کروڑوں مالکیوں کے عظیم پیشوا امام دارلھجرہ ،امام مالک رحمہ اللہ علیہ(179ھ) مدینہ میں سوار ھوکر نہیں نکلتے تھے، اور

اسکا سبب یہ فرمایا کرتے تھے:

 

سواری کے سُم سے ایسی سر زمین کو روندنے میں جہاں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ انور ہو مجھے

شرم و حیا آتی ہے “

 

اسی طرح بچھو نے 10 بار ڈنک مارا مگر حدیث کی تعظیم

کی وجہ سے جنبش بھی نہ کی اور پڑھانا ترک نہ کیا

 

ایسے ہی تمام عمر مدینے کے حرم میں قضاء حاجت نہ کی

حالت مرض میں معزور تھے تو پھر مجبوراً جانا پڑا

 

بستان المحدثین

 

اگر یہ قائدہ مان لیا جاوے کہ جو کام یا تعظیم

شب و روز آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے

والے صحابہ کرام علھیم الرضوان نے نہ کیا وہ

تم کیوں کرتے ہو؟

 

تو امام مالک رحمہ اللہ علیہ جو کہ اجلہ تابعی ،عالم مدینہ

عاشقِ رسول ،متبوع، پیشوا،محدث، ہیں

 

ان کے متعلق کیا کہیں گے؟

 

شکر کریں کہ امام صاحب کے دور میں ” یہ ” لوگ نہ

تھے ورنہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے پر

جو ہمیں صحابہ کرام کی مثالیں پیش کرتے ہیں

 

وہی مثالیں امام مالک رحمہ اللہ علیہ کو بھی دے دیتے

 

کہ واہ جی واہ ! ایسا ادب تو صحابہ کرام نے نہ کیا

تو آپ کس دلیل سے کررہے ہیں؟؟

 

ش ۔ ب۔ کی تکرار شروع ھوجاتی یقیناً امام مالک رحمہ

اللہ علیہ ان ” لوگوں” کو مدینہ سے نکلوادیتے !!!

 

خس کم جہاں پاک !!!!!

 

جب کوئ آپ سے سوال کرے کہ آپ بڑے عاشق رسول

صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا صحابہ؟

تو

آپ بھی کہہ دیں امام مالک بڑے عاشقِ رسول تھے

یا صحابہ؟

 

دیکھیں کیا جواب آتا ہے؟

 

ابنِ حجر

 

6/11/19