ذکرِ سرکار کی اک شمع جلا لو

قرآن کریم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرے کا جو اسلوب اپنایا وہ انتہائی باکمال ہے…

چونکہ قرآن کریم میں 26 انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ ہے…

اگر تمام انبیاء کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنا بیان کیا جاتا تو طوالت کا گمان پیدا ہو سکتا تھا…

اس لئے قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اختصار؛ اجمال کو بھی مد نظر رکھا اور انبیاء علیہم السلام کے ذکر مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز کو بھی بیان کر دیا….

سورۃ آل عمران آیت نمبر 81

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيۡتُكُمۡ مِّنۡ كِتٰبٍ وَّحِكۡمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمۡ لَـتُؤۡمِنُنَّ بِهٖ وَلَـتَـنۡصُرُنَّهٗ ‌ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَاَخَذۡتُمۡ عَلٰى ذٰ لِكُمۡ اِصۡرِىۡ‌ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ‌ؕ قَالَ فَاشۡهَدُوۡا وَاَنَا مَعَكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ ۞).

ترجمہ:

اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاءسے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول ﷺ تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں……..

اس آیت کریمہ میں میں انبیاء علیہم السلام نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرنا تھا ساتھ دینا تھا اس کو بیان کردیا…

اور پھر نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل آنے والے آخری نبی حضرت عیسٰی علیہ السلام کا قرآن کریم میں ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز بیان کر دیا

سورۃ الصف آیت نمبر 6

وَاِذۡ قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ يٰبَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِنِّىۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوۡرٰٮةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ يَّاۡتِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِى اسۡمُهٗۤ اَحۡمَدُ‌ؕ

ترجمہ:

اور (وہ وقت بھی یاد کیجئے) جب عیسٰی بن مریم (علیہما السلام) نے کہا: اے بنی اسرائیل! بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اُس رسولِ (معظّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (آمد آمد) کی بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لا رہے ہیں جن کا نام (آسمانوں میں اس وقت) احمد ﷺ ہے،…

پہلی آیت کریمہ میں انبیاء علیہم السلام کے لئے حکم الہی ہے کہ کس طرح ذکر مصطفیٰ کرنا ہے..

اور دوسری آیت میں عیسٰی علیہ السلام نے جس انداز میں ذکر کرنا تھا اور کیا اس کا بیان کر دیا….

قرآن کریم میں اختصار کو بھی پیش نظر رکھا گیا اور انبیاء علیہم السلام کا میلاد مصطفیﷺ بیان کرنا بھی اللہ تعالی نے ذکر کردیا…

انبیاء علیہم السلام کہتے تھے کہ آئیں گے مصطفیﷺ

ہم کہہ رہے ہیں آگئے مصطفیٰ ﷺ آگئے مصطفیﷺ

 

تحریر:- محمد یعقوب نقشبندی