أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ابراہیم نے کہا : تو اے رسولو ! تمہارا کیا مقصد ہے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ابراہیم نے کہا : تو اے رسولو ! تمہارا کیا مقصد ہے ؟۔ فرشتوں نے کہا : بیشک ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ تاکہ ہم ان پر مٹی کیپتھر برسائیں۔ جو آپ کے رب کے نزدیک حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان زدہ ہیں۔ سو ہم نے اس بستی میں سے ان سب کو نکال لیا جو ایمان والے تھے۔ تو ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا اور کوئی مسلمان گھرنہ پایا۔ اور ہم نے اس بستی میں درد ناک عذاب سے ڈرنے والوں کے لیے ایک نشانی باقی رکھی۔ (الذریت : ٣٧۔ ٣١)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا فرشتوں سے مکالمہ

ابتداء میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان فشتوں کو اجنبی شکل و صورت میں دیکھ کر گھبرا گئے تھے ‘ پھر جب ان سے گفتگو ہوئی اور انہوں نے آپ کی گھبراہٹ دور کرنے کے لیے کہ کہ آپ کو ہم سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور حضرت ابراہیم کو خوش کرنے کے لیے ان کو ایک علم والے بیٹے کی بشارت دی تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان فرشتوں سے پوچھا کہ اے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو ! تمہارا یہاں آنے کا کیا مقصد ہے ؟

ایک سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ مہمان اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سورة ھود میں جو اللہ تعالیٰ نے اس قصہ کو بیان فرمایا ہے اس میں یہ ارشاد ہے کہ فرشتوں نے بتایا :

انآ ارسلنآ الی قوم لوط۔ (ھود : ٧٠) ہمیں قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے۔

اور یہاں پر اس آیت کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ یہ قصہ پوری بسط اور تفصیل کے ساتھ سورة ھود میں ذکر کیا جا چکا ہے۔ول کرتے ہیں اور وہی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 31