لبیک اور مذہبی کارڈ………..؟؟

خبر:

اپنے مفاد کے لیے مذہب کارڈ کا استعمال درست عمل نہیں ہے، پی ٹی آئی وزیر فیصل واوڈا(جاوید چوہدری ڈاٹ کام)

.

تبصرہ:

ایسا تاثر کچھ عوام سے بھی سننے کو ملتا ہے….جسکا جواب یہ ہے کہ

لبیک ذاتی مقاصد کے لیے مذہب کو استعمال نہیں کرتی، نہیں کر رہی بلکہ ہم تو مذہب کے فروغ و نفاذ کے لیے مذہب کا استعمال کر رہے ہیں جوکہ برحق ہے…قائدین علماء کی ریہائی کےمطالبے کے لیے بھی مذہب کا استعمال برا نہیں بلکہ برحق ہے کہ علماء تو مذہب کے وارث ہیں اور علماء و قائدین جو قید ہیں تو وہ اپنے کسی ذاتی کردار و مفاد کے لیے قید نہیں بلکہ انہیں مذہب کا نام لینے ، مذہب کو مکمل نافذ کرنے ، تحفظ ناموس رسالت کرنے ، تحفظ ختم نبوت کرنے پر گرفتار کیا ہے تو ان کے لیےمذہب کارڈ استعمال کرنا برحق ہے…ہاں عین ذاتی مفاد چوری ڈاکہ کرپشن دولت وغیرہ عین ذاتی مفاد کے لیے دین کا استعمال ناحق ہے

.

پی ٹی آئی بھی تو مذہب کارڈ استعمال کرتی ہے….ریاست مدینہ کے نعرے کا استعمال کرتی ہے…پاکیزہ سیاست سنتِ انبیاء کرام ہے تو کیا نعوذ باللہ کہو گے کہ انبیاء نے بھی ذاتی مفاد کے لیے مذہب کارڈ استعمال کیا…..؟؟

.

الحدیث:

قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم: ” «من لا يهتم بأمرالمسلمين فليس منهم

ترجمہ:

جو مسلمانوں کے(دینی دنیاوی معاشی معاشرتی سیاسی وغیرہ)معاملات(بھلائی ترقی اصلاح)پر(حسب طاقت)اہتمام نا کرے، اہمیت نا دے وہ اہلِ اسلام میں سے نہیں

(مجمع الزوائد حدیث294)

.

 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء، كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدي، وسيكون خلفاء فيكثرون

(بخاری حدیث نمبر3455)

ترجمہ:

بنو اسرائیل کا سیاسی انتظام انبیاء کرام کرتے تھے،جب کبھی ایک نبی انتقال فرماتے تو دوسرے نبی ان کے پیچھے تشریف لاتے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں،خلفاء(علماء لیڈرز)ہونگے اور بہت ہونگے..(بخاری حدیث نمبر3455)

.

ان دو حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم و فداہ روحی و جسدی و ما-لی حکم دے رہے ہیں کہ حسب طاقت دین کو تخت و حکومت پے لاؤ، پاکیزہ اسلامی سیاست اپناؤ…عوام کے دینی دنیاوی معاشی معاشرتی سیاسی وغیرہ مفاد و معاملات بھلائی و ترقی و اصلاح کے لیے دین کا استعمال ، دینی نعرے کا استعمال، برحق دینی علماء ورکرز کے لیے دین و دینی نعرے کا استعمال بھی ان حدیثوں سے واضح ثابت ہو رہا ہے……یہ حکم تاقیامت ہر امتی کو ہے

تو

ہم سرکار کل عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم و ارشاد پر لبیک کا نعرہ لگاتے ہیں اور عدالت میں جانے اور مجبورا احتجاج و دھرنے کے ذریعے بھرپور کوشش میں مگن ہیں کہ دین سیاست.و.اقتدار میں مکمل آجائے، چھا جائے اور بھر پور کوشش ہے کہ دین کی خاطر جو قید ہیں انہیں دین کے نام و نعرے پے ریہا کرایا جائے

.

