ایک مرفوع روایت : وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا کہ جب (امام) قراءت کرے تو (مقتدی) خاموش ہو جائے

 

یہ روایت دو اصحاب رسولﷺ حضرت ابو ھریرہ ؓ اور حضرت ابو موسی الاشعریؓ سے روایت ہے

 

اس پر ہم کو جو کچھ اعتراض ملے ہم انکا جواب دلائل کے ساتھ عرض کرینگے!

 

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَخْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» قَالَ لَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: لَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا تَابَعَ ابْنَ عَجْلَانَ، عَلَى قَوْلِهِ: وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا

 

حضرت ابو ھریرہ فرماتے ہیں : کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا ، امام تو بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اسکی اقتداء کی جائے، جب وہ تکبیر کہےتم بھی تکبیر کہو ، جب وہ قرآن پڑھے تم خاموش ہو جاو جب وہ غیر المغضوب علیہم ولاالضالین پڑھے تو تم آمین کہو ، جب وہ رکوع کرے تم بھی رکوع کرو ۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تم ربنا لک الحمدکہو

 

[السنن الکبری ، النسائی برقم: 996]

 

امام نسائی کہتے ہیں کہ ابن عجلان کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا یہ الفاظ کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم(مقتدی )خاموش رہو

 

اب یہ اعتراض وارد ہوگا کہ کہ کیا امام نسائی نے یہ زیادتی بیان کر کے قبول کیا ہے یا نہیں ؟

 

تو اسکا جواب ہے بالکل امام نسائی نے ان الفاظ کی زیادتی کو قبول کیا ہے اسکی دلیل یہ ہے کہ امام نسائی نے المجتبیٰ جو کہ سنن کبری کے بعد لکھی اور اس میں انہوں نے ٖفقط صحیح احادیث کا التزام کیا ہے اور اس کتاب میں اس روایت کو درج کیا ہے جو ثابت ہوتا ہے کہ امام نسائی کے نزدیک یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ ٹھیک ہے

 

نیز امام نسائی نے اس کی زیادتی پر بھی کوئی کلام نہیں کیا

 

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا» قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: كَانَ الْمُخَرِّمِيُّ يَقُولُ: هُوَ ثِقَةٌ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ

 

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام تو بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب قرآت کرے تو تم خاموش رہواور جب سمع اللہ لمن حمده کہے تو تم اللہم ربنا لك الحمد کہ

 

[حكم الألباني] حسن صحيح

 

[المجتبى من السنن = السنن الصغرى للنسائي]

 

اور البانی صاحب نے بھی اس روایت کو اضافی الفاظ کے ساتھ تسلیم کیا ہے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

دوسرا عتراض یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امام ابو داود نے اس اضافے کو راوی کا وھم قرار دیا ہے لیکن پہلے امام ابی داود کی عبارت یہاں لکھتے ہیں پھر معلوم ہوگا کہ یہ جرح کرنے میں خود امام ابو داود کو وھم ہوا ہے نہ کہ راوی کو

 

حدَّثنا محمّد بن آدم المِصّيصىّ، حدَّثنا أبو خالدٍ، عن ابن عَجلان، عن زيد بن أسلَمَ، عن أبي صالح عن أبي هريرة، عن النبيِّ – صلى الله عليه وسلم – قال: “إنَّما جُعِلَ الإمامُ ليُؤتَمَّ به” بهذا الخبر، زاد: “وإذا قرأ فإنصِتُوا” (2).

 

(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي

 

[سنن ابی داود برقم: 604 ، محقق شیخ شعیب الارنووط]

 

اسکے بعد امام ابی داود فرماتے ہیں:

 

قال أبو داود: وهذه الزيادة: “وإذا قرأ فأنصِتُوا” ليست بمحفوظة الوهم عندنا من أبي خالد.

 

امام ابو داود کہتے ہیں کہ اس میں جو زیادتی ہے کہ جب (امام)قرات کرے تو خاموش ہو جائے ۔۔ یہ محفوظ نہیں ہے اور یہ وہم ہے ابی خالد میں سے

 

جبکہ امام نسائی نے تصریح کی ہے کہ اس کو سوائے ابن عجلان کے کوئی روایت نہیں کرتا جبکہ امام ابی داود یہ اضافہ ابی خالدپر ڈال دیا جو کہ اما م ابو داود کی خطاء ہےتو یہ جرح ہی مبھم ثابت ہو گئی

 

اسکے بعد ایک اعتراض اس روایت پر امام بیھقی نے ان روایت کو نقل کرنے بعد بیان کرتے ہیں پہلے انکے الفاظ نقل کرتے ہیں

 

وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ، فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا»

 

وَقَدْ أَجْمَعَ الْحُفَّاظُ عَلَى خَطَأِ هَذِهِ اللَّفْظَةِ فِي الْحَدِيثِ، وَأَنَّهَا لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ: يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَأَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، وَأَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، وَعَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

 

امام بیھقی لکھتےہیں حضرت ابو ھریرہ اور حضرت ابو موسیٰ الاشعری کی روایت کہ اس مین جو الفاظ کا اضافہ ہے اس پر حفاظ الحدیث کا اجماع ہے کہ یہ راوی کی خطا ہے ان میں امام یحییٰ بن معین ، ابو داود، ابو حاتم ، ابو علی ، علی بن عمر ، اور حاکم شامل ہیں

 

[معرفة السنن والآثار برقم: 3744]

 

