أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَفِىۡ مُوۡسٰۤی اِذۡ اَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ ۞

ترجمہ:

اور موسیٰ (کے واقعہ) میں (ہماری نشانیاں ہیں) جب ہم نے ان کو واضح دلیل کے ساتھ فرعون کی طرف بھیجا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور موسیٰ ( کے واقعہ) میں (ہماری نشانیاں ہیں) جب ہم نے ان کو واضح دلیل کے ساتھ فرعون کی طرف بھیجا۔ تو اس نے اپنی قوت کے بل بوتے پر منہ موڑا اور کہا : یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے۔ پس ہم نے اس کو اور اس کے پورے لشکر کو پکڑ لیا پھر ہم نے ان سب کو سمندر میں پھینک دیا اس وقت وہ خود کو ملامت کررہا تھا۔ (الذریت : ٤٠ : ٣٧)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جن واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اس سے مراد ان کا عصا اور ید بیضاء ہے اور ان کے دیگر معجزات میں ” رکن “ کا معنی لشکر اور قبیلہ ہے یا وہ قوت جس کی وجہ سے انسان اپنے مقابل سے مزاحمت کرسکے۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 38