پاکیزہ سیاست انبیاء کرام کی سنت ہے یہ کوئی بری چیز نہیں اس لیے دین کے لیے دینداروں کے لیے دینی نعرے کےلیے لگانا برحق ہے…دین کے نام پےدین کےلیے ووٹ لینا الیکشن لڑنا برحق و حسب طاقت لازم ہے…مانا کہ اس وقت مکمل اسلامی سیاست نہیں مگر ہم اہلسنت اس بری سیاست میں گھس کر اسے اسلامی سیاست بنانے کے منصوبے پے عمل پیرا ہیں…اس بری سیاست سے جتنا دور ہونگے اتنی ہی یہ سیاست بری ہوتی جائے گی اور مضبوط ہوتی جاءے گی….اس ناسور کا اس دور میں علاج یہی لگتا ہے کہ اس سیاست میں گھس کر اسے پاکیزہ بنایا جائے اگرچہ اس میں وقت لگ سکتا ہے مگر ہمارے پاس کوئی اور نعم البدل حسب طاقت کوئی اور چارہ بھی تو نہیں…….!!

.

قائدین سے مقدمات ہٹانے اور تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے معاہدے پورے کرانے اور گرفتاری شدہ قائدین چھڑانے یا گفتاری سے بچانے کیلیے نکلنا دراصل تحفظ ناموسِ رسالت ، تحفظ ختم نبوت کے لیے نکلنا ہے

کیونکہ

قائدین پر جو الزامات مقدمات ہین وہ انکے کسی ذاتی جرم کی وجہ سے نہین ہیں بلکہ انہوں نے ناموسِ رسالت اور ختم نبوت کے لیے حکومت سے پنگا لیا ہوا ہے….ان کے اپنے کوءئ ذاتی مفاد نہیں….ایسا نہین کہ انہوں نے چوری ڈاکہ وغیرہ کوئی ذاتی جرم کیا ہو….نہین نہیں ایسا ہر گز نہیں بلکہ انکا ہر قدم خالصتا اسلام کے لیے ہے، ناموسِ رسالت کے لیے ہے…

.

ایسے جرات مند بہادر ہیروز پر ناحق مقدمے لگا کر انہین اسلامی خدمات سے روکنے کی سازش کی جارہی ہے….عوام میں جو عشقِ رسول کا جذبہ اور غیرتِ اسلامی جگائی ان قائدین نے اسے ناکام بنانے کمزور بنانے کی سازش کی جا رہی ہے….ایسے برحق سچے اسلامی قائدین کے لیے نکلنا دراصل اسلام و حق کے لیے نکلنا ہے

.

حدیث پاک میں ہے کہ:

إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد، ولكن يقبض العلم بقبض العلماء، حتى إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رءوسا جهالا، فسئلوا فأفتوا بغير علم، فضلوا وأضلوا

ترجمہ:

بے شک اللہ علم ایسے ختم نہیں کرے گا کہ بندوں کے دل و دماغ سے علم اٹھالے، بلکہ علم ایسے اٹھتا جائے گا کہ(برحق سچے)علماء ختم ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ عالم نا ملے گا تو لوگ شرعی علم سے جاہل کو اپنا سردار بنا لین گے، ان سے سوال کرین گے اور وہ بغیر علمِ شرعی کے جواب دین گے پس خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے

(بخاری حدیث100)

.

دیکھا آپ نے علم کا خاتمہ علماء کے خاتمے سے ہوتا ہے اسی طرح حق کا خاتمہ اس طرح ہوتا ہے کہ پہلے حق بولنے والوں کو ختم کیا جاتا ہے…..رضوی صاحب اور دیگر قائدین پر الزام تراشیاں کرکے انہین بدنام کرکے ان پر ناحق مقدمات لگا کر حق بولنے والوں کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

.

خدارا اپنے چھوٹے موٹے اختلافات سائیڈ پر رکھ کر حسبٍ طاقت حق بولنے والے علماء قائدین ورکرز کے حق مین نکلیے بولیے لکھیے….یہ حق و دین اسلام کے لیےکردار کہلائے گا، ذاتیات کے لیے نہیں……!!

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

whats App nmbr

00923468392475

03468392475

other nmbr

03062524574