*بخاری شریف اور “بہجۃ الاسرار” کی استنادی حیثیت سے متعلق ایک خلجان کا ازالہ*

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 

حضور غوث اعظم سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی سیرت مبارکہ پر مشتمل اہم اور مستند کتاب : “بہجۃ الاسرار ” کے بارے میں تفصیلی بحث ذکر کرنے کے بعد اعلی حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :

 

الحمدللہ ان عباراتِ ائمہ و اکابر سے واضح ہوا کہ امام ابو الحسن علی نورالدین مصنف کتاب مستطاب “بہجة الاسرار” امام اجل امام یکتا محقق بارع فقیہ شیخ القراء منجملہ مشاہیر مشائخ علماء ہیں، اور یہ کتاب مستطاب معتبر و متعمد کہ اکابر ائمہ نے اس سے استناد کیا اور کتب حدیث کی طرح اس کی اجازتیں دیں۔ *کتب مناقب سرکار غوثیت میں باعتبارِ علوِ اسانید اس کا وہ مرتبہ ہے؛ جو کتب حدیث میں موطائے امام مالک کا۔ اور کتب مناقب اولیاء میں باعتبارِ صحتِ اسانید اس کا وہ مرتبہ ہے جو کتب حدیث میں صحیح بخاری کا، بلکہ صحاح میں بعض شاذ بھی ہوتی ہیں اور اس میں کوئی حدیث شاذبھی نہیں، امام بخاری نے صرف “صحت” کا التزام کیا۔ اور ان امام جلیل نے صحت و عدم شذوذ دونوں کا،* اور بشہادتِ علامہ عمر حلبی وہ التزام تام ہوا کہ اس کی ہر حدیث کے لئے متعدد متابع موجود ہیں۔ والحمدللہ رب العالمین۔ (فتاوی رضویہ جلد 28 377، سرچ اپلیکیشن)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 

ـــــــ اعلی حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمہ کی اس عبارت میں مجھے یہ سمجھنا تھا کہ :

آیا بخاری شریف کی روایات میں “صحت” اس معنی میں ہے جو سیدی امام اہل سنت علیہ الرحمہ نے ذکر فرمایا ہے۔ یعنی: اتصال اور رجال سند کی ثقاہت؟ کیا بخاری شریف کی روایات میں شذوذ بھی ہیں؟

یعنی امام بخاری علیہ الرحمہ نے صحیح کی تعریف میں سے صرف تین چیزوں ــ اتصال سند، ضبط اور عدالت راوی _ پر اکتفاء فرمایا ہے۔ آخری دو شرائط _ علل و شذوذ _ کا خیال نہیں رکھا ہے؟ جیساکہ اصولیین کا طرز عمل ہے۔ یا پھر محدثین کی روش کے مطابق پانچوں شرائط کا لحاظ فرمایا ہے؟

یعنی : بخاری شریف کا “اصح الکتب” کے درجے پر فائز ہونا بطرز محدثین ہے یا بطرز اصولین؟

یہ سوال یہاں اس لیے پیدا ہوا کہ مذکورہ عبارت میں اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی نے امام بخاری علیہ الرحمہ سے شذوذ کی نفی کی ہے اور صاحب بھجہ کے لیے اس کا اثبات فرمایا ہے ۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــ اس پر حضرت مولانا اسلم نبیل ازہری (انڈیا ) کی طرف سے جواب ملا کہ :

 

یہاں شاید امام اہلسنت اعلی حضرت علیہ الرحمۃ کی مراد یہ ہے :

امام بخاری نے اپنی صحیح میں صحت اصطلاحی کا التزام کیا ؛ جس میں عدم شذوذ بھی داخل ہے، لیکن امام بخاری بعض احادیث میں عدم شذوذ کی شرط نبھا نہ سکے؛ اسی لیے امام دارقطنی وغیرہ نے بعض احادیث کو معلول قرار دیا، اور بعض علل کو علما نے تسلیم بھی کیا۔

مذکورہ عبارت میں اعلی حضرت نے شرط نہ نبھانے کو “عدم التزام” سے تعبیر فرمایا ہے ۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ علما نے بعض احادیث میں عدم شذوذ کی شرط کو تسلیم ہی نہیں کیا ۔

جبکہ بہجۃ الاسرار کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے۔

 

هذا ما ظهر لي

# الأزهري

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 

ـــــــ میرے سوال پر حضرت علامہ نثار احمد مصباحی (انڈیا) یوں جواب رقم فرماتے ہیں :

 

امامِ اہلِ سنت کی مراد یہ ہے کہ بخاری کی بعض روایات میں شذوذ ہے اور صاحبِ بہجہ کی ان مرویاتِ مناقب میں شذوذ نہیں.

اسی کو فرمایا کہ امام شطنوفی نے (ہر ہر روایت میں) عدمِ شذوذ کا بھی لحاظ کیا ہے. اور کسی بھی روایت میں شذوذ نہیں آنے دیا. جب کہ امامِ بخاری کے اہتمامِ صحت اور شذوذ و علت سے بچانے کے باوجود بخاری کی بعض روایات کو بعد کے کچھ محدثین نے معلول و شاذ قرار دیا ہے. اور ان کی بعض تنقیدیں درست بھی ہیں, جب کہ بہجہ کی مرویات و اسانید کے معاملے میں ایسا نہیں ہے.

*واضح رہے کہ امامِ اہلِ سنت کی اس عبارت میں نہ بہجہ کا بخاری پر تفوق بتانا مقصود ہے اور نہ ان میں کوئی تقابل کرنا مقصود ہے. کیوں کہ دونوں کتابیں الگ الگ فن کی ہیں. یہاں صرف بہجہ کی ہر روایت کے درجۂ صحت پر ہونے کا اِظہار مقصود ہے*. واللہ تعالی أعلم

 

نثار مصباحی

١٠ ربيع الغوث ١٤٤٢ھ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 

سائل : وپیش کش :

ابو الحسن محمد شعیب خان

25 نومبر 2020