أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

سو ہم نے اس بستی میں سے ان سب کو نکال لیا جو ایمان والے تھے

ایمان اور اسلام کا لغوی اور اصطلاحی معنی

الذریت : ٣٦۔ ٣٥ میں فرمایا : سو ہم نے اس بستی سے ان سب کو نکال کیا جو ایمانوالے تھے۔ تو ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا اور کوئی مسلمان گھر نہ پایا۔

یعنی جب ہم نے قوم لوط کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تو ہم نے اس بستی سے ان کی قوم میں سے ایمان والوں کو باہر نکال لیا ‘ تاکہ مؤمنین ہلاک نہ ہوں تو ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا اور کوئی مسلمان گھر نہ پایا۔ اور اس گھر میں حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی دو بیٹیاں تھیں اور اس کے علاوہ وہاں مسلمانوں کا اور کوئی گھر نہیں تھا ‘ پہلی آیت میں فرمایا ہے : ہم نے اس بستی سے ایمان والوں کو نکال لیا تھا اور دوسری آیت میں فرمایا ہے : انکے علاوہ وہاں مسلمانوں کا اور کوئی گھر نہ تھا ‘ ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ اسلام اور ایمان واحد ہیں۔ اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور اسلام متغایر ہیں ‘ وہ آیت یہ ہے :

قالت الاعراب امنا ط قل لم تؤمنوا ولکن قولوآ اسلمنا۔ (الحجرات : ١٤) اعراب نے کہا : ہم ایمان لے آئے ‘ آپ کہیے : تم ایمان نہیں لائے لیکن یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمان اور اسلام میں تغایر ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ایمان کا اصًطلاحی معنی مراد ہے اور وہ یہ ہے : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے پاس سے جو خبریں اور جو احکام لے کر آئے اور جو اللہ کا کلام لے کر آئے اس کی تصدیق کرنا اور اس کو ماننا اور قبول کرنا اور یہی اسلام کا بھی اصطلاحی معنی ہے ‘ لیکن الحجرات : ١٤ میں اسلام کا اصطلاحی معنی مراد نہیں ہے بلکہ اس کا لغوی معنی مراد ہے اور وہ اطاعت ظاہرہ ہے ‘ یعنی اے منافقو ! تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق نہیں کی بلکہ تم نے ان کی ظاہر اً اطاعت کی ہے اور زیر تفسیر آیت الذریت : ٣٥۔ ٣٦ میں ایمان اور اسلام کا اصطلاحی معنی مراد ہے اور وہ دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 35