أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَتَوَاصَوۡا بِهٖ‌ۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

کیا انہوں نے ایک دوسرے کو اس قول کی وصیت کی تھی ؟ (نہیں) بلکہ وہ سرکش لوگ تھے

الذریت : ٥٣ میں فرمایا : کیا انہوں نے ایک دوسرے کو اس قول کی وصیت کی تھی ؟ (نہیں ! ) بلکہ وہ سرکش لوگ تھے۔

کیا پہلی امتوں نے بعد میں آنے والی امتوں کو وصیت کی تھی کہ تم بھی اپنے زمانہ کے رسولوں کو جادو گر یا دیوانہ کہنا ‘ یہ تعجب آفریں جملہ ہے ‘ اس کے بعد اس جملہ کی نفی کی ‘ نہیں ! ایسا نہیں ہوا ‘ انہوں نے ایک دوسرے کو وصیت نہیں کی ‘ بلکہ یہ تمام کفار ایک ہی سرشت کے لوگ تھے ‘ اور یہ سب کفر و شرک میں حد سے گزر گئے تھے۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 53