عبدالحفیظ اشکی شاعر تھے۔ جن کی ایک کتاب تمام احباب کو اپنے آٹو گراف کے ساتھ تحفے میں پیش کی۔کتاب میں اردو تاریخ کو منظوم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

 

مجھے کتاب پر یہ شعر لکھ کر آٹو گراف دیا

 

گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر

ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری

 

اس ملاقات میں ڈاکٹر صاحب حکمرانوں سے شاکی بالخصوص پرویز مشرف کے شدید مخالف نظر آئے۔

ہم نے پوچھا: کہا جا رہا ہے کہ آپ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں؟ اس کے لیے بھی کیا کوئی ایٹمی سائنس ہو گی۔۔۔۔۔ انھوں نے کہا پانی سے ہی بجلی بنے گی تو ہم خاموش ہو گئے کہ یہ کیسے سائنس دان ہیں جو بجلی پانی سے ہی بنائیں گے اس کا تو سب کو پتا ہے۔۔۔۔۔

 

کل اپنے دوستوں،ڈاکٹر اعظم رضا تبسم،پروفیسر عکرمہ صادق،پروفیسر خالد اسد اور علامہ رفیق قادری کے ہمراہ ڈاکٹر صاحب کی نماز جنازہ پڑھنے فیصل مسجد گئے ۔نمازجنازہ سے ایک گھنٹہ پہلے وہاں پہنچ گئے۔مرحوم ضیاء الحق صاحب کی قبر سے پانچ ،دس قدم کے فاصلے پر قبر تیار کی جارہی تھی۔تمام لوگ عقیدت سے اینٹیں اٹھاتے ایک بیلچہ جو مٹی سے بھر جاتا کئی ہاتھوں سے ہوتا قبر تک پہنچ جاتا۔۔۔۔۔ لوگوں کو کیا معلوم یہ قبر قوم کے بچے کچھے جذبات دفن کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ابھی نماز جنازہ میں دیر تھی مسجد کے بالائی حصے کو پولیس نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا ۔کسی کو نہیں معلوم نماز جنازہ کہاں ہو گی۔کوئی لائن ،کوئی سپیکر نہیں ۔البتہ مسجد کے عقبی دروازے پر غیر معمولی انتظامات تھے ۔جس سے یہی لگ رہا تھا بس یہاں جا نہیں سکتے۔

 

ہم نے فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر صاحب کے گھر کی طرف سے شاہراہ پر نظر رکھیں گے۔۔۔۔۔ آخر پھولوں سے بھری ایمبولینس اور اس کے گرد بھاگتے لوگ نعرہ تکبیر و رسالت لگاتے ۔پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے دوڑتے چلے جا رہے تھے۔

 

ہم بھی ساتھ ہو لیے اور سیکورٹی کے حصار توڑتے خفیہ مقام پر محدود پیمانے پر قائم جنازہ گاہ پہنچ گئے۔

 

باقی لوگوں کو آگے جانے سے روک دیا۔تابوت کو بڑے شامیانے کے نیچے پہنچایا ۔پہلے سے تیز لگی بارش اور تیز ہو گئی ۔نہ صف بندی کی نہ نیت پروفیسر غزالی صاحب جلدی نماز پڑھائیں کی آواز آئی

اور

 

اللہ اکبر۔۔۔ نماز شروع ہوئی ۔۔۔۔ سپیکر محدود پیمانے پر تھا۔مکبر سب بن گئے پھر بھی فلک پیما عمارت اور اس کے مینار مرکزی دروازے کی طرف محصور ہزاروں لوگوں کو ساتھ نہ ملا سکے۔بلا ترتیب مکبرین کی آوازیں اتنا تائثر دینے میں کامیاب ہوگئی کے دعا کی قبولیت شروع ہو چکی ہے۔ہمیں بعد میں پتا چلا کےاسی دوران مرکزی دروازے کے سبزہ زار میں پروفیسر قاضی عتیق الرحمن نے بھی نماز جنازہ پڑھائی ۔۔۔۔۔ نماز جنازہ کے بعد تدفین فیصل مسجد کی بجائے ایچ ایٹ قبرستان میں کی گئی تو لوگوں کو اس فیصلے پر شدید دکھ ہوا۔۔۔ حکومت کی طرف سے بے حسی،بدنظمی اور عدم دلچسپی کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