عنوان: ٹی ایل پی اور حکومت کا صلح نامہ 

 

تحریر: پروفیسر مسعود اختر ہزاروی 

 

اشاعت: روزنامہ اوصاف کے تمام ایڈیشنز کے ادارتی صفحہ نمبر ایک پر

 

 

پچھلے کچھ ہفتوں سے تحریک لبیک پاکستان کے ناموس رسالت مارچ اور حکومتی رکاوٹوں کے نتیجے میں ملک بھر میں انتہائی تشویش ناک صورت حال رہی۔ ہر محب وطن پاکستانی اس صورت حال سے پریشان تھا۔ اس کا پس منظر کچھ یوں تھا کہ فرانس کی حکومت نے سرکاری سطح پر ہمارے پیارے نبی آقائے نامدار محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گستاخانہ خاکے بنا کر انہیں سرکاری عمارتوں اور چوراہوں میں آویزاں کر دیا۔ اس بیہودہ حرکت پر دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ تحریک لبیک پاکستان کے امیر علامہ حافظ خادم حسین رضوی رح نے بھی احتجاجی جلوس نکالا اور دھرنا دیا۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ فرانس نے چونکہ سرکاری سطح پر اس بیہودگی کا ارتکاب کیا ہے لھذا اسلامی جمہوریہ پاکستان جو واحد اسلامی نیوکلیئر پاور ہے اسے بھی سرکاری سطح پر فرانس کو جواب دینا چاہیے۔ ان کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے تاکہ ان گستاخان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک یہ پیغام پہنچے کہ ہمارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر اپنے آقا کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزت و ناموس کی حفاظت ہے۔ اس دھرنے کے نتیجے میں مذاکرات ہوئے اور حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوا۔ گفت و شنید کے بعد اس کی ایک شق یہ طے ہوئی کہ حکومت فرانسیسی سفیر کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر جائے گی۔ معزز ممبران پارلیمنٹ اس کے تمام پہلوؤں پر غور و حوض کریں گے۔ اگر اکثریت نے اس قرارداد کو پاس کر دیا تو ہم فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کردیں گے۔ اگر پارلیمنٹ ملک کے موجودہ معروضی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قرارداد کو پاس نہ کرے تو پھر ہم سفیر کو نہیں نکالیں گے۔ ٹی ایل پی نے اس پر اتفاق کیا کہ جو بھی پارلیمان کا فیصلہ ہوگا اسے ہم تسلیم کریں گے۔۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت وعدہ پورا کرتے ہوئے اس قرارداد پر بحث کروا کے فرض منصبی سے عہدہ برآ ہوجاتی۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ بعد ازاں ایک عام ممبر نے ایک دن ایک ادھوری قرارداد پیش کی جبکہ وعدہ حکومتی سطح پر قرارداد پیش کرنے کا تھا۔ پھر اسے بھی داخل دفتر کر کے اس سارے معاملے پر چب سادھ لی گئی۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس معاہدے کے چند دن بعد علامہ حافظ خادم حسین رضوی رح کا انتقال ہوگیا۔ بعد میں بھی ٹی ایل پی شوری اراکین حکومت کو یاد دہانی کراتے رہے لیکن اس کے باوجود اس معاہدہ پر عمل درآمد کیلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ایک دن اچانک خبر آئی کہ پولیس نے تحریک لبیک پاکستان کے امیر حافظ سعد رضوی کو سڑک پر جاتے ہوئے گاڑی سے اتار کر گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتاری کے بعد کیسز بنائے گئے۔ یہ بھی ملک میں انتشار پھیلانے کا کچھ بے تدبیر لوگوں کا ایک ایجنڈا تھا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کا رد عمل کیا ہوگا۔ اس پر بھی پر امن احتجاج کے ساتھ ساتھ تحریک لبیک پاکستان نے حافظ سعد رضوی کی رہائی کیلئے قانونی راستہ اختیار کیا۔ انہیں عدالتوں سے ریلیف ملا۔ لوئر کورٹس سے لے کر سپریم کورٹ تک نے حافظ سعد رضوی کی رہائی کے احکامات جاری کیے لیکن حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اس سب کے باوجود سعد رضوی کی رہائی عمل میں نہ آسکی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں ملک بھر سے تحریک لبیک پاکستان کے راہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں ناموس رسالت کیلئے آواز بلند کرنے کے جرم میں جیلوں میں اذیتیں اور تکلیفیں دی گئیں۔ بالآخر تحریک لبیک پاکستان کی مجلس شوری نے ان زیادتیوں اور کئی مرتبہ باضابطہ معاہدہے کر کے عہد توڑنے کے خلاف مسجد رحمة للعالمین لاہور سے اسلام آباد تک ناموس رسالت مارچ اور دھرنے کی کال دے دی۔ حکومتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے پولیس نے اس مارچ پر حسب معمول شیلنگ کی، آنسو گیس کے ساتھ ساتھ مظاہرین پر سیدھی گولیاں بھی چلائیں۔ رد عمل کے طور پر مظاہرین نے بھی پولیس پر حملے کیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں طرف سےکئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں جس کا ہر محب پاکستانی کو دلی دکھ ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس معاملے کی حراست کو سمجھ کر اس کے حل کی طرف توجہ دی جاتی لیکن بد قسمتی سے اس دوران حکومتی وزیر بے تدبیر جلتی پر تیل کا کام کرتے رہے۔ پریس کانفرنسز میں بے بنیاد الزامات لگا کر ٹی ایل پی کو انڈین فنڈڈ اور ملک دشمن جماعت قرار دینے کی کوششیں کرتے رہے۔ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو اس وقت راقم مدینہ منورہ میں تھا۔ اس صورت حال کے تناظر میں ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب کے نام ایک وڈیو پیغام بھی سوشل میڈیا اور کچھ قریبی احباب کے ذریعے بھیجا۔  حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ حکومت بے بس ہوگئی، وزیر داخلہ نے پولیس کے بعد فوج اور عوام کو آمنے سامنے لا کر دھنگا فساد کا ایک نیا منصوبہ پیش کردیا۔ انہوں نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے پورے صوبہ پنجاب میں رینجرز تعینات کرنے کا اعلان کر دیا۔ اب صورتحال بہت پریشان کن ہوگئی۔  اس دوران کچھ معزز علماء و مشائخ کو بھی اسلام آباد بلا کر حکومتی عہدیداروں سے ملایا گیا تاکہ اس مسئلہ کے حل میں یہ اپنا کردار ادا کریں اور حکومت بھی کہ سکے کہ ہم نے معاملات سلجھانے کیلئے ہر رستہ اختیار کیا۔ بظاہر ایسے ہی لگتا تھا کہ معاملہ جتنا گھمبیر ہوچکا تھا شاید ان علماء و مشائخ کی کاوشیں بھی بار آور ثابت نہ ہو پاتیں کیونکہ اس مسئلہ کے حل کیلئے فسادی اور الزام تراش وزیروں کی زبان بندی ضروری تھی جو ان علماء و مشائخ کے بس کی بات نہ تھی۔ اس سارے منظر نامے میں مقتدر قوتیں سارا ہنگامہ آرائی دیکھ رہی تھیں اور وہ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ حکومتی وزیر بے تدبیر  ملک کو انارکی کی طرف لے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ باہمی خانہ جنگی اور قتل و غارت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس صورتحال میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  نے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن اور سیلانی ویلفیئر کے چیئرمین علامہ بشیر فاروقی صاحب کو کراچی سے راولپنڈی بلایا۔ کھانے کے بعد ان کے ساتھ میڈیا پر تصاویر شیئر کرکے ارباب اختیار کو ایک خاموش مگر پر اثر پیغام دے دیا۔ وزیر اعظم پاکستان کی مشاورت سے انہوں نے تمام حکومتی وزراء کو سائڈ لائن کر دیا جو الجھاؤ پیدا کرکے وجہ انتشار بن رہے تھے اور تین اہم حکومتی اراکین وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،  سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وزیر مملکت علی  محمد خان اور ٹی ایل پی شوری کے درمیان ایک معاہدہ کروا کے اس معاملے کو حل کر دیا۔ ہماری رائے پہلے بھی یہی تھی اور اب بھی یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان ایک محب وطن ہونے کے ساتھ ساتھ دیں اسلام سے محبت رکھنے والے ہیں۔ان کے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت ہے۔ اقوام متحدہ سے لے کر پارلیمنٹ تک ہر جگہ انہوں نے تحفظ ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے آواز بلند کی۔ لیکن انہیں اب اندازہ ہوجانا چاہیے کہ ان کے قادیانی نواز اور لبرل مشیر ملک میں انارکی اور افرا تفری پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اچھا ہوا اب وزیر اعظم نے ٹی ایل پی کے معاملے میں ان کی زبان بندی کردی۔ دیر آید درست آید۔ اب الحمد للہ ملک میں امن ہوگیا۔ الزامات تراشیاں کرنے والوں کی زبانیں گنگ ہو گئیں۔ لوگوں کیلئے رستے اور شاہراہیں کھل گئیں۔ فرانسیسی سفیر والی قرار داد اسمبلی میں پیش کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، ٹی ایل پی پر لگی پابندیاں ختم ہو رہی ہیں۔ “کالعدم” کا لفظ خود ہی کالعدم ہونے جا رہا ہے اور تحریک لبیک پاکستان پھر بحال ہو رہی ہے۔ حافظ سعد رضوی عنقریب رہا ہوجائیں گے۔ اگر یہ ہی کام جو ابھی کیا جا رہا ہے حکمت و دانش سے پہلے کردیا جاتا تو بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ جاتیں جن کا بے حد افسوس ہے۔ اپنی منصبی ذمہ داری ادا کرنے والے پولیس کے جوان ہوں یا تحریک لبیک کے کارکن ہر ایک محب وطن ہے اور ہر کی جان قیمتی ہے۔ کاش یہ سب کچھ پہلے کر لیا جاتا تو اس نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ اس سب صورت حال کو دیکھ کر حضرت جلاالدین رومی رح کا فارسی کا ایک شعر یاد آجاتاہے کہ 

 

آنچہ  دانا  کند کند ناداں

لیک بعد از خرابئ بسیار

 

ترجمہ (جو کچھ دانا پہلے ہی کر لیتا ہے نادان نے بھی بالآخر کرنا وہی ہوتا ہے لیکن بہت سی خرابیوں اور خلفشار کے بعد)