احادیثِ کتب کا مطالعہ کریں ، صحابہ کے عشق سے لبریز واقعات پڑھیں، عقل دنگ رہ جاتی ہے

کوئی آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا بول شریف نوش کررہا ہے

کوئی خونِ مبارک تبرک سمجھ کر پی رہا ہے

کوئی وضو کے قطرات کو زمین پر گرنے نہیں دیتا

کوئی آپ کی حاصل کردہ تری ہی جسم پر مَل رہا ہے

کوئی موئے مبارک کو حاصل کرنے میں تن دھن کی بازی لگا رہا ہے

کوئی وصیت کررہا ہے یہ بال و ناخن میرے کفن میں رکھ دینا

کوئی آپ کے آرام کی خاطر اپنی نماز قضا کررہا ہے

مگر

حیرت و تعجب ہے کسی نے یہ نہ پوچھا ” اس تعظیم، توقیر،اکرام،ادب کی

دلیل کیا ہے؟ نہ کسی نے یہ گورا کیا کہ اس کا ثبوت قرآن و حدیث سے

دو؟

بلا تشکیک ، صحابہ کرام علیھم الرضوان نے اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم

کا ایسا ادب کیا جس سے عقلیں حیران ہیں ۔

ہاں اگر اِس زمانے کی” مخلوق” اُس مبارک و پاک زمانے میں ہوتی تو

معاذ اللہ ضرور صحابہ پر بھی شرک و بدعت کے فتوے لگانے سے باز نہ آتی

اور ان سے بھی دلیل کا مطالبہ کرتی ، اور ان کے اس عشقیہ امور و اعمال

کو ” بدعتہ الضلالہ ” سے مربوط کردیتی۔

 

الحمد للہ ! اہلسنت و جماعت صحابہ کے نقش قدم پر ہیں، اور ان کے قدم

جنت میں ،

یار رکھیں ! تعظیم کے طور طریقہ جو شرع سے متصادم نہ ہوں کسی

دلیل کے محتاج نہیں،

 

ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا

وہ کیا بہک سے جو یہ سُراغ لے کے چلے

 

ابنِ حجر

14/10/2021ء