لیکن اس اضافے کو قبول کرنے والوں کے نام لکھنے سے امام بیھقی نے نہیں لکھاہم اوپر اس اضافے کو قبول کرنے والوں میں سے امام نسائی کا ثبوت دے چکے ہیں اور امام نسائی کےبارے امام ذھبی کہتے ہیں وہ امام مسلم کے درجے کے حفاظ الحدیث اور علل کے امام تھےاب ہم ثبوت پیش کرتے ہیں ان اضافی الفاظوں کو امام مسلم جنکا مرتبہ حدیث میں مسلمہ ہے وہ بھی اس زیادتی کو قبول کرتے ہیں

 

چناچہ صحیح مسلم میں فرماتے ہیں :

 

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَتَادَةَ مِنَ الزِّيَادَةِ» وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ” وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ فَإِنَّ اللهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» إِلَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ، وَحْدَهُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: قَالَ أَبُو بَكْرِ: ابْنُ أُخْتِ أَبِي النَّضْرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. فَقَالَ مُسْلِمٌ: تُرِيدُ أَحْفَظَ مِنْ سُلَيْمَانَ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: فَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ فَقَالَ: هُوَ صَحِيحٌ يَعْنِي وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا فَقَالَ: هُوَ عِنْدِي صَحِيحٌ فَقَالَ: لِمَ لِمَ تَضَعْهُ هَا هُنَا؟ قَالَ: لَيْسَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدِي صَحِيحٍ وَضَعْتُهُ هَا هُنَا إِنَّمَا وَضَعْتُ هَا هُنَا مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ

 

سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری روایت بھی اس اسناد کے ساتھ کی ہے۔ علاہ ازیں جریر نے سلیمان کے ذریعہ قتادہ رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث بیان کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ امام جب قرأت کرے تو مقتدی خاموش سنتے رہیں۔ ابوکامل کی روایت جو صرف ابوعوانہ کی زبانی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ فرمایا ہو۔ جو بندہ تعریف الہٰی کرتا ہے تو اللہ اس کی تعریف سنتا ہے۔ البتہ امام مسلم رحمہ اللہ کے شاگرد ابواسحٰق رحمہ اللہ نے کہا کہ ابوبکر جو ابونضر کے بھانجے ہیں وہ اس روایت کو محل گفتگو کہتے ہیں۔ امام مسلم رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ سلیمان سے زیادہ حافظ کون ہے (یعنی یہ روایت بالکل صحیح ہے جسے سلیمان نے بیان کیا ہے کہ امام جب قرأت کرے تو مقتدی کو خاموش سنتے رہنا چاہیئے)۔ ابوبکر کی دریافت پر امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث بالکل صحیح ہے کہ امام کی قرأت پر مقتدی خاموش سنتا رہے۔ پھر امام مسلم رحمہ اللہ نے دریافت پر جواب دیا، یہ ضروری نہیں کہ جس روایت کو میں صحیح سمجھوں، اسے اپنی کتاب میں لکھوں بلکہ میں نے اس کتاب میں وہ احادیث لکھی ہیں جو متفقہ طور پر صحیح ہیں۔

 

[صحیح مسلم برقم :۶۳]

 

اسی طرح امام ابو یعلی نے بھی اس روایت کو مختصر نقل کیا ہے جسکی سند بالکل صحیح ہے اور کسی راوی کا وھم قرا رنہیں دیا ۔

 

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ أَبِي غَلَّابٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَبَّرَ ـ يَعْنِي الْإِمَامُ ـ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا»

 

[حكم حسين سليم أسد] : إسناده صحيح

 

[مسند ابو یعلی برقم: 7326]

 

اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابو ھریرہ والی یہی روایت کے بارے میں امام ابن عبدالبر الاستذكارمیں یو ں فرماتے ہیں :

 

وَيَشْهَدُ لِهَذَا قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِمَامِ وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُواوَقَدْ ذَكَرْنَاهُ بِالْأَسَانِيدِ وَالطَّرْقِ فِي التَّمْهِيدِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَقَدْ صَحَّحَ هَذَا اللَّفْظَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ

 

کہ میں نے تمہید میں ابو ھریرہ اور ابو موسیٰ کی روایت کی اسانید ذکر کر دی ہیں اور ان لفظوں کو امام احمد نے صحیح قرار دیا ہے

 

[الاستذكار، ص ۴۶۶]

 

اسی طرح البانی صاحب بھی اس روایت کی تصحیح کا دعوے دار ہے

 

وہ لکھتے ہیں :

 

وعنه عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال:

 

” إنما جعل الإمام ليؤتَمَّ به … ” بهذ االخبر؛ وزاد:! وإذا قرأ فأنصتوا “.

 

قلت: حديث صحيح، وكذا قال ابن حزم، وصححه أيضا مسلم في ”صحيحه “، ولم يخرجه، وأحمد وابن خزيمة. ويأتي شاهده من حديث أبي

 

موسى (رقم 893 و 894))

 

میں کہتا ہوں یہ حدیث صحیح ہے ابن حزم ، اور امام مسلم نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے اپنی صحیح میں اور امام احمد ، اور ابن خزیمہ نے بھی اور اسکی شاہد حدیث ابو موسیٰ کی ہے

 

[البانی617 ]

 

نیز ابن عجلان ثقہ متفقہ علیہ ہے اور اسکا اضافہ قبول ہوگا .

 

اس اضافے کو قبول اما م مسلم ، امام نسائی ، امام ابو یعلی ، علامہ ابن حزم ، امام عینی ، امام طحاوی نے بھی یہی نقل کیا ہے اور امام ابن عبدالبر ، امام احمد بن حنبل ، اور البانی صاحب کا موقف بھی یہی ہے کہ یہ روایت صحیح ہے

 

اور علامہ شعیب الارنووط ، اور انکے حوالے سے امام ابن حجر نے بھی ان الفاظ کو قبول کیا ہے

 

 

 

دعاگو:اسد الطحاوی

مزید تحاریر کے لیے وزٹ کریں Asadtahawi.com